Dialogue of Water and Land: “Main Chaman Mein Khush Nahi Hoon” Exhibition Explores Climate Memory
تحریر و کیوریشن: ٹی جے سید
کراچی کے ساحل کے قریب فضا میں ہمیشہ ایک خاص سی نمی گھلی رہتی ہے۔ نمکین، بھاری اور خاموش۔ یہ نمی محض موسم کی کیفیت نہیں بلکہ سمندر کی ایک مستقل یاد دہانی ہے۔
شاید اسی لیے جب کوئی فنّی نمائش پانی اور زمین کے تعلق کو موضوع بناتی ہے تو وہ صرف ایک بصری تجربہ نہیں رہتی۔ وہ شہر کے جغرافیے اور اس کی اجتماعی یادداشت کے ساتھ ایک گہرا مکالمہ بن جاتی ہے۔
‘‘میں چمن میں خوش نہیں ہوں’’ایسی ہی ایک نمائش تھی۔ یہ نمائش زمین کو ایک جامد منظر کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ متن کے طور پر دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ ایک ایسا متن جسے صدیوں سے پانی لکھتا آ رہا ہے۔
دریاؤں کے بہاؤ، بارشوں کے موسم، سیلابوں کی شدت اور سمندر کی آہستہ مگر مسلسل پیش قدمی اس تحریر کا حصہ ہیں۔ اس نمائش کا بنیادی خیال یہی ہے کہ زمین دراصل ایک ایسی تحریر ہے جو کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ فطرت اسے بار بار مٹاتی اور دوبارہ لکھتی رہتی ہے۔
اسی تصور کی بنیاد پر ترتیب دی گئی یہ نمائش فن کو ایک ایسے وسیلے کے طور پر پیش کرتی ہے جو ماحول، جغرافیہ اور انسانی وجود کے درمیان پیچیدہ رشتوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہاں پانی محض ایک قدرتی عنصر نہیں بلکہ ایک تخلیق کار کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ ایک ایسا مصنف جو زمین کے خدوخال کو تراشتا ہے، ساحلوں کو بدلتا ہے اور انسانی بستیوں کی تقدیر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
پانی کی حرکت بظاہر نرم اور بے آواز محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
دریا اپنے راستے خود بناتے ہیں۔ وہ پہاڑوں کو کاٹتے ہیں اور وادیوں کو جنم دیتے ہیں۔ اسی طرح سمندر ساحلوں کو آہستہ آہستہ تبدیل کرتا رہتا ہے۔
اس قدرتی عمل میں ایک دلچسپ تضاد موجود ہے۔ پانی بیک وقت تخلیق بھی کرتا ہے اور مٹاتا بھی ہے۔
نمائش اسی تضاد کو فن کے مختلف انداز میں پیش کرتی ہے۔ مجسمہ سازی، تنصیب، پرفارمنس آرٹ اور ہاتھ سے بنے کاغذ اور کپڑے کے استعمال نے اس تصور کو ایک کثیر الجہتی تجربہ بنا دیا۔
کچھ فن پارے فطرت کی خاموشی اور نزاکت کو نمایاں کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ کام ماحولیاتی بحران کی شدت کو براہِ راست بیان کرتے ہیں۔
یہاں استعمال ہونے والا مواد بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ریت، لکڑی، پانی اور قدرتی اشیاء صرف جمالیاتی عناصر نہیں بلکہ ایک علامتی زبان کا حصہ ہیں۔ یہ مواد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فن اور ماحول کے درمیان فاصلہ دراصل بہت کم ہے۔
نمائش میں شامل ایک طاقتور تنصیب دیکھنے والے کو فوراً اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
ریت سے بھرا ہوا ایک تابوت اور سفید کفن میں لپٹا ہوا ایک بچہ۔ یہ منظر بیک وقت سادہ بھی ہے اور لرزا دینے والا بھی۔
اس تنصیب میں ریت زمین کی علامت ہے۔ جبکہ تابوت ایک ایسے مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ماحولیاتی تباہی کے باعث خطرے میں پڑ چکا ہے۔
یہ فن پارہ بلند آواز احتجاج نہیں بلکہ ایک خاموش سوال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ سوال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماحولیاتی بحران صرف درجہ حرارت کے اعداد و شمار یا سائنسی رپورٹس کا مسئلہ نہیں۔ یہ انسانی زندگیوں اور آنے والی نسلوں کا مسئلہ بھی ہے۔
اسی طرح کچھ فن پارے پتے کی باریک رگوں جیسی ساختوں پر مبنی ہیں۔ ان کی پیچیدہ اور نازک لکیریں دراصل دریا کے نقشوں کی یاد دلاتی ہیں۔
یہ فن پارے بظاہر نہایت لطیف دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے اندر ایک گہرا استعارہ موجود ہے۔ جیسے پتے کی رگیں درخت کو زندگی فراہم کرتی ہیں، ویسے ہی دریا زمین کی حیات کو برقرار رکھتے ہیں۔
ان باریک ڈھانچوں میں پانی کی حرکت ایک غیر مرئی تحریر کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ جیسے زمین کے وجود میں کوئی خاموش پیغام درج ہو۔
نمائش کا ایک اہم پہلو اس کا مقامی تناظر بھی تھا۔ کراچی کے ساحلی علاقے اور خاص طور پر ریڑھی گوٹھ جیسے مقامات اس بیانیے میں نمایاں طور پر موجود ہیں۔
ریڑھی گوٹھ کی بستیاں سمندر کے ساتھ ایک گہرے مگر پیچیدہ تعلق میں بندھی ہوئی ہیں۔ یہاں سمندر زندگی کا ذریعہ بھی ہے اور خطرہ بھی۔
ماہی گیروں کی روزی روٹی اسی پانی سے وابستہ ہے۔ مگر یہی سمندر آہستہ آہستہ زمین کو نگلتا بھی جا رہا ہے۔
ساحلی کٹاؤ کے باعث زمین سکڑ رہی ہے اور لوگوں کی زندگیاں مسلسل غیر یقینی کا شکار ہیں۔
نمائش میں استعمال ہونے والی لکڑی، ریت اور ساحل سے ملنے والی اشیاء اسی حقیقت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ مواد صرف فن پاروں کا حصہ نہیں بلکہ گواہ ہیں۔ گواہ اس تبدیلی کے جو خاموشی سے وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
“میں چمن میں خوش نہیں ہوں” کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ نمائش دیکھنے والے کو صرف ناظر بن کر رہنے نہیں دیتی۔
یہ ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جہاں فنکار، مواد، جگہ اور ناظر کے درمیان ایک مکالمہ قائم ہو جاتا ہے۔
یہ نمائش ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے۔ اگر پانی زمین کو لکھ رہا ہے تو ہم کیا لکھ رہے ہیں؟
یہ سوال دراصل ہماری اجتماعی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیا ہم ایک ایسی دنیا تخلیق کر رہے ہیں جہاں تباہی اور بے حسی غالب ہو؟ یا ہم مرمت، دیکھ بھال اور ہم آہنگی کی نئی کہانیاں لکھ سکتے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ نمائش مکمل طور پر مایوسی کا بیانیہ پیش نہیں کرتی۔ اس میں امید کی ایک جھلک بھی موجود ہے۔
یہاں فن صرف تباہی کی داستان نہیں سناتا بلکہ بحالی، دیکھ بھال اور باہمی بقائے باہمی کی بات بھی کرتا ہے۔
پانی بظاہر نرم اور خاموش ہوتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہی پانی پہاڑوں کو کاٹ دیتا ہے اور زمین کے نقشے بدل دیتا ہے۔
اسی طرح اس نمائش کا اثر بھی فوری شور کی صورت میں نہیں بلکہ ایک دیرپا احساس کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
“میں چمن میں خوش نہیں ہوں” ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فطرت کے ساتھ ہمارا تعلق صرف استعمال یا استحصال کا نہیں بلکہ ایک مسلسل مکالمہ ہے۔
زمین پر لکھی ہر لکیر، ہر دراڑ اور ہر بہاؤ ایک کہانی سناتا ہے۔ اور شاید فن ہمیں ان کہانیوں کو سننے کا ہنر سکھاتا ہے۔
یہ نمائش کلائمیٹ ویک کراچی کے تحت منعقد ہونے والے پاکستان کے پہلے کلائمیٹ ویک کا حصہ تھی۔
اسے کلائمیٹ ایکشن سینٹر نے 1 اور 2 فروری کو تاریخی خالق دینا ہال میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان میں پانی کا بحران سنگین، درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ
تحفظ کا 30×30 ہدف: پاکستان میں محفوظ علاقوں کا مستقبل اور حیاتیاتی تنوع کا چیلنج
نمائش کی کیوریشن ٹی جے سید نے کی جبکہ 18 فنکاروں نے اپنے فن کے ذریعے پانی، زمین اور ماحولیاتی تبدیلی کے پیچیدہ تعلقات کو اجاگر کیا۔
ٹراؤٹ مچھلی مارچ اور اپریل کے مہینوں میں انڈے دیتی ہے۔ اس دوران غیر قانونی…
پاکستان میں پانی کا بحران، موسمیاتی تبدیلی سے درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے اور…
بلوچستان کی دیہی خواتین موسمیاتی تبدیلی کے سخت اثرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ پانی…
تحفظ اور ترقی کا توازن: حیاتیاتی تنوع کے عالمی بحران کے درمیان پاکستان کو مؤثر…
کچرا ترقی یافتہ ممالک کےلیے صاف کرنا مشکل، ری سائیکل ایبل مٹریل، اسکریپ یا ڈونیشن…
پھولوں کی نمائش میں کلائمیٹ کیفے پر موسمیاتی تبدیلی، شہری آلودگی، توانائی کے متبادل ذرائع…
This website uses cookies.