Workshop
رپورٹ : فرحین، نمائندہ خصوصی اسلام آباد
کراچی: ماحولیات تبدیلوں کی وجہ سے خواتین کو درپیش مسائل کے متعلق میڈیا میں آگاہی بہت ہی کم ہے،یہ بات سیئنر صحافی مبشر بخاری نے کراچی میں منعقد تین روزہ میڈیا ٹریننگ ورک شاپ میں کہی۔ جس کا انعقاد میڈیا فاؤنڈیشن 360 اور امریکی قونصل خانے کے اشتراک سے ایک ہوٹل میں کیا گیا۔
ماحولیاتی رپورٹنگ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ماحولیاتی مسائل کو بھی زیادہ اجاگر نہیں کیا جاتا۔ اس کی ایک وجہ اداروں کی پالیسیاں اور سیاست پر زیادہ توجہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ابھی تک انسانی دماغ کا نعم البدل ثابت نہیں ہوسکی، میڈیا میں صحافیوں کے لیے رپورٹنگ کے حوالے سے تربیت کی بہت ضرورت ہے۔
ورک شاپ کا موضوع “رپورٹنگ کے ذریعے پاک امریکہ تعلقات کا فروغ”تھا۔ جس میں پرنٹ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا کہ 25 صحافیوں نے شرکت کی۔
ورکشاپ میں صحافت کے مختلف پہلوؤں جیسے فیکٹ چیکنگ، اخلاقی رپورٹنگ، اور ایسے مسائل کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا جنہیں عام طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
سینئر صحافی لبنا جرار نے فیکٹ چیکنگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں حقائق کی تصدیق صحافت کا لازمی جزو بن چکی ہے- انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف صحافیوں کی ساکھ مضبوط کرتی ہے بلکہ عوام کو درست معلومات فراہم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
ورک شاپ میں بنیادی طور پر “تحقیقاتی صحافت” کے فروغ پر زور دیا گیا۔ اور” یو ایس ایڈ” پروگرام کے تحت سندھ میں جاری منصوبوں کے بارے میں آ گاہی فراہم کی گئی۔
زمین کے چھن جانے کا خوف صرف قانونی مسئلہ نہیں۔ یہ ماحولیاتی، معاشی اور اخلاقی…
بدلتا موسم، بدلتی حکمتِ عملی: عالمی اسپورٹس اداروں کی میچ ٹائم، وقفوں اور ہیٹ پروٹوکول…
گلگت میں اسمگلرز کو 10 لاکھ جرمانہ اور 6 ماہ قید، جنگلات کا تحفظ قومی…
ایشیا پیسفک پائیدار ترقیاتی اہداف کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک اہداف صرف…
امریکی برفانی طوفان صرف موسمی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام میں گہرے بگاڑ…
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کردیا، محتاط رہنے کی اپیل کی،…
This website uses cookies.