فروزاں

ٹراؤٹ مچھلی کا بحران: گلگت بلتستان میں آف سیزن شکار سے نایاب آبی حیات کو خطرہ

ٹراؤٹ مچھلی مارچ اور اپریل کے مہینوں میں انڈے دیتی ہے۔ اس دوران غیر قانونی شکار سے افزائش متاثر، محکمہ فشریز کی کارروائیاں تیز مگر تاحال ناکافی

پاکستان کے شمالی خطے میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان واقع گلگت بلتستان اپنے شفاف چشموں اور دریاؤں کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ پانی نہ صرف پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی پیداوار کا بنیادی ذریعہ ہے بلکہ اس خطے کی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کا بھی اہم حصہ ہے۔

انہی ٹھنڈے اور صاف پانیوں میں ٹراؤٹ مچھلی کی ایک منفرد اور قیمتی نسل پائی جاتی ہے۔ یہ مچھلی نہ صرف اس خطے کے ماحولیاتی نظام کا اہم جزو ہے بلکہ مقامی معیشت اور سیاحت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

ٹراؤٹ مچھلی ماہی گیری کے شوقین افراد کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح بھی اس کے شکار اور اس کے ذائقے سے لطف اندوز ہونے کے لیے گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں اس نایاب مچھلی کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر آف سیزن میں غیر قانونی شکار نے اس کی افزائش کو شدید متاثر کیا ہے۔

محکمہ فشریز کے مطابق مارچ اور اپریل کے مہینوں میں مچھلیاں انڈے دیتی ہیں۔ اس دوران شکار دراصل ان کی نسل کشی کے مترادف ہے۔

افزائش کے موسم میں شکار کا خطرہ

ماہرین کے مطابق، ٹراؤٹ مچھلی افزائش کے مخصوص موسم میں انڈے دیتی ہے۔ اس دوران شکار ہونے کی صورت میں اس کی افزائش کا قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے۔

غیر قانونی شکار کے نتیجے میں ٹراؤٹ مچھلیوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ نسل نایاب ہو سکتی ہے۔

فش فارمز اور مقامی معیشت

گلگت بلتستان کے کئی اضلاع میں محکمہ فشریز کے تعاون سے مقامی افراد نے ٹراؤٹ مچھلی کے فش فارمز قائم کیے ہیں۔ ان فارمز میں نہ صرف مچھلیوں کی افزائش کی جا رہی ہے بلکہ انہیں فروخت کر کے لوگ معاشی فائدہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تحفظ کا 30×30 ہدف: پاکستان میں محفوظ علاقوں کا مستقبل اور حیاتیاتی تنوع کا چیلنج

جنگ کا دوسرا محاذ: کاربن اخراج، اسلحہ سازی اور ماحولیاتی دیوالیہ پن کا عالمی بحران

سیاحت کے سیزن میں ان فش فارمز میں تیار ہونے والی مختلف اقسام کی ٹراؤٹ مچھلیاں علاقے کے بڑے ہوٹلوں کو بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ سیاح بھی اس مچھلی کو شوق سے کھاتے ہیں۔ اس طرح یہ آبی حیات مقامی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کر رہی ہے۔

محکمہ فشریز نے کئی علاقوں میں غیرقانونی شکار کے خلاف کریک ڈاون کے دوران کئی افراد کو گرفتار کرکے شکار کے آلات ضبط کرلیے ہیں

غیر قانونی شکار کے متاثرہ علاقے

گلگت کے علاقوں کارگاہ، جگلوٹ اور چکر کوٹ سمیت ضلع غذر کی وادیوں پھنڈر، گوپس، اشکومن اور پونیال میں اس نایاب مچھلی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ان علاقوں میں روزانہ سینکڑوں افراد دریاؤں اور ندی نالوں کے کنارے ٹراؤٹ مچھلی کا غیر قانونی شکار کرتے نظر آتے ہیں۔

محکمہ فشریز کے مطابق مارچ اور اپریل کے مہینوں میں مچھلیاں انڈے دیتی ہیں۔ اس دوران شکار دراصل ان کی نسل کشی کے مترادف ہے۔

محکمہ فشریز نے کئی علاقوں میں غیرقانونی شکار کے خلاف کریک ڈاون کے دوران کئی افراد کو گرفتار کرکے شکار کے آلات ضبط کرلیے ہیں

محکمہ فشریز کی کارروائیاں

صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ فشریز ضلع غذر نے غیر قانونی شکار کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ فشریز محمد یوسف کی ہدایت پر فیلڈ ٹیموں نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران آف سیزن میں ٹراؤٹ مچھلی کا شکار کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ان افراد سے شکار کے آلات بھی ضبط کیے گئے اور بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔

محکمہ فشریز کے حکام کا کہنا ہے کہ مچھلیوں کے غیر قانونی شکار کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

گلگت کے علاقے کارگاہ، جگلوٹ اور چکر کوٹ، ضلع غذر کی وادیاں پھنڈر، گوپس، اشکومن اور پونیال غیرقانونی شکار کے حوالے سے زیادہ بدنام ہیں۔

عوامی ردعمل

محکمہ فشریز کی کارروائیوں کو عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ٹراؤٹ مچھلی نہ صرف قدرتی ماحول کا اہم حصہ ہے بلکہ علاقے کی معیشت اور سیاحت کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے اس کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

عوام نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد یوسف اور ان کی فیلڈ ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں دیگر اضلاع میں بھی تیز کی جائیں گی۔

ٹراؤٹ مچھلی نہ صرف قدرتی ماحول کا اہم حصہ ہے بلکہ علاقے کی معیشت اور سیاحت کے لیے بھی انتہائی اہم، تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر

قدرتی وسائل کا مشترکہ تحفظ

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل کا تحفظ صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ٹراؤٹ مچھلی جیسی نایاب آبی حیات کا تحفظ محکمہ فشریز گلگت بلتستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ محکمہ محدود وسائل کے باوجود اس سلسلے میں کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اگر عوام قوانین کا احترام کریں، غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی کریں اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کریں تو اس قیمتی نسل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

بصورت دیگر یہ خدشہ موجود ہے کہ آنے والی نسلیں ان خوبصورت پہاڑی ندی نالوں میں تیرتی ہوئی ٹراؤٹ مچھلی کو صرف کتابوں اور تصویروں میں ہی دیکھ سکیں گی۔

admin

Recent Posts

جنگوں کی آگ میں زمین کی خاموش تباہی

جنگوں میں انسانی جانوں کے ساتھ زمین، پانی اور فضا بھی متاثرہو رہی ہیں، جنگی…

3 hours ago

پانی اور زمین کا مکالمہ:’’میں چمن میں خوش نہیں ہوں‘‘نمائش میں ماحولیاتی یادداشت کی کہانی

پانی اور زمین کا تعلق مصنف اور مصحف کا ہے، نمائش میں ساحلی زندگی، بھیانک…

1 day ago

پاکستان میں پانی کا بحران سنگین، درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ

پاکستان میں پانی کا بحران، موسمیاتی تبدیلی سے درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے اور…

4 days ago

موسمیاتی تبدیلی سے لڑتی بلوچستان کی خواتین فرنٹ لائن پر

بلوچستان کی دیہی خواتین موسمیاتی تبدیلی کے سخت اثرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ پانی…

4 days ago

تحفظ کا 30×30 ہدف: پاکستان میں محفوظ علاقوں کا مستقبل اور حیاتیاتی تنوع کا چیلنج

تحفظ اور ترقی کا توازن: حیاتیاتی تنوع کے عالمی بحران کے درمیان پاکستان کو مؤثر…

5 days ago

کچرا اور طاقت، پیسے اور ناانصافی کا عالمی نیٹ ورک

کچرا ترقی یافتہ ممالک کےلیے صاف کرنا مشکل، ری سائیکل ایبل مٹریل، اسکریپ یا ڈونیشن…

6 days ago

This website uses cookies.