تنویر احمد، گلگت
گلگت بلتستان میں ان دنوں ٹرافی ہنٹنگ کا سیزن چل رہا ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک اور اندرون ملک سے ماہر شکاری جنگلی حیات، مارخور، آئی بیکس اور ہمالیائی آئی بیکسکا شکار بھاری فیسوں کی ادائیگی کے بعد کرتے ہیں۔
اس ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد حصہ حکومت ان مقامی کمیونٹیز کو ادا کرتی ہے جہاں ان جنگلی حیات کا شکار ہوتا ہے۔
منگل 13 جنوری 2026 کے روز گلگت بلتستان کے سیاحتی علاقے ہنزہ کے بالائی مقام پھسو کنزرویشن ایریا میں ہمالیائی آئی بیکس کا ایک اور کامیاب اور تاریخی شکار انجام پایا جس نے کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن اور پائیدار وائلڈ لائف مینجمنٹ کی کامیابی کو ایک بار پھر ثابت کر دیا۔
ہسپانوی شکاری مسٹر ایولالیو لینو نے پھسو کنزرویشن ایریا کی یُنز ویلی میں 45 انچ سینگ والے ہمالیائی آئی بیکس کا کامیاب شکار کیا۔
غیر ملکی شکاری نے محکمہ جنگلی حیات گلگت بلتستان سے 13700 امریکی ڈالر کے عوض شکار کا پرمٹ حاصل کیا تھا۔
یہ شکار محکمہ جنگلی حیات گلگت بلتستان کے تمام منظور شدہ تحفظاتی اصولوں اور ضوابط کے تحت مکمل کیا گیا۔
یہ شکار نہ صرف مقامی قوانین اور بین الاقوامی کنزرویشن معیارات کے مطابق تھا بلکہ اس میں مقامی کمیونٹی کی فعال شمولیت بھی نمایاں رہی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مقامی آبادی کو قدرتی وسائل کے تحفظ میں شریک کیا جائے تو بہتر اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
شکار کی تکمیل کے بعد ایک پروقار اختتامی تقریب پھسو گاوں میں منعقد ہوئی جس کا اہتمام پھسو کنزرویشن کمیٹی نے کیا تھا۔
تقریب میں ہسپانوی شکاری کے سہولت کار کارلوس، واکھان وائلڈ لائف ٹریکس کے سی ای او حسین علی اور پھسو کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر علاقے میں کنزرویشن کے لیے جاری کوششوں، مقامی لوگوں کے کردار اور مستقبل کے اہداف پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ہسپانوی شکاری ایولالیو لینو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پھسو کمیونٹی کی بھرپور تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ شکار گاہ یُنْز ویلی کا قدرتی حسن، شاندار مناظر، مقامی لوگوں کی گرمجوش مہمان نوازی، ثقافتی اقدار اور مہم کے دوران مسلسل تعاون ان کے لیے ایک ناقابل فراموش تجربہ رہا ہے جو ان کی سنہری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان بالعموم اور خاص طور پر پھسو میں کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن کا ماڈل دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے۔
اس شکار کی مہم کو مزید اہمیت اس وقت حاصل ہوئی جب معروف شکاری محمد علی بھی اس مہم میں شریک رہے جنہوں نے 2022 میں وادی بتورا میں 50 انچ ہمالیائی آئی بیکس کا ریکارڈ شکار کیا تھا۔
ان کی موجودگی نے نہ صرف مہم کی پیشہ ورانہ اہمیت میں اضافہ کیا بلکہ نوجوان مقامی شکاریوں اور کمیونٹی کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام بھی دیا۔
پھسو کنزرویشن کمیٹی کے صدر طارق علی نے اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شکاریوں، آؤٹ فٹرز اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پھسو میں ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر خرچ کی جاتی ہے جس سے جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پھسو کنزرویشن ایریا میں اس نوعیت کی کامیاب مہمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ذمہ دارانہ ٹرافی ہنٹنگ، کمیونٹی کی شمولیت اور مضبوط کنزرویشن پالیسیز کے ذریعے نہ صرف جنگلی حیات کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
یہ کامیاب شکار خطے میں کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن، پائیدار ٹرافی ہنٹنگ اور ذمہ دارانہ ایکو ٹورازم کی ایک قابل تقلید مثال کے طور پر سامنے آیا ہے جو مستقبل میں گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک رہنما ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔
گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا جس کے بعد نہ صرف علاقے میں غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی ہوئی بلکہ مارخور، آئی بیکس اور ہمالیائی آئی بیکس جیسی جنگلی حیات کی نسل میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کی وجہ سے اب مقامی کمیونٹیز ان جنگلی حیات کے محافظ بن گئے ہیں جبکہ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد حصہ مقامی کمیونٹیز کو ملنے سے لوگ اب گاوں اور کنزرویشن ایریاز کی سطح پر اپنی مدد آپ کے تحت ایسے فلاحی ادارے چلا رہے ہیں جن سے اجتماعی طور پر لوگوں کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
اس آمدن سے کئی علاقوں میں واٹر چینلز تعمیر کر کے زرعی اراضی کو سیراب کیا جا رہا ہے تو کہیں گلگت اور ہنزہ کے شہری علاقوں میں بچیوں کی تعلیم کے لئے گرلز ہاسٹلز قائم کر کے لوگ اپنی بیٹیوں کو اعلٰی تعلیم دلوا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
بالائی ہنزہ میں سیزن کی پہلی ہمالیائی آئی بیکس بیکس ٹرافی ہنٹنگ
ہنزہ میں 39 انچ سینگوں والا آئی بیکس شکار
گلگت بلتستان میں کامیاب ٹرافی ہنٹنگ میں محکمہ جنگلی حیات کا کلیدی کردار ہے جو ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا ہے جو زیادہ عمر رسیدہ ہوتے ہیں اور اس آمدن کا 20 فیصد حصہ حکومت اس کے تحفظ کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور دیگر اخراجات پر صرف کرتی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
موسمیاتی تبدیلی دودھ دینے والے جانوروں کی پیداوار پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ ڈیری…
This website uses cookies.