Climate Awareness at Flower Show: Climate Café Sparks Public Dialogue in Karachi
وردہ ممتاز
کراچی میں منعقد ہونے والے ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان کے سالانہ فلاور شو میں کلائمیٹ ایکشن سینٹر یعنی سی اے سی کی جانب سے ”کلائمیٹ کیفے“ قائم کیا گیا۔ اس عوامی اجتماع کو ماحولیاتی آگہی کے لیے استعمال کیا گیا۔
سی اے سی نے نمائش کے اندر ایک علیحدہ مگر ماحول دوست مکالماتی جگہ تخلیق کی۔ کلائمیٹ کیفے کو غیر رسمی لیکن بامقصد گفتگو کے لیے ترتیب دیا گیا۔ شرکاء کو موسمیاتی تبدیلی، شہری آلودگی، توانائی کے متبادل ذرائع اور کراچی کے ماحولیاتی مستقبل پر کھل کر بات کرنے کا موقع دیا گیا۔
یہ اقدام اس احساس پر مبنی تھا کہ ماحولیاتی پالیسیوں کے اصل متاثرین عام شہری ہیں۔ مگر منصوبہ بندی میں ان کی شمولیت محدود رہتی ہے۔ کلائمیٹ کیفے نے اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی۔
اہم مقاصد میں عوامی سطح پر موسمیاتی گفتگو کا آغاز، کلائمیٹ چینج کے بیانیے کو عام کرنا، اور کلائمیٹ ویک کراچی کی سرگرمیوں کو وسیع حلقوں تک پہنچانا شامل تھا۔
سی اے سی کی نمایاں کاوشیں بھی متعارف کرائی گئیں۔ ان میں فضائی آلودگی سے آگاہی، گرین انرجی مہم، سولر منی گرڈز، الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی اور موسمیاتی بیانیہ شامل تھا۔
آرام دہ نشستوں میں شرکاء سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ کلائمیٹ ویک کراچی کے اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی۔ مختلف شعبہ جات سے متعلق پینل مباحث اور کمیونٹی اقدامات پر گفتگو ہوئی۔
سنجیدہ موضوعات کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا۔ مختلف عمر کے افراد نے سوالات کیے اور اپنی رائے دی۔
کلائمیٹ کیفے میں فضائی آلودگی سے متعلق سیشن خاص توجہ کا مرکز رہے۔ لائیو ڈیٹا پلیٹ فارمز جیسے ایئر کوالٹی لائف انڈیکس، آئی کیو ایئر اور ایئر گریڈینٹ کے ذریعے ایئر کوالٹی انڈیکس یعنی اے کیو آئی کی حقیقی وقت کی معلومات دکھائی گئیں۔
شرکاء کو رنگوں کے کوڈ، آلودگی کی سطح اور صحت پر اثرات سے آگاہ کیا گیا۔ ٹرانسپورٹ کا دھواں، کچرے کو جلانا اور غیر منظم تعمیرات آلودگی کے اہم ذرائع کے طور پر اجاگر کیے گئے۔ سائنسی ڈیٹا کو سادہ انداز میں پیش کرنے سے دلچسپی میں اضافہ ہوا۔
گرین انرجی ٹرانزیشن کے حصے میں سی اے سی کی مہم نمایاں رہی۔ سولرائزیشن سے متعلق معلوماتی بروشرز تقسیم کیے گئے۔ پٹیشن پر دستخط کرائے گئے۔ سولر منی گرڈ ماڈلز پر گفتگو ہوئی۔
الیکٹرک وہیکل یعنی ای وی منتقلی کے راستوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ فوسل فیول پر انحصار اور فضائی آلودگی کے تعلق کو واضح کیا گیا۔ نظام کی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
کلائمیٹ نیریٹیوز انیشی ایٹو کے تحت بتایا گیا کہ کلائمیٹ ویک کراچی اور کلائمیٹ کیفے ایک وسیع تر فکری سلسلے کا حصہ ہیں۔ مقصد ماحولیاتی شعور کو سماجی اور ثقافتی مکالمے میں شامل کرنا ہے۔
آگاہی مرچنڈائز اسٹال بھی قائم کیا گیا۔ ماحول دوست تھیلے، ماحولیاتی میگزین فروزاں اور کلائمیٹ ماسک دستیاب تھے۔ اسکرینز پر کلائمیٹ ویک کی جھلکیاں، لائیو اے کیو آئی ڈیٹا اور گریٹا تھنبرگ کی آگاہی ویڈیو دکھائی گئی۔
آرٹ انٹروینشن ”برش دی فیوچر: اے کلیکٹو کلائمیٹ کینوس“ فنکار ٹی جے سید کی زیر نگرانی منعقد ہوئی۔ شرکاء نے رنگوں اور علامتوں کے ذریعے اپنے پیغامات شامل کیے۔ یہ سرگرمی مشترکہ ذمہ داری کی بصری علامت تھی۔
تین دنوں میں 100 سے زائد افراد نے براہِ راست شرکت کی۔ ماہرین، سول سوسائٹی نمائندگان، نوجوان اور فیملیز شامل تھیں۔ فضائی معیار کے نقشوں اور لائیو ڈیٹا میں غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی۔
گرین انرجی مہم کے لیے دستخط اور بروشرز کی تقسیم سے آگاہی کا دائرہ وسیع ہوا۔
یہ بھی پڑھیں
کراچی میں 75ویں پاکستان سالانہ پھولوں کی نمائش 2026، سی ویو پر رنگوں کی بہار
عالمی یومِ جنگلی حیات 2026: ادویاتی پودوں کا تحفظ، صحت اور معیشت کا عالمی چیلنج
کلائمیٹ کیفے نے ثابت کیا کہ عوامی اور ثقافتی تقریبات میں موسمیاتی مکالمے کی گنجائش موجود ہے۔ بہتر منصوبہ بندی اور وسیع شراکت داری کے ساتھ یہ ماڈل کراچی میں ماحولیاتی شعور کو مرکزی دھارے میں لانے کا مؤثر اور قابلِ توسیع پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔
جنگ میں صرف انسان نہیں مرتے، ماحولیاتی تباہی بھی آتی ہے، عسکری اخراج کو موسمیاتی…
عالمی یومِ جنگلی حیات یاد دلاتا ہے کہ ادویاتی پودوں کا تحفظ پائیدار ترقی اور…
زمین کے چھن جانے کا خوف صرف قانونی مسئلہ نہیں۔ یہ ماحولیاتی، معاشی اور اخلاقی…
بدلتا موسم، بدلتی حکمتِ عملی: عالمی اسپورٹس اداروں کی میچ ٹائم، وقفوں اور ہیٹ پروٹوکول…
گلگت میں اسمگلرز کو 10 لاکھ جرمانہ اور 6 ماہ قید، جنگلات کا تحفظ قومی…
ایشیا پیسفک پائیدار ترقیاتی اہداف کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک اہداف صرف…
This website uses cookies.