فروزاں وائلڈ لائف

گلگت بلتستان میں سیزن کی پہلی کامیاب ٹرافی ہنٹنگ، مقامی کمیونٹی کو بڑا معاشی فائدہ

First International Trophy Hunting Successfully Conducted in Skoli, Shigar District Baltistan

گلگت بلتستان میں ہمالیائی آئی بیکس کے قانونی شکار سے حاصل آمدن کا 80 فیصد حصہ تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگا

گلگت بلتستان کے دور افتادہ پہاڑی علاقے اسکولی میں پہلی بار بین الاقوامی معیار کی ٹرافی ہنٹنگ کامیابی سے مکمل کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام جنگلی حیات کے تحفظ، مقامی معیشت کی مضبوطی اور کمیونٹی کی شمولیت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

یہ سرگرمی ضلع شگر کے اسکولی برالدو کمیونٹی کنٹرولڈ ہنٹنگ ایریا میں اور بیافو گلیشیئر کے قریب منعقد ہوئی

ٹرافی ہنٹنگ کی تفصیل

یہ سرگرمی ضلع شگر کے اسکولی برالدو کمیونٹی کنٹرولڈ ہنٹنگ ایریا میں اور بیافو گلیشیئر کے قریب منعقد ہوئی۔ محکمہ وائلڈ لائف بلتستان اور مقامی آبادی نے اسے مثبت اور خوش آئند قدم قرار دیا۔

محکمہ کے مطابق 9 فروری 2026 کو سیزن کی پہلی بین الاقوامی ٹرافی ہنٹنگ ہوئی۔ سرکاری پروگرام کے تحت اسپین سے تعلق رکھنے والے شکاری نے قانونی اجازت نامے کے ساتھ ٹرافی سائز نر ہمالیائی آئی بیکس کا شکار کیا۔

اسی طرح 40 انچ سینگوں والے نایاب ہمالیائی مارخور کے لیے بھی باقاعدہ پرمٹ حاصل کیا گیا، جس کی فیس 6 ہزار 600 امریکی ڈالر ادا کی گئی۔

یہ بلتستان ریجن میں رواں سیزن کی پہلی کامیاب ٹرافی ہنٹنگ ہے اور اسکولی برالدو کی تاریخ میں بھی پہلا موقع ہے

شفاف نظام اور حکومتی نگرانی

رینج فاریسٹ آفیسر کے مطابق یہ بلتستان ریجن میں رواں سیزن کی پہلی کامیاب ٹرافی ہنٹنگ ہے اور اسکولی برالدو کی تاریخ میں بھی پہلا موقع ہے۔ پروگرام حکومتی پالیسی، واضح ضابطہ اخلاق اور ماہرین کی نگرانی میں منعقد کیا جاتا ہے تاکہ قدرتی توازن برقرار رہے اور جانوروں کی افزائش متاثر نہ ہو۔

اسپین سے تعلق رکھنے والے شکاری نے قانونی اجازت نامے کے ساتھ ٹرافی سائز نر ہمالیائی آئی بیکس کا شکار کیا

مقامی کمیونٹی کو براہِ راست فائدہ

ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد مقامی کمیونٹی کو دیا جائے گا جبکہ 20 فیصد سرکاری خزانے میں جمع ہوگا۔ یہ رقم تعلیم، صحت، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات پر خرچ کی جائے گی۔ اس سے مقامی لوگوں کو روزگار اور معاشی استحکام ملے گا۔

شکار کے دوران ایک مقامی ماؤنٹین گائیڈ کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔

شکار کے دوران ایک مقامی ماؤنٹین گائیڈ کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے

تحفظ اور پائیداری اولین ترجیح

حکام کا کہنا ہے کہ شکار کی اجازت صرف مخصوص عمر اور معیار کے جانوروں تک محدود ہوتی ہے۔ اس سے نایاب نسلوں کی افزائش محفوظ رہتی ہے اور ماحولیات کو نقصان نہیں پہنچتا۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ کے جنگلات اور ٹمبر مافیا:سبز دولت ختم ہوری ہے

موسمی چیلنجز کے باوجود پائیدار آمدنی کے مواقع

علاقہ مکینوں اور ماہرین کے مطابق اس پروگرام سے نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کو تقویت ملے گی بلکہ گلگت بلتستان میں مقامی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔ خطے میں ٹرافی ہنٹنگ ک سیزن اکتوبر سے اپریل تک جاری رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں