خصوصی تجزیاتی رپورٹ
ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کی جار کردہ تازہ ترین رپورٹ آؤٹ لُک 2025 ( اے ڈبلیو ڈی او-2025)، پاکستان میں پانی کے بحران کیحوالے سے نہایت تشویشناکصورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نہ صرف خطے میں پانی کی شدید قلت سے دوچار ممالک میں شامل ہے بلکہ اس کا شمار ان چند ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں پانی کی سلامتی (واٹر سیکیورٹی) میں تیزی سے گراوٹ آ رہی ہے۔
اگرپانی کے حوالے سے فوری اور ٹھوس فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ بحران معاشی، ماحولیاتی اور سماجی تباہی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1970 کی دہائی میں فی کس پانی کی دستیابی تقریباً 3,500 مکعب میٹر تھی، جو مسلسل کمی کے بعد اب 1,100 مکعب میٹر کے قریب رہ گئی ہے۔
یہ سطح عالمی معیار کے مطابق’’واٹر اسٹریس‘‘کے زمرے میں آتی ہے، جواس امر کو ظاہر کرتی ہے کہ ملک شدید پانی کی قلت کے دہانے پر ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق ایسے حالات میں زرعی ترقی، صنعتی پیداوار اور شہری ضروریات پورا کرنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایشین ڈوپلمینٹ بینک کی رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں۔
جب کہ زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال، صفائی کا ناقص انتظام، صنعتی فضلے کا براہِ راست آبی نالیوں میں اخراج اور پانی کے ذخائر کی کمی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
بعض خطوں میں زیرِ زمین پانی میں آرسینک اور دیگر آلودگی بڑھنے کے باعث لوگوں کی صحت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ 2018 کی نیشنل واٹر پالیسی پاکستان کا اہم اقدام تھا۔ اسی طرح انٹری گریٹید واٹر ریسورسیز منیجمنٹ(آئی ڈبلیو آر ایم) کا اپنانا بھی مثبت پیش رفت ہے۔
تاہم اے ڈی بی کے مطابق سیاسی ہم آہنگی کی کمی، وفاق و صوبوں کے درمیان رابطے کا فقدان، پانی کے شعبے میں کمزور سرمایہ کاری، اور پالیسیوں پر عملدرآمد کی سست رفتاری بحران میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں ادارے موجود ہیں، پالیسی بھی موجود ہے، لیکن ضرورت کے مطابقِ فنڈنگ اور فیصلہ سازی کا نظام کمزور ہے۔
زرعی شعبہ پاکستان کے کل پانی کا تقریباً 90 فیصد استعمال کرتا ہے، مگر اس کے باوجود آبپاشی کا نظام فرسودہ، غیر مؤثر اور پانی ضائع کرنے والا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر پانی کے استعمال کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر پالیسی کے ذریعے منظم نہ کیا گیا تو مستقبل میں زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دریاؤں، ندیوں، جھیلوں اور زیرِ زمین آبی نظاموں پر دباؤ میں اضافہ ہوچکا ہے۔ماحولیاتی بہاؤ (انوائرمینٹل فلوز) کم ہونے سے آبی حیات کو خطرات لاحق ہیں جبکہ جنگلی حیات کے قدرتی مسکن بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیاہے کہ اگر آبی ایکوسسٹمز کا تحفظ ترجیح نہ بنا تو مستقبل میں پانی کی کوالٹی، دستیابی اور آبی تنوع دونوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اے ڈی بی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ پانی کی قلت براہِ راست معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے زرعی پیداوار کم ہو رہی ہے،صنعت متاثر ہو رہی ہے،بڑے شہروں میں پانی کی فراہمی بحران کا شکار ہے،صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں،یہ تمام عوامل مجموعی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کے لیے چند اہم سفارشات دی گئی ہیں جن میں پانی کی قیمت (والیم میٹرک پرائس) کو استعمال کی بنیاد پر منظم کرنا،وفاقی و صوبائی سطح پر ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر کرنا،ملک میں پانی کی کوالٹی مانیٹر کرنے کے لیے خود مختار ادارہ قائم کرنا،ماحولیاتی بہاؤ اور ایکوسسٹمز کے تحفظ کو لازمی جزو بنانا،جدید آبپاشی نظام، لائننگ، ڈرپ اور سپرنکلر آبپاشی کو فروغ دینا،پانی کے منصوبوں میں کلائمٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر شامل کرنا،ذخائر اور بارانی علاقوں میں بارش کے پانی کے انتظام کو بہتر بنانا جیسے اقدامات اٹھانا شامل ہیں۔
واضع رہے کہ اے ڈی بی کی اس رپورٹ میں پاکستان واٹر پاٹنرشپ کی جائزہ رپورٹ کے نکات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان واٹر پاٹنرشپ کے کنٹری ہیڈ محمد اویس نے فروزاں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اے ڈی بی پی کی جاری کردہ اس رپورٹ کے لیے پاکستان واٹر پاٹنرشپ نے اپنی سروے رپورٹ جمع کرائی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری رپورٹ میں ملک میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ2013 سے2025 تک پاکستان کی واٹر سکیورٹی کے نئے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی سطح پر پانی کے انتظام و انصرام میں بہتری کے باوجود مجموعی ترقی نہایت سست رہی ہے۔
ایشین واٹر ڈیولپمنٹ آؤٹ لک (اے ڈبلیو ڈی او) کے فریم ورک کے تحت رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا مجموعی واٹر سکیورٹی اسکور 46.1 سے بڑھ کر صرف 50.7 تک پہنچا، جبکہ ایس ڈی جی انڈیکیٹر 6.5.1 کے تحت واٹر گورننس اسکور 2017 میں 50 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 63 فیصد ہو گیا۔
محمد اویس کا کہنا تھا کہ دیہی واٹر سکیورٹی کمزور مانیٹرنگ، آلودہ پانی کی فراہمی اور مقامی سطح پر محدود شمولیت کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
معاشی واٹر سکیورٹی مسلسل زوال پذیر ہے، کیونکہ فی کس پانی کی دستیابی کم ہو رہی ہے اور صنعتیں بڑے پیمانے پر غیر منظم اور کم نگرانی شدہ زیرِ زمین پانی پر انحصار کر رہی ہیں جب کہ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی طلب، بغیر ٹریٹ کیے چھوڑا جانے والا گندہ پانی، اور سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات صورتحال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی واٹر سکیورٹی بھی تیزی سے بڑھتی آبادی، آلودگی اور کمزور موسمیاتی لچک کے باعث متاثر ہوئی ہے، جبکہ آفات سے متعلق واٹر سکیورٹی بار بار آنے والے سیلابوں، خشک سالی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے واقعات کے بعد جمود کا شکار ہے۔
جب کہ 2018کی نیشنل واٹر پالیسی جیسے مضبوط قانونی فریم ورک کے باوجود، اس کے نفاذ میں رکاوٹیں جیسے کہ ادارہ جاتی تقسیم، محدود صلاحیت اور ناکافی مالی وسائل ترقی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
اس رپورٹ میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، پانی کی مقدار پر مبنی قیمتوں کا نظام (والیم میٹرک پرائس) نافذ کرنے، خواتین اور کمزور طبقات کی فیصلہ سازی میں شمولیت بڑھانے، وفاقی سطح پر آزاد واٹر کوالٹی مانیٹرنگ کے قیام، اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے مضبوط ماحولیاتی نظم و نسق کی سفارش کی گئی تاکہ طویل المدتی واٹر سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں
ایمازون کی مچھلی پاکستان تک کیسے پہنچی؟
کیا موسمیاتی تبدیلی 2025 میں انسانیت کے لیے آخری وارننگ ہے؟
اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ پاکستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ اگر پانی کے انتظام، ذخیرہ، گورننس اور ایکوسسٹم کے تحفظ پر سنجیدگی سے کام نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں پانی کی قلت معاشی و انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو اب صرف نئے ذخائر بنانے یا پائپ لائن تعمیر کرنے سے آگے بڑھ کر پانی کی منصفانہ تقسیم، پائیدار پالیسی، ماحول دوست منصوبہ بندی اور دور رس اصلاحات کی ضرورت ہے۔
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
موسمیاتی تبدیلی دودھ دینے والے جانوروں کی پیداوار پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ ڈیری…
This website uses cookies.