فروزاں کے مضامین

دو ہزار پچیس کا مونسون: رحمت یا آزمائش

فرحین (اسلام آباد)

دو ہزار پچیس کا مونسون ایک موسمی امتحان ہے جو ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی محض مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔

مونسون، جو کبھی زمین کی زرخیزی کی علامت تھا، اب ماحولیاتی اضطراب کی نوید بن چکا ہے۔جنوبی ایشیائی موسمیاتی جائزہ فورم (ساؤتھ ایشیا کلائمیٹ آؤٹ لک فورم ایس اے سی او ایف) نے 2025 کے جنوب مغربی مونسون (جون تا ستمبر) کے بارے میں جو پیش گوئی کی ہے، وہ ایک نئے موسمی چیلنج کی علامت بن کر ابھری ہے۔ایس اے سی او ایف کا قیام 2010 میں ہوا تاکہ جنوبی ایشیائی ممالک باہمی اشتراک سے موسمیاتی پیش گوئی، معلومات کے تبادلے، اور موسمیاتی خطرات کے تدارک میں ایک دوسرے کے معاون بن سکیں۔ یہ فورم ڈبلیو ایم او کے عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہے، جو دنیا بھر میں ریجنل کلائمٹ آؤٹ لک فورمز کے ذریعے ممالک کو موسمیاتی معلومات فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایشیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ بارش کا امکان ہے، جبکہ کئی شمالی و مشرقی علاقوں میں بارش معمول سے کم بھی رہ سکتی ہے۔عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، اس مونسون سیزن میں درجہ حرارت بھی اوسط سے زیادہ رہنے کا قوی امکان ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

مونسون: معیشت کی بنیاد یا خطرے کی گھنٹی؟

جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک کے لیے مونسون محض بارش کا موسم نہیں، بلکہ یہ زرعی معیشت، غذائی تحفظ، اور آبی وسائل کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے۔ سالانہ بارش کا 75 سے 90 فیصد حصہ اسی سیزن میں آتا ہے، جو کہ زیرزمین پانی، جھیلوں، اور دریاؤں کو بھرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔مگر یہ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ شدید بارش، سیلاب، فصلوں کی تباہی اور انسانی جانوں کا ضیاع اس مونسون کا دوسرا چہرہ بن چکے ہیں۔

مہکمہ موسمیات پاکستان

مہکمہموسمیات کے ڈائریکٹر جنرل مہر صاحبزاد خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مونسون 2025 کی فور کاسٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مون سون سیزن عموما جولائی، اگست اور ستمبر کے مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے، ان تین مہینوں کے علاوہ ملک میں دسمبر، جنوری اور فروری میں بھی کچھ بارشیں ہوتی ہیں جسے ہم ونٹر سیزن کہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم ملکی اور بین ا لاقوامی اداروں سے فور کاسٹ کے لیے مدد لیتے ہیں، اس کے بعد ہی مہکمہ کی جانب سے مون سون کی فور کاسٹ جاری کیجاتی ہے۔ ایم ڈی میٹ کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی ہمارا فلڈ سیزن بھی جڑا ہوا ہوتا ہے جو 15جون سے 15اگست تک ہوتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہم نے ماڈلز کو استمال کرتے ہوئے نتیجہ نکالا ہے کہ ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں معمول سے 30فیصد زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔

مہر صاحبزاد خان کا کہنا تھا کہ شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں بھی معمول سے زیادہ بارشیں ہیں، کیوں کہ یہ علاقے دریاؤں سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے ہم اس امر کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ سیلاب نہیں آئیں گے، انھوں نے کہا کہ چونکہ کیچ مینٹ ایریا میں بارشیں زیادہ ہیں اس لیے سیلاب کے چانسیزہیں جب کہ شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان اور کے پی کے شمالی علاقوں میں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں اور اگر بارشیں کم یا نہیں ہوتی ہیں تو وہاں کا درجہ حرارت زیادہ ہو گا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گلشئیر پگھلتے ہیں جس کے باعث دریاؤں میں پانی زیادہ آتا ہے اس وجہ سے گلاف کے ایونٹ زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ان کیا کہنا تھا کہ روں سال برف باری بھی معمول سے کم ہوئی ہے۔

مہکمہ موسمیات کے سربراہ نے بتایا کہ اگر بارشیں زیادہ ہوتی ہیں یا درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے تو بالائی علاقوں میں انتہائی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے فلیش فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا بھی امکان ہے۔انھوں نے اسٹیک ہولڈرز سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فور کاسٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات اٹھائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گرد آلود ہوئیں،چھکڑ،ژالہ باری اور آندھی وقتی طور پر درجہ حرارت میں کمی کا سبب بھی بن سکتی ہے جب کہ موسلا دحار بارشوں کی وجہ سے سندھ، پنجاب،جموں و کشمیر اور ک پی کے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بارش کا ایک اسپیل بھی کچھ دنوں کے لیے آ جائے تو وہ سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے جیسے 2010اور 2014میں ہوا تھا کہ زیادہ سے زیادہ بارشیں جولائی کے مہینے میں ہو گئی تھی اس کے بعد بارشوں کا دورانیہ کم ہوتا چلا گیا لیکن اس کے نتیجے میں پورا سیزن اگست تک سیلابی کیفیت سے دوچار رہا کیوں کہ پانی کو سمندر تک جانے میں 20سے 25دن لگتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زیادہ نہیں تھے اس وقت بارشیں 7دن تک ہوتی تھیں لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جو بارشیں دو چار دنوں میں ہونا ہوتی ہیں وہ دو چار گھنٹوں میں ہی ہو جاتی ہیں جوخطرناک صورتحال ہوتی ہے اور اس صورتحال سے بچنے کے لیے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہو گا۔

پاکستان کے لیے انتباہ

پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ پیش گوئی ایک رحمت اور آزمائش دونوں ہو سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف پانی کی قلت کے شکار علاقوں میں بارش سے آبی ذخائر میں بہتری آئے گی، وہیں شہری سیلاب، فصلوں کی تباہی، اور وبائی امراض کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔حکومتی اداروں، بلدیاتی محکموں، اور کسان برادری کو چاہیے کہ وہ پیشگی اقدامات کریں، جیسے:ندی نالوں کی صفائی،فصلوں کی بروقت کٹائی،پانی کی ذخیرہ اندوزی،شہری انفراسٹرکچر کی مرمت وغیرہ۔

کیا ہم تیار ہیں؟

2025 کا مونسون ایک موسمی امتحان ہے جو ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی محض مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صرف بارش کی شدت پر نہ رُکیں، بلکہ اس کے اثرات، انتظام، اور عوامی شعور کی سمت میں بھی سرمایہ کاری کریں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کا کہنا ہے کہ موسمیاتی پیشگی وارننگز کی بروقت فراہمی نہ صرف انسانی جانیں بچاتی ہیں بلکہ معیشت کو بھی اربوں کے نقصان سے بچاتی ہے،سبز معیشت، ماحولیاتی انصاف، اور سائنسی منصوبہ بندی ہی وہ راستے ہیں جن سے ہم اس مونسون کو ایک تباہی کے بجائے ترقی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں