فاطمہ خان، ریسرچر گرین انرجی
ٹیکسٹائل ڈمپنگ کوسمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے یہ سمجھا جائے کہ یہ کس طرح ہماری زندگیوں میں غیر محسوس طریقے سے شامل کردیا گیا یا کیا جارہا ہے۔
اوہ دیکھو یہ ٹاپ! میں نے اسےرچ کنڑریز ڈمپ نامی پیج سے تھرفٹ کیا ہے۔ میں اب کافی سسٹینیبل اورمائنڈ گل کنزیومربننے کی کوشش کر رہی ہوں‘‘۔یہ جملہ اب صرف ایک ذاتی بیان نہیں رہا، بلکہ سوشل میڈیا کا ایک فیشن بن چکا ہے۔
انسٹاگرام ریلز، تھرف ہال ویڈیوز، اور فخر سے دکھائے جانے والے ’’ویسٹرن پری لوڈ“کپڑے،سب کچھ ایک ہی دعو ٰی کرتے ہیں کہ ہم ماحول دوست ہیں۔لیکن ذرا ٹھہریے۔ ایک لمحے کے لیے اس تصویر کے پیچھے جھانکیے۔ سوال یہ نہیں کہ کپڑا سستا ہے یا پرانا‘‘۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ کپڑا یہاں کیوں ہے؟ اور کس قیمت پر؟
دنیا بھر میں فیشن انڈسٹری ہر سال 92 ملین ٹن کپڑوں کا کچرا پیدا کرتی ہے۔ یہ وہ صنعت ہے جو رفتار، رجحان اور سستے داموں پر چلتی ہے۔
اس کچرے میں سے صرف 15 فیصد ری سائیکل ہو پاتا ہے۔ باقی میں سے 57 فیصد زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے اور 25 فیصد جلادیا جاتا ہے۔
اس کچرے میں سے صرف 15 فیصد ری
سائیکل ہو پاتا ہے۔ باقی میں سے 57
فیصد زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے
اور 25 فیصد جلادیا جاتا ہے۔
اگر کسی ایک لباس کی پوری زندگی یعنی پیداوار، رنگائی، سالئی، پیکنگ، ٹرانسپورٹ، استعمال اور آخرکار پھینکے جانے کو دیکھا جائے تو فیشن انڈسٹری ہر سال تقریباً 1.2 ارب ٹن کاربن خارج کرتی ہے۔ یہ ایک خاموش بحران ہے، جو ہمیں خوبصورت کپڑوں کے پیچھے نظر نہیں آتا۔
اب اس سارے معاملے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
سن 2023 میں پاکستان نے تقریباً 809 کلو ٹن استعمال شدہ کپڑے درآمد کیے۔ یہ کپڑے یورپ، امریکہ اور دیگر امیر ممالک سے آتے ہیں۔
فیصل آباد اس وقت ملک میں کپڑوں کی چھانٹی، کٹنگ اور ری سائیکلنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
یہاں بڑے بڑے گودام ہیں جہاں بیلز کھولی جاتی ہیں، کپڑے الگ کیے جاتے ہیں، کچھ بیچے جاتے ہیں، کچھ کترن بن جاتے ہیں، اور کچھ مکمل طور پر ناقابل استعمال قرار دے دیے جاتے ہیں۔
لیکن اصل سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ کتنے کپڑے واقعی ری سائیکل ہوئے؟
کتنے دوبارہ استعمال کے قابل بنے؟
اور کتنا حصہ خاموشی سے لینڈفل یا نالوں کے راستے سمندر میں چلا گیا؟
ٹیکسٹائل ڈمپنگ، اس بارے میں رپورٹس اکثر مبہم ہوتی ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ کپڑے ری سائیکل ہو گئے، کچھ کہتے ہیں کہ دوبارہ برآمد ہو گئے، خاص طور پر افریقہ کے ممالک میں۔
یوں ایک عجیب سلسلہ بنتا ہے،امیر ممالک اپنا فیشن کچرا کم آمدنی والے ممالک کو دیتے ہیں، اور یہ ممالک آگے اس بوجھ کو مزید غریب ممالک تک منتقل کر دیتے ہیں۔
یہ تجارت لگتی ضرور ہے، مگر حقیقت میں یہ ٹیکسٹائل ڈمپنگ کچرے کی عالمی سپلائی چین ہے۔
اب یہاں ایک عام سا سوال اٹھتا ہے کہ’’اس میں مسئلہ کیا ہے‘‘؟
غریبوں کو سستے کپڑے مل رہے ہیں، ری سائیکلنگ کے ساتھ ٹیکسٹائل ڈمپنگ کی آڑ میں لوگوں کا روزگار چل رہا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس ٹیکسٹائل ڈمپنگ کاروبار کا سب سے اہم حصہ جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
آج دنیا میں بننے والے 80 سے 90 فیصد کپڑے پولی ایسٹر، نائلون یا ان جیسے مصنوعی ریشوں سے بنے ہوتے ہیں، یا ان میں یہ شامل ہوتے ہیں۔ یہ ریشے دراصل پلاسٹک کی ہی ایک شکل ہیں۔
جب یہ کپڑے دھلتے ہیں تو لاکھوں باریک ذرات، جنہیں مائیکروپلاسٹک کہا جاتا ہے، پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ ذرات ندی نالوں سے ہوتے ہوئے سمندروں تک پہنچتے ہیں اور پھرہماری خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ صرف 13 پاؤنڈ کپڑوں کی ایک دُھلائی میں لاکھوں مائیکرو فائبرز خارج ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا کہ تھرفٹنگ مکمل طور پر ماحول دوست ہے، ایک ادھوری اور گمراہ کن بات ہے۔
ایک اور حقیقت جو کم بیان کی جاتی ہے یہ ہے کہ پاکستان جیسے گرم اور حبس والے ملک کے لیے پولی ایسٹر اور نائلون کے کپڑے موزوں ہی نہیں۔
یہاں کا موسم سانس لینے واالاکپڑا مانگتا ہے، مگر درآمد ہونے والے زیادہ تر تھرفٹ کپڑے اسی مصنوعی ریشے سے بنے ہوتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ٹی شرٹ یا ٹاپ ایک دو بار پہننے کے بعد ہی ناقابل برداشت لگنے لگتا ہے اور پھر وہی کپڑا دوبارہ کچرے کا حصہ بن جاتا ہے۔
یعنی جس چیز کو ہم ’’دوبارہ استعمال کے قابل“ سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل کچرے کی عمر کو صرف چند ہفتے بڑھا رہی ہے‘‘۔
اس پورے نظام کا سب سے خطرناک اثر مقامی معیشت پر پڑتا ہے۔
سستے درآمدی کپڑوں کی بھرمار نے مقامی کاٹن انڈسٹری، چھوٹے درزیوں، ہاتھ سے کام کرنے والے کاریگروں، چن اور اَڈی کا کام کرنے والوں، اورململ یا بنارسی جیسے روایتی کپڑوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ ہنر مندوں کی ایک کھیپ تھی جو نسلوں سے یہ کام کرتے چلے آ رہے تھے، مگر اب ’’ٹرینڈ‘‘ کے شور میں دب گئے ہیں۔
جب بازار سستے، درآمد شدہ اور چند ہفتوں میں آؤٹ آف فیشن ہونے والے کپڑوں سے بھر جائے تو مہنگا مگر ہاتھ سے بنا کپڑا کون خریدے گا؟
یہ مسئلہ صرف ماحول کا نہیں، بلکہ روزگار، شناخت اور ثقافت کا بھی ہے۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے بڑا فیشن یا ٹیکسٹائل بنانے واالا ملک نہیں۔
چین فاسٹ فیشن کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے، جو دنیا کے تقریباً 65 فیصد کپڑے بناتا ہے، جبکہ امریکہ سب سے بڑا صارف ہے۔
تیزی سے بدلتی دنیا میں کچھ برانڈز ایک ہی دن میں لاکھوں نئے ڈیزائن متعارف کرواتے ہیں۔
اس تیز رفتار پیداوار کا بوجھ آخرکار ان ممالک پر آتا ہے جو اس نظام میں سب سے کم طاقت رکھتے ہیں۔
مسئلہ پرانے کپڑے پہننے کا نہیں بلکہ غور طلب یہ ہےکپڑے کس نیت سے اور کس نظام کے تحت یہاں آ رہے ہیں۔
جب ہم امیر ممالک کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ وہ اپنا فیشن کچرا ہم پر ڈال دیں، تو ہم دراصل انہیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ جتنا چاہیں پیدا کریں، ہم اسے قبول کریں گے، اور آگے کسی اور غریب ملک کو بھیج دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں
گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی: بیانات، این جی او فنڈز اور عملی اقدامات
جزیرہ استولا میں گھوسٹ نیٹ ریکوری: ان دیکھی ماحولیاتی جنگ
پاکستان اور برطانیہ کا گرین کمپیکٹ: 35 ملین پاؤنڈ کا معاہدہ
یہ سوچ فاسٹ فیشن کو روکنے کے بجائے اسے مزید طاقت دیتی ہے اور بے تحاشا خریداری کے کلچر کو جائز بنا دیتی ہے۔
تو اگلی بار جب کوئی دوست یا انسٹاگرام انفلوئنسر فخر سے کہے کہ ’’اوہ دیکھو یہ ٹاپ! میں نے اسے ’’ویسٹرن پری لوڈ اسٹور“سے لیا ہے، میں بہت سسٹینیبل ہوں‘‘۔
تو صرف مسکرانے کے بجائے سوال کریں کہ کیا یہ واقعی پائیداری ہے؟یا ہم صرف امیروں کے کچرے کو خوبصورت نام دے رہے ہیں؟
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.