Climate Disasters Mark 2025 in Khyber Pakhtunkhwa: Floods, Forest Fires and Environmental Challenges Intensify
شاہ خالد شاہ جی
سال 2025 بھی موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں شاید ہی کوئی سال ایسا گزرا ہو جس میں قدرتی آفات نے نقصان نہ پہنچایا ہو۔ 2025 میں بھی سیلاب، جنگلات میں آگ، پانی کی کمی اور زرعی نقصان جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔ تاہم بعض مثبت اقدامات بھی دیکھنے میں آئے جن سے امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ برس بہتر حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب کے واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 24 اگست 2025 تک 406 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان میں 305 مرد، 55 خواتین اور 46 بچے شامل تھے۔ 247 افراد زخمی ہوئے۔
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں بونیر اور باجوڑ شامل تھے۔ صوبے بھر میں 5 ہزار 727 مویشی ہلاک ہوئے۔ 577 مکانات مکمل تباہ اور 2 ہزار 946 جزوی متاثر ہوئے۔ 50 اسکول مکمل اور 239 جزوی طور پر تباہ ہوئے۔
گلگت بلتستان میں گلیشیئر پھٹنے کے واقعات نے بھی انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچایا۔
سوات میں دریائے سوات کے سیلاب میں 17 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے بعد حکومت نے دریاؤں کے کناروں سے تجاوزات ہٹانے کا عمل شروع کیا۔ کئی عمارتیں مسمار کی گئیں۔ تاہم چند ماہ بعد یہ آپریشن سست پڑ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آگاہی مہم اور مستقل حکمت عملی ناگزیر ہے۔
2025 کے پہلے پانچ ماہ میں جنگلات میں آگ لگنے کے 107 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے۔ زیادہ تر واقعات شدید گرمی اور خشک سالی کے دوران پیش آئے۔ سب سے زیادہ نقصان شانگلہ، لوئر دیر اور بونیر میں ہوا۔
تقریباً 2 ہزار 448 ہیکٹر جنگلات جل کر خاکستر ہوئے۔ قیمتی درخت مثلاً چیڑ اور دیودار متاثر ہوئے۔ شانگلہ کے علاقے مارٹنگ میں ایک ہی خاندان کے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ کروڑوں روپے کا معاشی نقصان ہوا۔ جنگلی حیات کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔
حکومت نے ‘پلانٹ فار پاکستان’ اور ‘گرین پاکستان پروگرام’ کے تحت کروڑوں پودے لگانے کا اعلان کیا۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق اگست 2025 تک تقریباً 71 کروڑ 32 لاکھ سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں۔ صوبے کا جنگلاتی رقبہ 26.5 فیصد تک پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج پودوں کی بقا ہے۔ نگرانی اور شفافیت کے بغیر اہداف محض اعداد و شمار تک محدود رہ سکتے ہیں۔
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں زرعی زمینوں پر تعمیرات میں اضافہ ہوا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس رجحان سے غذائی قلت اور ماحولیاتی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ قوانین موجود ہیں مگر عمل درآمد کمزور ہے۔
نومبر 2025 میں بیلم، برازیل میں کانفرنس آف پارٹیز کوپ 30 منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں دنیا کے تقریباً 200 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستانی وفد نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ملک کے طور پر اپنا کیس مؤثر انداز میں پیش کیا اور عالمی برادری کی توجہ حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی بجٹ 2026-27 پاکستان میں کیا طے پایا ہے؟
دنیا ہوموجینوسین کے دور میں داخل، حیاتیاتی تنوع کو خطرہ
سال 2025 نے واضح کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی، سماجی اور انسانی بحران بھی ہے۔ اگر مؤثر منصوبہ بندی، قانون پر عمل درآمد اور عوامی شمولیت کو یقینی نہ بنایا گیا تو آنے والے سال مزید چیلنجز لے کر آ سکتے ہیں۔
مون سون سیزن میں ماہرین نے زور دیا کہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے…
کراچی میں بارش کا امکان، محکمہ موسمیات نے 6 اپریل کو سندھ کے مختلف علاقوں…
جنگ کا ماحولیاتی چہرہ عالمی میڈیا کی ترجیحات میں اب بھی ثانوی، ماہرین نے جنگی…
پاکستان میں بڑھتے ہوئے آبی بحران، ماہرین کی وارننگ اور واٹر اسٹیورڈشپ کانفرنس 2026 میں…
کراچی میں بارش،مختلف علاقوں میں معتدل سے تیز بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ مزید دو اسپیلز…
توازن کے بغیر زمین غیر محفوظ۔ جانوروں کے حقوق، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ انسان…
This website uses cookies.