گلگت بلتستان میں پہلی پی سی ایف کلائمیٹ یوتھ سمٹ کا انعقاد

گلگت: (نامہ نگار) پروگریسو کلائمٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام گلگت بلتستان میں پہلی “کلائمیٹ یوتھ سمٹ 2025” کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے ماحولیاتی ماہرین، نوجوان قائدین، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور حکومتی افسران نے شرکت کی۔ سمٹ 12 جولائی کو تاریخی اولڈ اسمبلی ہال، چنار باغ گلگت میں منعقد ہوا۔

“نوجوان، گلیشیئرز اور مستقبل: پہاڑوں میں ماحولیاتی مزاحمت کی تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس سمٹ کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات، بالخصوص گلیشیئرز کے تحفظ اور نوجوانوں کے کردار پر غور و فکر کرنا تھا۔

سمٹ میں گلگت بلتستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، جرمن ریڈ  کراس، ، سرینا ہوٹلز،  پاکستان سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ، ڈیبلو ڈیبلو ایف، جز  اور دیگر اداروں نے معاونت فراہم کی۔

 جی بی سی پی اے کے ڈائریکٹر جناب خادم حسین نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 13,000 گلیشیئرز ہیں جن میں سے 8,400 گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مقامی علم کے فروغ اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر زور دیا۔

دو اہم پینل مباحثوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔ پہلے پینل میں نوجوانوں کی قیادت میں ماحولیاتی اقدامات اور گرین انٹرپرینیورشپ پر گفتگو کی گئی، جبکہ دوسرے پینل میں گلیشیئر پگھلنے اور پانی کی کمی جیسے چیلنجز پر تبادلہ خیال ہوا۔

 پی سیکے بانی اور سی ای او توصیف خان نے کہا کہ یہ سمٹ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور موسمیاتی حل تلاش کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات کے ذریعے نوجوانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان بہتر روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔

شریک اداروں کے نمائندوں نے بھی ماحولیاتی تحفظ میں نوجوانوں کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

محترمہ ثریا زمان، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی گلگت بلتستان نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت محدود وسائل کے باوجود ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں۔

تقریب کا اختتام نائب صدر پی سی ایف گلگت بلتستان محترمہ صفیہ کلثوم کے کلماتِ تشکر اور معزز مہمانوں میں یادگاری تحائف کی تقسیم سے ہوا۔ آخر میں نیٹ ورکنگ سیشن کا انعقاد کیا گیا جہاں نوجوان شرکاء اور ماہرین نے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی۔

admin

Recent Posts

جنگ اور ماحولیات کا بحران، خاموش تباہی جو مستقبل کو نگل رہی ہے

جنگ اور ماحولیات کا گہرا تعلق، ماہرین کا سنجیدہ انتباہ، موسمیاتی تبدیلی میں تیزی، آلودگی…

14 hours ago

پنجاب میں آلودگی: کیا فوری مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟

پنجاب میں آلودگی کا زہر ،فصلوں کی باقیات، صنعتی اخراج اور ٹرانسپورٹ کا دھواں صورتحال…

21 hours ago

گلگت میں غیر قانونی لکڑی کی ترسیل کے خلاف کریک ڈاؤن

گلگت میں غیر قانونی لکڑی کے خلاف سخت اقدامات، چیک پوسٹس پر کارروائیاں تیز، بھاری…

2 days ago

اسموگ بحران: پالیسی موجود مگر عملدرآمد بڑا چیلنج، ملک امین اسلم

ملک امین اسلم نے کہا کہ اسموگ سے نمٹنے کیلئے پالیسی اور ٹیکنالوجی موجود ہے…

2 days ago

باجوڑ میں جانور اور پرندے کم ہوتے جا رہے ہیں، بڑا خطرہ سامنے آگیا

باجوڑ میں معدوم ہوتی جنگلی حیات غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی…

3 days ago

موسمیاتی سفارتکاری یا توانائی کی عالمی جنگ؟

موسمیاتی سفارتکاری: کوپ 28 میں ماحولیات، معیشت اور سیاست کے متضاد مفادات آمنے سامنے، عالمی…

4 days ago

This website uses cookies.