فروزاں

پاکستان میں پانی کا بحران: کانفرنس 2026 کے اہم فیصلے اور حل

پاکستان میں بڑھتے ہوئے آبی بحران، ماہرین کی وارننگ اور واٹر اسٹیورڈشپ کانفرنس 2026 میں پیش کیے گئے پائیدار حل اور اہم سفارشات پر جامع رپورٹ۔

اگر بروقت اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ نہ صرف زرعی پیداوار اور معیشت کو متاثر کرے گا بلکہ سماجی عدم استحکام اور آبی تنازعات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

یہی پس منظر اس امر کو ناگزیر بناتا ہے کہ حکومت، صنعت، ماہرین اور شہری معاشرہ مل کر پائیدار آبی نظم و نسق کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔

اس حوالے سے درپیش بڑھتے ہوئے آبی بحران کے تناظر میں ماہرین خبردارکر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی، تیز رفتار شہری پھیلاؤ، ماحولیاتی تنزلی، آبادی میں اضافہ اور زرعی و صنعتی ضروریات میں اضافے نے پانی کے وسائل پر بے پناہ دباؤ ڈال دیا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کے زیر اہتمام پا کستان کونسل آف ریسرچ ان وا ٹر ریسورسیز (پی سی آر ڈبلیو آر) اور اورسیز انویسٹرچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی)کے اشتراک سے ”پاکستان واٹر اسٹیورڈشپ کانفرنس 2026“ کا انعقاد کیا گیا، جس میں حکومت، صنعت، جامعات اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

دو روزہ کانفرنس کا مقصد آبی بحران سے نمٹنے کے لیے قابلِ عمل حل تلاش کرنا اور قومی و بین الاقوامی اشتراک کو فروغ دینا تھا۔

کانفرنس کے دوران پالیسی مکالمے، راؤنڈ ٹیبل مباحثے اور تکنیکی سیشنز منعقد کیے گئے، جن میں میٹھے پانی کے ذخائر کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے مضبوط کمیونٹیز کی تشکیل پر زور دیا گیا۔

واٹر اسٹیورڈشپ کانفرنس 2026 میں پائیدار حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ڈائریکٹر جنرل آصف صاحبزادہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کو شدید موسمی واقعات اور بڑے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، بالخصوص 2025 کے تباہ کن سیلاب، جن سے 40 سے 70 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔انہوں نے زور دیا کہ پانی کے مؤثر استعمال اور تحفظ کی ذمہ داری کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ یہ مشترکہ کوششوں کی متقاضی ہے۔

ان کے مطابق ایسے فورمز شراکت داری، علم کے تبادلے اور پائیدار حل کی تلاش کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف۔پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل/سی ای او حماد نقی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پائیدار آبی نظم و نسق کے لیے حکومت، صنعت اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مضبوط اشتراک ناگزیر ہے۔

انہوں نے قدرتی بنیادوں پر مبنی حل (نیچر بیسڈ سولوشن) اور ذمہ دارانہ پانی کے استعمال کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت بڑھانے کے لیے کلیدی قرار دیا۔

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر فریش واٹر پروگرام ڈبلیو ڈبلیو ایف سہیل علی نقوی نے کہا کہ آبی خطرات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ حکومت، صنعت اور عوام سب کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے کثیرالشعبہ اور جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

وزارتِ تجارت کے نیشنل کمپلائنس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر نبی امین نے صنعتی شعبے کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس صنعتی صلاحیت اور افرادی قوت تو موجود ہے، تاہم عالمی معیار کے مطابق کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے کی کمی ہے۔

ان کے مطابق عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے پانی کے مؤثر استعمال کو بنیادی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ڈائریکٹر جنرل پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسیز ڈاکٹر حفضہ رشیدنے پاکستان میں آبی حکمرانی (واٹر گورننس) کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اداروں، شعبوں اور دریائی بیسنز کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو کلیدی قرار دیا۔

کانفرنس کے دوران مربوط آبی وسائل کے انتظام، پائیدار زراعت، شہری پانی کی فراہمی اور صنعتی سطح پر پانی کے مؤثر استعمال جیسے موضوعات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ماہرین نے آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور تحفظ پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں

جنگ کا دوسرا محاذ: بارود سے بڑھتا کاربن اور موسمیاتی بحران

دو روزہ مشاورت کے نتیجے میں متعدد اہم سفارشات سامنے آئیں، جن میں دریائی بیسن کی سطح پر مربوط منصوبہ بندی، ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا، زیرِ زمین پانی کی بحالی، آبپاشی کے نظام کی بہتری اور ویسٹ واٹر کے دوبارہ استعمال کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پائیدار آبی نظم و نسق کے لیے ایک جامع روڈ میپ بھی پیش کیا گیا۔

کانفرنس میں سندھ انوئرنمٹل پروٹیشن ایجنسی (سیپا)، اقوامِ متحدہ کے اداروں، محکمہ موسمیات پاکستان،، اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ڈائریکٹر پروگرام ڈبلیو ڈبلیو ایف ڈاکٹر مسعود ارشدنے کہا کہ پانی پاکستان کے مستقبل کا بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ چیلنجز سنگین ہیں، تاہم مشترکہ اقدامات، تعاون اور عملی حل کے ذریعے ایک محفوظ اور مستحکم آبی مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں پانی کا بحران اب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور سماجی بقا کا بنیادی چیلنج بن چکا ہے۔

پاکستان میں پانی کا بحران ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، زرعی و صنعتی ضروریات میں اضافہ اور زیرِ زمین پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ایسے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ”پاکستان واٹر اسٹیورڈشپ کانفرنس 2026“اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک میں آبی بحران سے نمٹنے کے لیے اب فوری، مربوط اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔

admin

Recent Posts

کراچی میں بارش کا سلسلہ جاری، مغربی بادلوں کے باعث مزید تیز بارش کا امکان

کراچی میں بارش،مختلف علاقوں میں معتدل سے تیز بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ مزید دو اسپیلز…

1 day ago

توازن اور انسانی بقا: جانوروں پر ظلم ماحولیاتی تباہی کی بڑی وجہ

توازن کے بغیر زمین غیر محفوظ۔ جانوروں کے حقوق، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ انسان…

1 day ago

جنگ کا دوسرا محاذ: بارود سے بڑھتا کاربن اور موسمیاتی بحران

جنگ نہ صرف انسانوں بلکہ زمین کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے…

2 days ago

باجوڑ میں زخمی گدھ کو محکمہ وائلڈ لائف نے محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا

گدھ ریسکیو آپریشن میں باجوڑ وائلڈ لائف ٹیم نے زخمی گدھ کو علاج کے لیے…

4 days ago

نقل مکانی کرنے والی جنگلی حیات: بقا کی جنگ اور عالمی ذمہ داری کا تقاضا

نقل مکانی کرنے والی جنگلی حیات صرف حیاتیاتی تنوع کامسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن، خوراک…

5 days ago

ہنزہ زلزلہ: بالائی علاقوں میں 5.5 شدت کے جھٹکوں سے نقصان، خوف کی فضا

ہنزہ زلزلہ سے چپورسن اور مسگر میں مکانات متاثر، لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں بند، مکین…

6 days ago

This website uses cookies.