فروزاں کے مضامین

ماحولیات کا دن، بچوں کا ماحول دوست میلہ

تحریر: خلیل رونجھو

بچوں کے دل میں فطرت سے محبت ڈالنا، ان کی سوچ کو صاف فضا، نیلے آسمان، اور ہرے بھرے درختوں سے جوڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

عالمی یوم ماحولیات ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو درپیش ماحولیاتی مسائل جیسے فضائی، آبی اور زمینی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، موسمیاتی تبدیلی، اور حیاتیاتی تنوع کے خاتمے کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین، اس کے قدرتی وسائل اور ماحول کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور طبی جریدہ ’دی لینسیٹ‘ کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بچوں کا مستقبل شدید خطرے سے دوچار ہے کیونکہ کوئی بھی ملک ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ، صاف ماحول کی فراہمی اور بچوں کی صحت و نشوونما کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کررہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماحولیاتی تبدیلی، عدم مساوات، مہاجرت، تصادم، اور کاربن کے حد سے زیادہ اخراج جیسے عوامل بچوں کی صحت کو متاثر کررہے ہیں حتیٰ کہ خوشحال ممالک بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ تین بنیادی پیمانوں نشوونما، پائیداری، اور مساوات میں کوئی بھی ملک مکمل طور پر کامیاب نہیں رہا۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ تمام ممالک کو اپنے ترقیاتی ایجنڈے میں بچوں کی فلاح کو اولین ترجیح دینی چاہیے تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، منصفانہ اور صحت مند زندگی میسر آ سکے۔

ان حالات میں بچوں کو ماحول دوست بنانا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے، کیونکہ آج کے بچے ہی کل کے ذمہ دار شہری ہوں گے۔ جب بچپن سے ہی بچوں میں ماحول سے محبت، درخت لگانے، پانی بچانے، اور صفائی رکھنے جیسی عادتیں پیدا کی جائیں، تو وہ نہ صرف خود ماحول کا خیال رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بنتے ہیں۔

اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ”ماحولیات کے عالمی دن” کے موقع پر لسبیلہ میں سماجی تنظیم وانگ کی جانب سے کاکاز گارڈن بیلہ میں ایک رنگارنگ پروگرام ماحول دوست میلہ کا انعقاد کیا گیا، تاکہ بچوں کو عملی سرگرمیوں کے ذریعے ماحول کی اہمیت سے روشناس کرایا جا سکے۔ اس پروگرام میں بچوں نے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق مختلف تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جیسے پودے لگانا، تصویری مقابلے، ری سائیکلنگ، اور ماحولیاتی پیغامات پر مبنی تقاریر۔ اس کا بنیادی مقصد بچوں کے دل و دماغ میں ماحول سے محبت پیدا کرنا اور ایک صاف، سرسبز اور صحت مند مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔

وانگ کی کوآرڈینیٹر حفصہ رونجھو نے افتتاحی سیشن میں ماحولیاتی مسائل پر عالمی تناظر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ ماحولیات ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ صرف سائنسی یا حکومتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک اخلاقی، معاشرتی اور انفرادی فریضہ ہے۔ انہوں نے بچوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آج کے بچوں کو ماحول دوست بنائیں گے تو کل کا مستقبل خود بخود محفوظ ہو جائے گا۔

افراز قادر نے بچوں سے نہایت دلچسپ اور بصیرت افروز انداز میں گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ ماحول دوستی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ زمین پر زندگی محفوظ ہو، تو ہمیں پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے بچوں کو کپڑے کے تھیلے، دوبارہ قابلِ استعمال بوتلیں، اور ری سائیکلنگ کی اہمیت سمجھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانی کتابیں، کھلونے، اور کپڑے دوسروں کے کام آ سکتے ہیں۔ انہوں نے بچوں کو بجلی اور پانی کی بچت سکھائی اور کہا کہ اگر ہر بچہ ایک پودے کی ذمہ داری لے تو زمین کی فضا بدل سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر یہ بات اجاگر کی کہ قدرتی مقامات جیسے پارک، دریا، اور پہاڑ صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ ہمارے سانس لینے کے لیے ضروری ہیں، اس لیے ان کی صفائی اور حفاظت ہر بچے کی ذمہ داری ہے۔

اعتزاز خلیل نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سائنسی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا: موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز نہ صرف ایک عالمی مسئلہ ہیں بلکہ یہ بچوں کے حال اور مستقبل پر براہِ راست منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ، غیر متوقع موسم، بارشوں کا بے ترتیب ہونا، گرمی کی شدید لہریں، اور ہوا میں آلودگی جیسے عوامل بچوں کی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں دمے، الرجی، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں، اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے—اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والی آبادی ”بچے” ہیں، جو ان ماحولیاتی بحرانوں کے لیے ذمہ دار نہیں، مگر نتائج بھگتنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملک ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے اپنے بچوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر پا رہا۔ حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس معاملے میں پیچھے ہیں۔ شدید گرمی، خوراک کی قلت، اور صاف پانی کی عدم دستیابی جیسے چیلنجز بچوں کی نشوونما، تعلیم اور ذہنی سکون کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر ہم نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو کل کی نسلیں نہ صرف بیمار ہوں گی، بلکہ ایک ایسی دنیا میں جینے پر مجبور ہوں گی جہاں صاف ہوا اور صاف پانی ایک خواب بن جائے گا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ بچوں کو آج ہی سے ماحول کی اہمیت سمجھائی جائے، انہیں محفوظ فضا دی جائے اور انہیں ان فیصلوں کا حصہ بنایا جائے جو ان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

پروگرام میں بچوں نے ماحول دوست سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے پودے لگائے اور ان کی نگہداشت کا عہد کیا، پرانی اشیاء کو ری سائیکل کر کے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا، اور تصویری نمائش کے ذریعے ماحولیاتی پیغامات پیش کیے۔ بچوں نے تقاریر اور نظمیں بھی پیش کیں جن میں زمین سے محبت، پلاسٹک سے پرہیز، اور فطرت سے جڑے رہنے جیسے موضوعات شامل تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ماحول دوستی کے نعرے لیے واک کا بھی اہتمام کیا اور ماحولیات سے متعلق ویڈیو بلاگز بنا کر اپنا پیغام تخلیقی انداز میں دوسروں تک پہنچایا۔ ان سرگرمیوں نے بچوں میں شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ حاضرین کو بھی متاثر کیا۔

یہ پروگرام اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اگر ہم سنجیدگی سے بچوں کی تربیت ماحول دوست انداز میں کریں تو وہ نہ صرف باشعور شہری بن سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک سرسبز دنیا چھوڑ سکتے ہیں۔ بچوں کے دل میں فطرت سے محبت ڈالنا، ان کی سوچ کو صاف فضا، نیلے آسمان، اور ہرے بھرے درختوں سے جوڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ وانگ کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے کہ اس نے بچوں کو صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی طور پر ماحول سے جوڑنے کی کامیاب کوشش کی۔
اگر ایسے پروگرام ہر محلے، ہر اسکول، اور ہر شہر میں منعقد ہوں، اور ہر بچہ صرف ایک اچھا کام ماحول کے لیے کرنے کا عہد کرے، تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ زمین کا مستقبل روشن ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں