فروزاں

کیا پاکستان میں پانی کا بحران زراعت اور موسمیاتی تبدیلی سے حل ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں پانی کا بحران ناقص منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی سے بڑھا، جسے مؤثر آبی نظم، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور پانی کے تحفظ سے حل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان قدرتی مناظر اور وسائل سے بھرپور ملک ہے، مگر موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی بگاڑ نے اس نعمت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ آج پاکستان کو پانی کی قلت، غیر یقینی موسمی پیٹرنز، اور زرعی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے سنگین اور باہم جڑے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان مسائل کی وسعت، پانی کی کمی کی اصل وجوہات، ناکافی انفرااسٹرکچر اور موسمیاتی خطرات کی پیچیدگیاں اکثر عوامی شعور تک درست اور مکمل طور پر نہیں پہنچ پاتیں۔

نتیجتاً، مسئلے کی سنگینی کا ادراک بھی محدود رہتا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں واٹر ریسورس اکاؤنٹیبلٹی پروگرام (رَیپ)کے تحت پانی کے مؤثر، ذمہ دارانہ اور جدید استعمال کو فروغ دینے کی کاوشیں ایک امید افزا پیش رفت ہیں۔

اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں بلکہ جدید آبی و زرعی ٹیکنیکس کو اپنانے سے زمین پر جاری منصوبے مقامی کمیونٹیز کی روزمرہ زندگی کو آسان بنا رہے ہیں اور انہیں موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط کر رہے ہیں۔

مانسہرہ میں پہاڑوں پر مقیم افراد کی مشکلات

خیبر پختونخواہ میں واقع مانسہرہ کا خوبصورت گاؤں اچھڑیاں قدرتی مناظر کے ساتھ وسائل سے بھی مالا مال ہے ۔

یہ پہاڑی علاقہ 80 فیصد نہری نظام پرمشتمل ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی نہ اپنائی جائے تو زندگی مشکلات میں ہی گہری رہتی ہے۔

اس گاؤں سے گزرنے والا دریا سیرن جو انسانی ضروریات اور مال مویشیوں کے ساتھ کاشتکاری کا بھی زریعہ ہے،لیکن مقامی لوگوں کے لیے روز مرہ کے استمال کا پانی پہاڑوں پر بہتے دریا سے ڈبوں اور ڈرم میں بھر کر لے جانا ایک انتہائی مشکل عمل ہوتا ہے جس سے خواتین اور بچے خصوصی طور پر حاملہ خواتین شدید متاثر ہوتی ہیں۔

ہائیڈرولک ریم پمپ: ایک کامیاب پروگرام

ہائیڈرولک ریم پمپ کے حوالے سے انجینیئرمحمد مبشرنے بتایا کہ انٹر نیشنل واٹر مینجمنٹ پائلٹ پروگرام کے ذریعے اس مسئلے کو کامیابی سے حل کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مانسہرہ کے سیرن دریا پر تین نہریں ہیں،سیرن ویلی میں شنکیاری کے اطراف موجود گاؤں کے مقامی رہائشیوں کے لئے اس پائلٹ پروگرام کے ذریعے دریا کے پانی میں پمپ لگا کر پہاڑوں پر پائپ کے زریعے ایک دن میں 15 ہزار لیٹر پانی مقامی افراد کے استعمال کے لئے پہنچت حاصل کیا جاتا ہے اور اس عمل میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس عمل کے دوران سولر اور بجلی کا استمال نہیں ہوتا صرف دو والو پر اسی پانی سے پمپ چلا یا جاتا ہے۔

مقامی رہائشیوں کی مشکلات کم ہونے لگیں

گاؤں کے رہائشی پانی کی فراہمی کی یہ سہولت ملنے پر خوشی سے نہال ہیں۔

ایک 80 سالہ بزرگ کا کہنا ہے ہمارے گھر کی خواتین کے لئے اب آسانی ہوگئی ہے ورنہ تو وہ سیرن دریا سے پانی بھرتی تھیں اور دریا پر ہی کپڑے اور برتن دھوتی تھیں، اب اس پمپ سے زندگی آسان ہوگئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور ناقص منصوبہ بندی نے پاکستان میں پانی کا بحران سنگین بنا دیا ہے۔

اس پمپ کی تنصیب نے حاملہ خواتین کی زندگی آسان بنادی۔پانی کی مشقت ختم ہوئی اور کچن گارڈننگ بھی آسان ہو گئی۔

اس حوالے سے 35سالہ افشاں کا کہنا ہے کہ دریا سے پانی حاصل کرنا بڑا مشکل کام تھا، یہ اس وقت اور بھی مشکل ہو گیا جب میں حمل سے ہوئی تو میرے لئے ڈبوں اور ڈرم میں پانی بھر کر پہاڑوں پر اپنے گھر لے کر جانا بہت اذیت ناک تھا۔

اسی وجہ سے گاؤں کی کئی خواتین دوران زچگی پیچیدگیاں بھی برداشت کرتی رہیں۔

یہاں کوئی اسپتال بھی قریب نہیں اور اچھے علاج کے لیے ایبٹ آباد جانا پڑتا۔

اس پمپ کی تنصیب کے بعد سے میری زندگی آسان ہوگئی ہے،اور اب میں گھر کے ساتھ زمین پر سبزیوں کی کاشت بھی کرلیتی ہوں اب سب کچھ پہلے کے مقابلے میں بہت آسان لگتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور ناقص منصوبہ بندی نے پاکستان میں پانی کا بحران سنگین بنا دیا ہے۔

پاکستان کے لیے آبی وسائل کے چیلنجز

ڈاکٹر محمد اشرف، کنٹری ریپریزنٹیٹو (پاکستان)، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی) نے پاکستان کے آبی وسائل اور اہم شعبہ جاتی چیلنجز کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ

پاکستان دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظام کا حامل ہے، جس میں تین بڑے آبی ذخائر، 45 مرکزی نہریں اور تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ ہیکٹر پر مشتمل کمانڈ ایریا شامل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ زیرِ زمین پانی، جو دنیا میں چوتھا بڑا میٹھے پانی کا ذخیرہ ہے، گھریلو پانی کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد، صنعتی ضروریات کا 100 فیصد اور زرعی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد پورا کرتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں سالانہ بارش کی مقدار میں نمایاں فرق ہے، جو 200 سے 1000 ملی میٹر تک ہے، جبکہ تقریباً 40 فیصد زیرِ کاشت زمین بارانی زراعت پر انحصار کرتی ہے۔

ڈاکٹر اشرف نے آبی شعبے کو درپیش بڑے ترقیاتی چیلنجز پر روشنی ڈالی، جن میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، بار بار آنے والے سیلابی پانی کا ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت، اور آبی ذخائر میں سالانہ تقریباً 20 لاکھ ایکڑ فٹ مٹی بھر جانے (سیڈیمنٹیشن) کا مسئلہ شامل ہے۔

انہوں نے پہاڑی ندی نالوں کی غیر استعمال شدہ صلاحیت کی بھی نشاندہی کی، جس کا تخمینہ تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ فٹ لگایا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر پانی کے استعمال کی کارکردگی 40 فیصد سے بھی کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت کی آلودہ فضا: بچوں کے لیے سانس لینا مشکل

پاکستان اور برطانیہ کا گرین کمپیکٹ: 35 ملین پاؤنڈ کا معاہدہ

پانی کے حوالے سے مزید مسائل میں زیرِ زمین پانی کی کمی اور اس کا معیار خراب ہونا، تقریباً 1 کروڑ ایکڑ فٹ نکاسی آب کے گندے پانی کا اخراج، اور گندے پانی کے استعمال و نکاس سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجز شامل ہیں۔

جدید آبی نظام پاکستان میں پانی کے بحران کے حل کی امید بن رہے ہیں۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر ہے اس سے نمٹنے کیلئے پانی کا بہتر طریقے سے استعمال اور اس کو محفوظ بنانے کے لئے سرکاری سطح پر ایسے کامیاب منصوبوں کے پائلٹ پروگرام کو مزید وسیع پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے،تب ہی بڑہے کا پاکستان۔

admin

Recent Posts

ٹرافی ہنٹنگ سیزن: ہمالیائی آئی بیکس شکار ہوگیا

محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…

15 hours ago

سندھ طاس معاہدہ، پاکستان اور پانی کا بحران

سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…

2 days ago

پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی رپورٹ کا سنگین انتباہ

پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…

3 days ago

کراچی میں سردی کی شدت برقرار، درجہ حرارت 9 ڈگری تک گر گیا

کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…

3 days ago

ایمازون کی مچھلی پاکستان تک کیسے پہنچی؟

ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…

4 days ago

فوسل فیول اخراج کنندگان: جب فصلیں ڈوبیں اور منافع محفوظ رہا

پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…

5 days ago

This website uses cookies.