گفتگو: محمود عالم خالد، روبینہ یاسمین
بخاری ٹریول کے گروپ چیئرمین سردار محمد رفیق خان کا شمار اُن شخصیات میں کیا جاتا ہے جنہوں نے پاکستان میں سیاحتی صنعت کو مقبولِ عام بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
اُن کے ادارے کی مسلسل کاوشوں اور آگاہی مہمات میں نہ صرف سیاحت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا بلکہ پائیدار اور ذمہ دار سیاحت کے تصور کو بھی فروغ ملا، جس سے عوامی سطح پر اس شعبے کے بارے میں شعور اور دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
فروزاں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے دنیا کے خوش نصیب ممالک میں شامل ہے۔
شمالی علاقہ جات کی وادیاں، پہاڑ اور جھیلیں ہوں یا جنوب کے ساحل، صحرا اور قدیم تہذیبوں کے آثاریہ سب ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے زبردست کشش رکھتے ہیں۔
تاہم سردار رفیق نے اس بات پر زور دیا کہ سیکیورٹی، بنیادی سہولیات کی کمی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مسائل اب بھی پاکستان میں سیاحتی صنعت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
اُن کے نزدیک اگر سنجیدہ پالیسی سازی، مقامی کمیونٹیز کی شمولیت اور پائیدار سیاحت کو ترجیح دی جائے تو یہ شعبہ نہ صرف پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کر سکتا ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
موسمیاتی اور ماحولیاتی مسائل کے بارے میں کیے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم نے ان مسائل پر توجہ مرکوز نہیں کی اور انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا تو اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سے ایک ایسا اقدام ہے جسے ملک کا ہر فرد اپنی انفرادی حیثیت میں کر سکتا ہے اور وہ ہے شجر کاری۔
بخاری ٹریول کے گروپ چیئرمین سردار محمد رفیق خان نے کہا کہ اگر ہر فرد ایک پودا لگانے کی ذمہ داری لے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو پاکستان کے ماحولیاتی مسائل میں کافی کمی آ سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم لوگ درختوں کو کاٹنے میں بہت آگے ہیں،میرا کہنا ہے کہ درخت کاٹیں لیکن اس کی جگہ پودا ضرور لگائیں۔
گروپ چیرمین بخاری ٹریول کا کہنا تھا کہ میں اپنے طور پر یہ کام ذمہ داری سمجھتے ہوئے کر رہا ہوں،ہم نے اپنی زمینوں پر 40ہزار درخت لگائے ہیں اور اسے ایک لاکھ تک لےجانے کا عزم ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اپنی بھینس کالونیوں کو رحمت کی جگہ زحمت بنا دیا ہے۔
بھینس کالونیوں کا فضلہ سمندروں میں جا رہا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف پانی آلودہ ہو رہا ہے بلکہ ہماری آبی حیات بھی تباہ ہو رہی ہے ۔
علاوہ ازیں اس کے ساتھ جو لوگ سمندر کے آلودہ پانی میں نہاتے ہیں آگہی اور شعور کی کمی کے باعث ان کو اندازہ ہی نہیں کہ سمندر آبی آلودگی کا شکار ہے چناچہ وہ اپنے ساتھ بیماریاں لے کر گھر جاتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنے فارم ہاؤس میں بھینس کالونی بنائی ہے جس سے میں بایو گیس کے ساتھ بجلی بھی بنا رہا ہوں اور اس سے جو فضلہ نکلتا ہے اس سے کھاد بنا رہا ہوں اس کھاد سے جو سبزیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ نہ صرف صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں بلکہ وہ عام کھاد سے دوگنی پیداوار بھی دے رہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں سردار محمد رفیق نے بتایا کہ میں اٹھارہ سال کی عمر سے سیاحتی شعبے سے وابستہ ہوں اور 1973میں میں نے اپنے دوست سے بخاری ٹریول خریدی۔ اس زمانے میں سیاحت کے فروغ کے لیے زیادہ کام بھی نہیں ہوتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں بے شمار سیاحتی مقامات ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو علم نہیں تھا، ہم نے بخاری ٹریول کے ذریعے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ہماری ملک بھر میں ساٹھ برانچز ہیں اور دو ہزار لوگ ہمارے ٹریول ایجنٹ ہیں۔
اس سفر میں ہمیں کافی مشکلات کا سامنابھی کرنا پڑا لیکن ہم نے اپنا سفر جاری رکھا اور آج اللہ کے کرم سے ہم مطمئن ہیں کہ ہم نے سیاحت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں گروپ چیرمین نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں اور ان مسائل کی وجہ سے ہم متعدد ایسی بیماریوں کو سامنا کر رہے ہیں جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی اور نہ ہی سنی گئی اور وہ بھی بغیر کسی تخصیص کے ہر عمرکے لوگ اس میں مبتلا ہورہے ہیں، اس لیے ہم سب کو اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم من حیث ا لقوم کچرا گلی محلوں اور کھلی جگہوں پر جلاتے ہیں ہمیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اس سے صحت کے کتنے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری ان سماجی اور ماحولیاتی تنظیوں کی بنتی ہے کہ وہ نچلی سطح پر آگہی کو فروغ دیں اور لوگوں کو بتائیں کہ ان کے اس عمل سے وہ خود کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
بخاری ٹریول کے گروپ چیرمین سردار رفیق نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کا کام اب شروع ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
فی کس قابلِ تجدید پانی میں 7٪ کمی: آبی بحران کی وارننگ
ماحولیاتی کارکنوں کا قتل کیوں ہو رہا ہے؟
فلم آئٹم :کیا خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک مضبوط آواز ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں سیاحت کے شعبے میں اتنے مواقع ہیں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتاہے کیوں کہ ہمارے پاس سمندر، دریا، برفیلے پہاڑ اور صحرا سمیت سب کچھ ہے لیکن ہم اس پر توجہ کم دیتے ہیں۔
بخاری ٹریول کے گروپ چیرمین سردار رفیق نے کہا کہ اس حوالے سے میڈیا کو بھی اس طرف متوجہ ہونے کی اور آگہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل اس جانب متوجہ ہو اور ا س شعبے کو اپنائے۔
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.