فروزاں فروزاں کے مضامین ماحولیاتی رپورٹس

زمین کے چھن جانے کا خوف، 1 ارب انسان عدم تحفظ کا شکار

Large group of community members holding “Land Rights” signs during a gathering advocating secure land ownership.

زمین کے چھن جانے کا خوف صرف قانونی مسئلہ نہیں۔ یہ ماحولیاتی، معاشی اور اخلاقی بحران بھی ہے، زمین کے حقوق کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے زوال، غذائی عدم تحفظ اور سماجی ناہمواری جیسے سنگین بحرانوں سے دوچار ہے۔ مگر ان تمام مسائل کے پیچھے ایک بنیادی سوال کھڑا ہے۔ زمین کس کی ہے؟ اور کس حد تک محفوظ ہے؟

اقوام متحدہ کی سرپرستی میں تیار کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد کو خدشہ ہے کہ اگلے 5 برسوں میں وہ اپنے گھر، زمین یا ذریعہ معاش سے محروم ہو سکتے ہیں۔ یہ ہر 4 میں سے ایک بالغ انسان بنتا ہے۔

یہ صرف قانونی مسئلہ نہیں۔ یہ ماحولیاتی، معاشی اور اخلاقی بحران بھی ہے۔

زمین کی ملکیت اور حکمرانی کی عالمی جانچ

یہ انکشاف رپورٹ “اسٹیٹس آف لینڈ ٹینیور اینڈ گورننس” میں سامنے آیا ہے۔ اسے اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت (یو این فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن – ایف اے او)، انٹرنیشنل لینڈ کولیشن (آئی ایل سی) اور فرانسیسی تحقیقی ادارہ سی آئی آر اے ڈی (سی آئی آر اے ڈی) نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔

یہ اپنی نوعیت کی پہلی جامع عالمی جانچ ہے۔ اس میں دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں زمین کس کی ملکیت ہے، کس طرح استعمال ہو رہی ہے اور حکمرانی کا نظام کس حد تک منصفانہ ہے۔

رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب دنیا پائیدار ترقیاتی اہداف، موسمیاتی ایکشن اور خواتین کے حقوق کی بات کر رہی ہے۔ مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔

Demonstrators holding signs reading “I am on Indigenous Land” during a public protest advocating land rights.
مظاہرین مقامی اقوام کے زمینی حقوق کے اعتراف کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو زمین کے عدم تحفظ اور غیر مساوی حکمرانی پر عالمی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔

زمین کا عدم تحفظ: خاموش نابرابری

رپورٹ کے مطابق دنیا کی صرف 35 فیصد زمین ایسی ہے جس کی ملکیت یا استعمال کے حقوق باقاعدہ دستاویزی ہیں۔ باقی زمین یا تو غیر دستاویزی ہے یا روایتی حق کے تحت استعمال ہو رہی ہے جسے ریاستی قانون تسلیم نہیں کرتا۔

اسی خلا نے زمین کے عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔

تقریباً 1.1 ارب افراد خود کو “لینڈ اِن سیکیور” سمجھتے ہیں۔ یعنی انہیں خدشہ ہے کہ وہ مستقبل قریب میں اپنی زمین یا گھر کھو سکتے ہیں۔

اس کے عملی اثرات بھی واضح ہیں۔ کسان طویل المدتی سرمایہ کاری سے گریز کرتا ہے۔ خاندان غذائی تحفظ حاصل نہیں کر پاتے۔ ماحولیاتی تحفظ کمزور ہو جاتا ہے۔

ایف اے او کے چیف اکانومسٹ میکسی مو ٹوریرو کولن کے مطابق زمین کا عدم تحفظ نابرابری کی بدترین شکلوں میں سے ایک ہے۔ اس کی قیمت کم پیداوار، کمزور لچک اور غذائی قلت کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔

زمین کی ملکیت: ارتکاز اور طاقت

اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔

دنیا کی 64 فیصد زمین قانونی طور پر ریاستوں کی ملکیت ہے۔ اس میں وہ زمین بھی شامل ہے جو مقامی برادریوں کے استعمال میں ہے مگر دستاویزی ملکیت نہیں رکھتی۔

صرف ایک چوتھائی زمین نجی ملکیت میں ہے۔

زرعی زمین، جو کل زمین کا تقریباً 37 فیصد ہے، اس میں سب سے بڑے 10 فیصد زمین دار تقریباً 90 فیصد قابل کاشت زمین پر قابض ہیں۔

یہ ارتکاز صرف معاشی ناانصافی نہیں۔ یہ غذائی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ ہے۔

علاقائی تفاوت

زمین کے حقوق خطے کے لحاظ سے مختلف ہیں۔

سب صحارا افریقہ میں 73 فیصد زمین روایتی نظام کے تحت ہے، مگر صرف 1 فیصد کو قانونی تسلیم حاصل ہے۔

شمالی امریکا میں 32 فیصد زمین نجی ملکیت میں ہے۔ لاطینی امریکا میں 39 فیصد۔ یورپ میں 55 فیصد، روس کو چھوڑ کر جہاں ریاستی ملکیت غالب ہے۔

یہ فرق تاریخ، نوآبادیاتی ورثے اور طاقت کے ڈھانچوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

Stylized illustration of indigenous people using tools on mountainous land, representing traditional livelihoods and connection to ancestral territory.
مقامی برادریاں بقا، ثقافت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنی روایتی زمینوں پر انحصار کرتی ہیں، مگر دنیا بھر میں ان کے زمینی حقوق کو بڑھتے خطرات لاحق ہیں۔

مقامی اقوام اور خواتین سب سے زیادہ متاثر

مقامی اقوام اور روایتی برادریاں دنیا کی 42 فیصد زمین پر آباد ہیں۔ یہ تقریباً 5.5 ارب ہیکٹر بنتی ہے۔ مگر ان میں سے صرف 1 ارب ہیکٹر زمین کو واضح قانونی تحفظ حاصل ہے۔

خواتین کی صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔ تقریباً ہر ملک میں خواتین زمین کی ملکیت اور محفوظ حق کے معاملے میں مردوں سے پیچھے ہیں۔

آئی ایل سی کی ڈائریکٹر مارسی ویگوڈا کے مطابق زمین کا عدم تحفظ خواتین اور نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ یہی بحران خوراک، موسمیاتی ایکشن اور حیاتیاتی تنوع کو کمزور کرتا ہے۔

روایتی زمینیں اور موسمیاتی بحران

روایتی زمینوں میں جنگلات، چراگاہیں، دلدلی علاقے اور ماہی گیری کے خطے شامل ہیں۔ ماضی میں انہیں پسماندہ سمجھا جاتا تھا۔ اب تسلیم کیا جا رہا ہے کہ یہی زمینیں موسمیاتی تحفظ کی بنیاد ہیں۔

تقریباً 4.2 ارب ہیکٹر روایتی زمین نقشہ بندی ہو چکی ہے۔ یہ انٹارکٹیکا کے علاوہ کل زمینی رقبے کا 32 فیصد بنتی ہے۔

ناقابلِ واپسی کاربن کا تحفظ

ایف اے او کے مطابق یہی روایتی زمینیں تقریباً 45 گیگا ٹن ناقابل واپسی کاربن محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ اگر یہ کاربن فضا میں خارج ہو گیا تو اسے دوبارہ جذب کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

یہ مقدار عالمی سطح پر ایسے کاربن کا 37 فیصد ہے۔

اس کے باوجود یہی زمینیں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ شہری پھیلاؤ، صنعتی زراعت، تیل و گیس، کان کنی اور حتیٰ کہ بعض سبز منصوبے جیسے بایوفیولز اور کاربن آف سیٹس ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض موسمیاتی حل خود زمین کے عدم تحفظ کو بڑھا رہے ہیں۔

زمین کے بغیر ترقی ممکن نہیں

رپورٹ کا پیغام واضح ہے کہ زمین کے محفوظ حقوق کے بغیر نہ پائیدار ترقی ممکن ہے، نہ موسمیاتی انصاف اور نہ غذائی خودمختاری۔

زمین محض معاشی وسیلہ نہیں۔ یہ شناخت، ثقافت اور بقا کی بنیاد ہے۔

یہ بھی پڑھیں

عالمی حدت کا فیصلہ کن دور: زمین کے لیے آخری انتباہ

دنیا ہوموجینوسین کے دور میں داخل، حیاتیاتی تنوع کو خطرہ

اگر عالمی برادری واقعی موسمیاتی بحران، بھوک اور عدم مساوات سے نمٹنا چاہتی ہے تو اسے زمین کے حقوق کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ خاص طور پر مقامی اقوام، خواتین اور دیہی آبادی کے لیے۔

بصورت دیگر، آئندہ 5 برسوں میں صرف زمین نہیں، انسانی اعتماد بھی کھو دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں