نابینا بلھن کی موت

فروزاں رپورٹ

اب یہ صرف سندھ میں گدو اور سکھر بیراج تک محدود ہو چکی ہے

دادو کینال میں آجانے والی انڈس ڈولفن پھکا ڈسٹریبیوٹری المعروف امب موری سے کئی کلومیٹر نیچے مردہ حالت میں پائی گئی۔ سندھ وائیلڈ لائیف پروٹیکشن ایکٹ 2020 کے تحت دو ملزمان پر ڈولفن کے اقدام قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ سکھر بیراج سے بذریعہ دادو کینال راستہ بھٹک کر دادو شہر کے قریب 123میل پر واقع ”پھکا ڈسٹریبیوٹری” جو کہ ”امب موری” کے نام سے جانی جاتی ہے، میں آجانے والی انڈس ڈولفن کو پہلے شرپسندوں نے نہر سے نکالا، فوٹو کھنچوائے، سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے تھے۔

یاد رہے کہ نایاب نابینا ڈولفن جسے سندھی زبان میں بلھن کہا جاتا ہے کا پہلا سروے سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جور جیوپیلری نے 1974میں کیا تھا۔ پاکستان میں پائی جانے والی اندھی ڈولفن جو دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی کچھ عرصہ پہلے تک پنجاب کے کچھ نہری علاقوں میں بھی موجود تھی مگر اب یہ صرف سندھ میں گدو اور سکھر بیراج تک محدود ہو چکی ہے۔

واقعہ کا پتہ چلنے پر پر سندھ وائیلڈ لائیف ڈپارٹمنٹ دادو کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ کا جائزہ لیا اور شواھد جمع کیے۔سندھ وائیلڈلائف ڈپارٹمینٹ کے عملے نے اریگیشن ڈپارٹمینٹ کے عملے کی مدد سے انڈس ڈولفن کو مذکورہ نہر میں تلاش کرنے کا عمل اس کے زندہ ہونے کی امید پر شروع کیا تاکہ ڈولفن کو ریسکیو کرنے کے بعد واپس دریائے سندھ پہنچایا جائے لیکن بدقسمتی سے انڈس ڈولفن جائے وقوعہ سے تقریباً 8 کلومیٹر دور گاؤں گلن پنھور کے قریب مردہ حالت میں پائی گئی۔

انڈس ڈولفن کو نہر سے نکالنے والے شرپسندوں غلام سرور اور مدھون خان کے خلاف سردار علی شاہ کی مدعیت میں تحفظ جنگلی حیات قوانین کے مطابق فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا۔مہکمہ جنگلی حیات سندھ کے سربراہ جاوید مہر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ قانون کے مطابق انڈس ڈولفن کو نقصان پہونچانے پر5سال کی قیداور ساڑھے 7لاکھروپے جرمانہ کہ سزا ہے، انھوں نے بتایا ککہ مقدمے کا ٹرائل سیشن جج ضلع دادو کی عدالت میں ہو گا۔

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے اردگرد موجود انہار پر نظر رکھیں، انڈس ڈولفن کی موجودگی کی اطلاع قریبی تھانہ، اسکول ٹیچر یا ہمیں دیں۔ کسی بھی شخص کو انڈس ڈولفن کو پانی سے نکالنے کی اجازت ہرگز نا دیں اس لیے کہ ڈولفن کو اس طرح پانی سے نکالنے سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا کیونکہ کہ جلد خشک ہونے کے ساتھ ہی ڈولفن مرجاتی ہے۔

admin

Recent Posts

جنگ اور ماحولیات کا بحران، خاموش تباہی جو مستقبل کو نگل رہی ہے

جنگ اور ماحولیات کا گہرا تعلق، ماہرین کا سنجیدہ انتباہ، موسمیاتی تبدیلی میں تیزی، آلودگی…

8 hours ago

پنجاب میں آلودگی: کیا فوری مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟

پنجاب میں آلودگی کا زہر ،فصلوں کی باقیات، صنعتی اخراج اور ٹرانسپورٹ کا دھواں صورتحال…

16 hours ago

گلگت میں غیر قانونی لکڑی کی ترسیل کے خلاف کریک ڈاؤن

گلگت میں غیر قانونی لکڑی کے خلاف سخت اقدامات، چیک پوسٹس پر کارروائیاں تیز، بھاری…

1 day ago

اسموگ بحران: پالیسی موجود مگر عملدرآمد بڑا چیلنج، ملک امین اسلم

ملک امین اسلم نے کہا کہ اسموگ سے نمٹنے کیلئے پالیسی اور ٹیکنالوجی موجود ہے…

2 days ago

باجوڑ میں جانور اور پرندے کم ہوتے جا رہے ہیں، بڑا خطرہ سامنے آگیا

باجوڑ میں معدوم ہوتی جنگلی حیات غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی…

3 days ago

موسمیاتی سفارتکاری یا توانائی کی عالمی جنگ؟

موسمیاتی سفارتکاری: کوپ 28 میں ماحولیات، معیشت اور سیاست کے متضاد مفادات آمنے سامنے، عالمی…

4 days ago

This website uses cookies.