WASH Facilities: Key Dialogue in Multan on Gender Inclusion and Climate Resilience
شائرین رانا (ملتان)
واٹر ایڈ پاکستان کے تعاون سے ملتان میں ایک اہم ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں صنفی طور پر حساس، جامع اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ واٹر، سینیٹیشن اور حفظانِ صحت (واش ) سہولیات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تقریب میں سول سوسائٹی، سرکاری اداروں، تعلیمی ماہرین، واٹر ایڈ پاکستان اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب کا مقصد تعلیمی اداروں، صحت کے مراکز اور دیگر عوامی مقامات پر محفوظ اور معیاری واش سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
مقررین نے کہا کہ خواتین، بچوں، افراد باہم معذوری اور دیگر کمزور طبقات کو بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی دینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ اس لیے صاف پانی اور سینیٹیشن کے نظام کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جنوبی پنجاب میں واش کے شعبے کو درپیش مسائل، چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی مشاورتی نشست منعقد ہوئی۔
اس میں بہترین عملی مثالوں (بیسٹ پریکٹسز / Best Practices)، قومی و عالمی تقاضوں اور جینڈر ریسپانسیو و انکلوسیو انفراسٹرکچر پر غور کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ صاف پانی اور صفائی صرف سہولت نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق ہے۔
واٹر ایڈ پاکستان کے نمائندے محمد سفیان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ گزشتہ چار دہائیوں سے دنیا بھر میں اس شعبے میں کام کر رہا ہے، جبکہ پاکستان میں 2006 سے سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ حکومت کے ساتھ شراکت داری میں کم لاگت اور موسمیاتی ہم آہنگ ماڈلز متعارف کرا رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اگرچہ پاکستان میں 90 فیصد سے زائد آبادی کو پانی تک رسائی حاصل ہے، لیکن محفوظ اور معیاری پینے کے پانی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔
نشست میں خواتین مقررین نے کہا کہ بیشتر اداروں میں آج بھی خواتین اور افراد باہم معذوری کے لیے قابلِ استعمال واش رومز موجود نہیں یا غیر فعال ہیں۔
یہ صورتحال ”کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے“ کے اصول کے منافی ہے۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صرف منصوبے بنانا کافی نہیں بلکہ ان کی مؤثر نگرانی اور عملدرآمد ضروری ہے۔
مقررین نے تجویز دی کہ ہر سرکاری ادارے کے سالانہ بجٹ میں پانی اور صفائی کے لیے علیحدہ بجٹ مختص کیا جائے۔
دوآبہ فاؤنڈیشن کے ہیڈ آف پروگرامز جاوید اقبال نے کہا کہ ترقی کے عمل میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست اور جامع انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی کمی، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
ان حالات میں مضبوط اور پائیدار انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے۔
تقریب میں نادر خان نے سوال اٹھایا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں معذور افراد کے لیے قابلِ استعمال واش رومز موجود نہیں۔
شرکاء نے اس مسئلے کو اہم قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات پر زور دیا۔
تقریب کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ویمن واش فورم لودھراں نے حکومت پاکستان کے سامنے مطالبات پیش کیے۔
ان میں واش سے متعلق پالیسی فریم ورک میں صنفی مساوات، معذور افراد کی شمولیت اور موسمیاتی ہم آہنگی کو شامل کرنے پر زور دیا گیا۔
مزید یہ کہ جی ای ڈی ایس آئی (GEDSI) اصولوں کو قومی و صوبائی پالیسیوں، معیارات اور بجٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں
گلگت بلتستان میں قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے نیا معاہدہ کارگر ہوگا؟
موسمیاتی تبدیلی اور طلبہ کی تعلیم: شدید موسم اور آلودگی سے تعلیمی کارکردگی متاثر
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام ادارے باہمی تعاون سے کام کرتے ہوئے ایسے اقدامات کو فروغ دیں گے جو معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مساوی سہولیات کو یقینی بنائیں۔
مقررین کے مطابق صنفی شمولیت، پالیسی اصلاحات اور موسمیاتی ہم آہنگی ہی ایک صحت مند اور منصفانہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث نشیبی علاقوں اور ویٹ لینڈز میں پانی کی کمی سے مرغابیوں…
پاکستان میں موسمیاتی بحران کبھی باقاعدہ ناپا ہی نہیں گیا۔ یہ وہ تباہی ہے جو…
ماحولیاتی تباہی موجودہ عالمی معاشی نظام میں سستی، قدرتی وسائل کا استحصال منافع بخش اور…
دنیا بھر میں 2.2 ارب افراد صاف پانی سے محروم، قلت، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی…
شدید موسمی انتہاؤں کا مطلب ہے کہ موسم صرف بدل نہیں رہا بلکہ انتہاؤں کی…
گرمی کے موسم میں لاکھوں ٹن بارود فضا میں چھوڑنے سے عالمی موسمیاتی نظام ہل…
This website uses cookies.