سندھ کے جنگلات کی تباہی کی اصل وجہ غیر قانونی کٹائی اور ناقص عملدرآمد، ٹمبر مافیا، سخت سزائیں، ٹیکنالوجی نگرانی اور عوامی شعور کی کمی ہے۔
ڈاکٹر شہزادہ ارشاد

وہ بھی کیا دن رہے ہوں گے کہ شاعر نغمے تراشتا تھا مغنی اسے لے و آہنگ سے آراستہ کرتا تھا اور جھوم جھوم کر گاتاتھا ’’ہم تم ہوں گے بادل ہوگا رقص میں سارا جنگل ہوگا‘‘ اور بعضے بے اختیارسردھنتے ہوئے جنگل نکل جانا چاہتے تھے۔
اب جائیں تو یار لوگوں نے جنگلات کا صفایا کیا ہوا ہے جو کچھ بچا چاہتا ہے اس میں ایک قابل ذکرکچّے کے جنگلوں کی پٹی رہ جاتی ہے۔
اس پٹی میں جا گھسیں تو غالب امکان مرہم پٹی کی ضرورت کے ساتھ واپسی کی ہوتی ہے۔ کچّے کے ہوں یا پکّے کے،جنگلی ہوں یا شہری،اب ڈاکو کہاں نہیں ہیں اور انشاء جی کی زبان میں جو صورت احوال ہے وہ یوں بنتی ہے کہ۔۔۔۔۔
کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل ترے پربت ترے بستی تری صحرا ترا
پاکستان کی سرزمین، جو کبھی سرسبز جنگلات کی بہار سے مالا مال تھی، آج ایک ایسے بحران کا شکار ہے جہاں سبزے کی جگہ ویرانیاں پھیل رہی ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت، 1947 میں، ملک کا اوسط جنگلاتی رقبہ تقریباً 33 فیصد تھا،ایک ایسا خزانہ جو معیشت کو سہارا دیتا اور قدرتی ماحول کو زندہ رکھتا۔ مگر افسوس، یہ رقبہ مسلسل گھٹتا چلا گیا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد تو صورتحال مزید ابتر ہو گئی؛ ہمارے پاس کوئی قابل ذکر کوشش نظر نہیں آتی جو جنگلات کی ترقی اور توسیع کے لیے کی گئی ہو۔
چھانگامانگا کا مصنوعی جنگل، جو دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی جنگل کہلاتا ہے، اور چنددیگرمحض علامتی اقدامات کے سوا کچھ نہیں۔
آج پاکستان کے کل رقبے کا صرف 2 سے 5 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جبکہ ہر سال 27 ہزار سے 43 ہزار ہیکٹر جنگلات کا خاتمہ ہو رہا ہے۔
یہ نقصان نہ صرف ہماری معیشت کو کمزور کر رہا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت کو بھی ہوا دے رہا ہے۔
اس کے برعکس، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں جنگلات کی حفاظت اور اضافے کی مثالیں موجود ہیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
بھوٹان، جو دنیا کا واحد کاربن نیگیٹو ملک ہے، اپنے رقبے کا 80 فیصد سے زائد جنگلات سے ڈھانپے ہوئے ہے،ایک ایسا ملک جہاں آئین میں ہی 60 فیصد رقبے کو جنگلات کے لیے محفوظ رکھنے کی شرط ہے۔
بھارت نے 1950 سے 2006 تک اپنے جنگلات میں 70 فیصد سے زائد اضافہ کیا ہے، جبکہ دنیا بھر میں جنگلات کا اوسط رقبہ 31 فیصد ہے۔
نیپال کا کمیونٹی فاریسٹری پروگرام، جہاں مقامی برادریاں جنگلات کی حفاظت اور استعمال کا حق رکھتی ہیں، ایک زندہ مثال ہے کہ کس طرح لوگوں کو شامل کر کے سبزے کو بچایا جا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کی مشترکہ سندر بن جنگلات کی حفاظت بھی ایک کامیاب علاقائی تعاون کی عکاس ہے۔
اگر ہم انفوگرافکس کی صورت میں دیکھیں تو پاکستان کا جنگلاتی رقبہ جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔بھوٹان اور بھارت کے مقابلے میں ہماری سبز دولت محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جبکہ عالمی سطح پر روس، کینیڈا اور برازیل جیسے ممالک دنیا کے جنگلات کا ایک بڑا حصہ سنبھالے ہوئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار نہ صرف ہماری کمزوریاں اجاگر کرتے ہیں بلکہ راستے بھی دکھاتے ہیں۔
سندھ میں، جہاں دریائے سندھ کی لہریں کبھی گھنے جنگلات کو سیراب کرتی تھیں، صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔
یہاں کے مینگروز جنگلات، جو ساحلی علاقوں کی حفاظت کرتے ہیں، بعض جگہوں پر نمایاں اضافے کا مظہر ثابت ہوئے۔
سن1990میں تقریباً 51 ہزار ہیکٹر سے بڑھ کر 2023 تک 101 ہزار ہیکٹر سے زائد ہو گئے۔ مگر افسوس، کراچی ہاربر اور دیگر علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، آلودگی اور ایندھن کی تلاش میں یہ قدیم جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
سن 2016 سے 2023 تک، جہاں 223 مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوا، وہیں 199 مربع کلومیٹر کا نقصان بھی ریکارڈ کیا گیا۔

یہ توازن کی جنگ ہے جہاں قدرتی بحالی اور انسانی مداخلت آمنے سامنے ہیں، کراچی کے چند شہری جنگلات اربن فاریسٹ، جو ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہیں، مختلف مفاداتی گروہوں کی ہوس کا شکار ہو کر بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
تاہم، کچھ مثبت کوششیں بھی نظر آتی ہیں جیسےاینگرو انرجی کا تھر میں جنگلاتی اضافے کا پروگرام،تھر ملین ٹری اور کاربن آفسٹی پیش رفت، جو 600 ملین روپے کی لاگت سے 10 سالہ منصوبے کے تحت 607 ہیکٹر پر پودے لگا کر ماحول کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حال ہی میں ڈان اخبار کا یکم فروری 2026 کا مضمون ’’دی لاسٹ فاریسٹس آف سندھ‘‘ اس بحران کی ایک عمدہ تصویر کشی کرتا ہے۔ایک ایسا تحقیقی کام جو ٹمبر مافیا کی غیر قانونی سرگرمیوں، جنگلات کی تباہی اور سرکاری افسران کی ملی بھگت کو بے نقاب کرتا ہے۔
یہ مضمون نہ صرف حقائق پیش کرتا ہے بلکہ ایک انتباہ بھی ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سندھ کے جنگلات مکمل طور پر مٹ جائیں گے۔
ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں ساحر لدھیانوی
اسی طرح، این جی اوز جیسے شہری (شہری– سِٹیزنز فار اے بیٹر انوائرنمنٹ) کی خدمات قابل ستائش ہیں۔
سن 1988 سے قائم یہ تنظیم ماحولیاتی مسائل پر کام کر رہی ہے،غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مقدمات، عوامی مفاد کے لیے عدالتی مداخلت، اور کراچی کی گرین بیلٹ کی حفاظت۔
ان کی کوششیں، جیسے 1998 میں مزار قائدکے قریب 35 غیر قانونی عمارتوں کے خلاف درخواست (جس پر چیف جسٹس نے انہیں سیل کرنے کا حکم دیا) اور سندھ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی کمرشلائزیشن کے خلاف کامیاب مقدمہ، ثابت کرتی ہیں کہ شہری سطح پر جدوجہد کتنی مؤثر ہو سکتی ہے۔
اب ایک نظر جنگلاتی قوانین (خصوسا سندھ کے) پر بھی ڈال لی جائے۔ بنیادی قانون اب بھی برطانوی دور کا فاریسٹ ایکٹ سن1927 ہے، جسے سندھ نے اپنے مطابق استعمال کیا ہے۔
اس کے تحت محفوظ (ریسروڈ) اور محفوظ (پروٹیکٹڈ) جنگلات میں درخت کاٹنا، لکڑی لے جانا یا بغیر اجازت نقل و حمل کرنا ممنوع ہے۔ سزا؟ زیادہ سے زیادہ 6 ماہ قید، 500 روپے جرمانہ، یا دونوں اور نقصان کی تلافی۔
یہ جرمانہ آج کے دور میں انتہائی معمولی ہے، جبکہ رشوت ایک ٹرک کے لیے 4000 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

سندھ سسٹین ایبل فاریسٹ مینجمنٹ پالیسی 2019 نے ان کمزوریوں کو تسلیم کیا ہے اور زمینوں کی واپسی، دوبارہ درخت لگانے اور لیز کی پابندی پر زور دیا ہے، مگر عمل درآمد بہت کمزور ہے۔
ماحولیاتی قوانین کی طرف آئیں تو سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 (ایس سی پی اے)زیادہ طاقتور ہے۔
اس کے تحت بڑے منصوبوں (جیسے جنگلات صاف کر کے زراعت یا تعمیر) کے لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) لازمی ہے۔
خلاف ورزی پر فرد کے لیے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ، کمپنی کے لیے ایک کروڑ، اور دوسری بار دگنا۔ اگر نقصان ہو تو 2 سال تک قید بھی۔ یہ جرمانے فاریسٹ ایکٹ سے کہیں زیادہ سخت ہیں، مگر ٹمبر مافیا جیسے بڑے اہداف پر ان کا استعمال کم ہوتا ہے۔
صوبائی موازنہ دیکھیں تو پنجاب آگے نکل گیا ہے۔ پنجاب فاریسٹ (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت محفوظ جنگلات میں غیر قانونی کاٹائی پر 3 سے 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ، غیر قانونی نقل و حمل پر 3 سے 8 سال اور 10 سے 50 لاکھ جرمانہ۔ منظم جرائم (مافیا) کے لیے کم از کم 8 سال قید۔
خیبر پختونخوا میں جرمانے نقصان کی قیمت کے دوگنا پر مبنی ہیں،چھوٹے نقصان پر 5000 روپے سے شروع، بڑے پر 50 ہزار تک اور 2 سال قید۔
بلوچستان اور سندھ اب بھی پرانے 500 روپے والے جرمانوں پر قائم ہیں۔ یہ تفاوت واضح کرتا ہے کہ سندھ کو سخت قوانین کی ضرورت ہے، جیسے پنجاب نے وضع کیے ہیں۔
ان سب کے باوجود، اُمید کی کرنیں موجود ہیں۔ جنوبی ایشیا سے لے کر پڑوسی ممالک تک، سندھ کے جنگلات کو بچانے کے لئے کامیاب مثالیں ہمیں راہ دکھاتی ہیں۔
بھوٹان کا ’’بھوٹان فار لائف‘‘پروگرام، جہاں مقامی برادریاں محفوظ علاقوں کی حفاظت کرتی ہیں، اور نیپال کا کمیونٹی فاریسٹری، جو آمدنی اور ماحولیاتی توازن کو جوڑتا ہے۔
بھارت کے یمونا اور اراولی بائیو ڈائیورسٹی پارکس، جو شہری ماحول میں بحالی کی مثالیں ہیں۔ علاقائی سطح پر، کانگچن جنگا لینڈ سکیپ (بھارت، نیپال، بھوٹان کا مشترکہ اقدام) سے سیکھتے ہوئے، ہم سندھ میں بھی ایسے باہمی تعاون کے ڈھانچے قائم کر سکتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ پہلے، قوانین میں ترامیم،سندھ میں پنجاب کی طرح سخت جرمانے اور سزائیں متعارف کروائیں۔
دوسرے، کمیونٹی مانیٹرنگ،مقامی لوگوں کو جنگلات کی حفاظت میں شامل کریں، جیسے نیپال میں۔
تیسرے، این جی اوز اور حکومت کا اشتراک،شہری جیسی تنظیموں کو مزید بااختیار بنائیں۔
چوتھے، ٹیکنالوجی کا استعمال،جی آئی ایس اور ڈرونز سے نگرانی۔
اور آخر میں، عوامی شعوراسکولوں اور میڈیا سے مہمات۔ یہ اقدامات نہ صرف جنگلات بچائیں گے بلکہ ایک سبز، خوشحال سندھ تخلیق کریں گے۔

اس بحران کی ایک بڑی وجہ جنگلاتی تحفظ کے شعبے میں پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کا فقدان بھی ہے۔
پاکستان میں فاریسٹری کی تعلیم محدود ہے؛ پاکستان فاریسٹ انسٹی ٹیوٹ (پی ایف آئی) جیسی جگہوں پر اپ گریڈیشن کی کوششیں تو ہوئیں، مگر ایکسٹینشن سٹاف کی ٹریننگ ناکافی ہے۔
کسانوں کو پودے لگانے، دیکھ بھال اور پائیدار مینجمنٹ کی معلومات کم ملتی ہے، جس کی وجہ سے پروجیکٹس جیسے بلین ٹری آف فاریسٹیشن میں ناکامی سامنے آئی۔
ریسرچ اور فیلڈ ورکرز کے درمیان گیپ، فنڈز کی کمی اور جدید ٹریننگ پروگراموں کا فقدان اسے مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
اگر ہم یونیورسٹیوں میں فاریسٹری کورسز کو توسیع دیں، مقامی کمیونٹیز کو ٹریننگ دیں اور انٹرنیشنل پروگراموں سے سیکھیں تو جنگلات کی حفاظت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، پاکستان کے شمالی اور مغربی علاقوں جیسے گلگت بلتستان اور بلوچستان کے وسیع علاقوں میں کمرشل جنگلاتی زون قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
یہاں کی مختلف ایکو زونز میں موزوں انواع (اِسپیشیز) جیسے جونیپر، پائن، اکیشیا، یوکی لپٹس، ولو اور برچ کو لگا کر صنعتی، کمرشل اور معاشی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔
گلگت بلتستان کے ڈرائی ٹیمپریٹ جنگلات میں جونیپر اور ولو جیسے درخت لکڑی، فارم فاریسٹری اور ماحولیاتی توازن کے لیے موزوں ہیں، جبکہ بلوچستان کے ٹیمپریٹ اور سب ٹراپیکل زونز میں اکیشیا اور پائن سے کمرشل پلانٹیشنز ممکن ہیں۔
یہ زونز نہ صرف لکڑی کی پیداوار بڑھائیں گے بلکہ مقامی معیشت کو سہارا بھی دیں گے، بشرطیکہ پائیدار مینجمنٹ پر توجہ دی جائے۔
ایندھن کے ماحول دوست اور سستے متبادلات کو فروغ دینا بھی اہم ہے۔ پاکستان میں قدرتی گیس کی کمی کے پیش نظر، سنتھیٹک نیچرل گیس (ایس این جی) جو تھر کول سے گیسیفیکیشن کے ذریعے بن سکتی ہے، ایک اچھا آپشن ہے۔
یہ بھی پڑھیں
موسمی چیلنجز کے باوجود پائیدار آمدنی کے مواقع
کلائمیٹ ویک کراچی 2026: دریائے سندھ، توانائی بحران اور موسمیاتی انصاف پر بحث
،یہ قدرتی گیس کی جگہ لے سکتی ہے اور موجودہ پلانٹس میں تھوڑی تبدیلی سے استعمال ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایتھانول بلینڈڈ فیول (جیسے ای10 جو چینی کی صنعت کی ضمنی پیداوار سے بنتا ہے)
پیٹرول سے 2.40 روپے فی لیٹر سستا اور ماحول دوست ہے۔ بائیو گیس، کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) اور بائیو میس سے بننے والے فیولز بھی پروموٹ کیے جائیں، جو کاربن ایمشن کم کرتے ہیں اور مقامی کسانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
حکومت کو ٹیکس چھوٹ اور سبسڈی دے کر انہیں فروغ دینا چاہیے، تاکہ جنگلات پر ایندھن کے انحصارکا دباؤ کم ہو۔
یہ سب مل کر ایک ایسا مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں جہاں سندھ کے جنگلات نہ صرف بچ جایں بلکہ پھلیں پھولیں، اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس سبز دولت سے مستفید ہوں۔
اب وقت ہے عمل کاہےکیونکہ سبزے کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
