فروزاں

موسمیاتی تبدیلی اور بارشیں: جب فطرت بغاوت پر اتر آئے

پاکستان جنوبی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں

بارش، جو کبھی خوشحالی اور زرخیزی کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب تباہی، سیلاب اور انسانی المیوں کی شکل میں نمودار ہو رہی ہے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں معمول سے ہٹ کر ہونے والی شدید بارشیں ایک نئے اور غیر متوقع مظہر کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جسے سائنسدان موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بارشوں کے اس بگڑتے ہوئے انداز کا تعلق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہے ؟ اگر ہاں، تو کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں ؟

ماہرین کے مطابق ، زمین کا ماحولیاتی نظام نہایت متوازن اور حساس ہے ۔ جب فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے، تو نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ فضائی نمی میں بھی غیر معمولی تبدیلی آتی ہے ۔

نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے مطابق، ہر ایک ڈگری سیلسیس درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ فضا میں 7 فیصد زیادہ نمی جذب ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں شدید بارشوں اور طوفانی موسم کی شدت کو بڑھا سکتی ہے ۔


بین ا لحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ (2023) میں خبردار کیا گیا کہ کہ ہر گزرتے عشرے کے ساتھ دنیا میں بارش کے پیٹرن میں شدت، طوالت اور بے ترتیبی بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا، وسطی افریقہ اور لاطینی امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی 2024کی رپورٹ میں بتایاگیا کہ عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کے قریب پہنچ چکا ہے، اس وجہ سے بارش کے سائیکل میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے ، کہیں طوفانی بارشیں ہیں تو کہیں مکمل خشک سالی ۔


اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2025 رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان جنوبی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اربن فلڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور آئی ایم ایف کی 2024میں کی جانے والی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ غیر متوقع بارشیں ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو ہر سال اوسطاً 235 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان میں زراعت، انفراسٹرکچر اور انسانی جان و مال شامل ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور بارشیں: جب فطرت بغاوت پر اتر آئے


رواں سال 2025 اور گذشتہ سال 2024 کے چند بڑے واقعات کا ذکر کیا جائے تو رواں برس میں برازیل کے جنوبی علاقہ (ریو گراندے دو سل) مئی میں مسلسل دو ہفتے کی طوفانی بارشوں سے 170 افراد ہلاک اور 6000 سے زائد مکانات تباہ ہوئے جب کہ تقریباً 3.4 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔

چین کے صوبہ ہنان میں جولائی کے آغاز میں آنے والی صرف 5 دن کی بارش نے 12 اضلاع کو ڈبوبا دیا نقصا ن کا اندازہ 2 ارب ڈالر کے قریب لگایا گیا جبکہ 200,000 افراد بے گھر ہوئے ۔

سن 2024 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں شدید بارشیں ہوئیں ۔ مارچ تا جون میں ہونے والی غیر متوقع بارشوں اور ژالہ باری سے فصلیں تباہ ہوئیں اورمعاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً 180 ارب روپے (تقریباً 630 ملین ڈالر) لگایا گیا ۔

جرمنی اور بیلجیم میں دریائے رائن کے کنارے شدید بارشوں سے صنعتی علاقے متاثر ہوئے ۔ نقصان کا اندازہ 1.2 ارب یورو ہے۔


سن2025 کے جاری مون سون سیزن کے دوران پاکستان شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، این ڈی ایم اے اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ، اب تک 279 افراد جاں بحق اور 676 زخمی ہو چکے ہیں ۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 151 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 64، بلوچستان میں 20، سندھ میں 25، گلگت بلتستان میں 9، اسلام آباد میں 8 اور آزاد کشمیر میں 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں ۔

شدید بارشوں نے نہ صرف انسانی جانیں لیں بلکہ 1,500 سے زائد مکانات کو تباہ یا نقصان پہنچایا، 370 کے قریب مویشی ہلاک ہوئے اور کئی اہم انفراسٹرکچر، سڑکیں اور پل منہدم ہو گئے ۔

یہ بھی پڑھیں

کیابجٹ 2025موسمیاتی بحران کا ادراک رکھتا ہے؟؟

گلگت بلتستان میں پہلی پی سی ایف کلائمیٹ یوتھ سمٹ کا انعقاد

جولائی کے وسط تک پاکستان میں ہونے والی بارشیں گزشتہ برس 2024 کے مقابلے میں 82 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں ۔ جبکہ پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئر کے پگھلنے سے بھی فلش فلڈز اور گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (جی ایل او ایفس) کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔

ماہرین کے مطابق ملک پاکستان کے شمالی علاقوں میں مزید شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات موجود ہیں، جو آنے والے ہفتوں میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں ۔

موسمیاتی تبدیلی اور بارشیں: جب فطرت بغاوت پر اتر آئے

ورلڈمیٹررولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی سن 2025 کی رپورٹ کے مطابق ، شدید بارشوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا براہِ راست تعلق ماحولیاتی تبدیلی سے ہے ۔ موجودہ صدی کے وسط تک ایسے واقعات کی شدت دو گنا ہونے کا امکان ہے ۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2025 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اربن فلڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور زرعی تباہی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں ۔

فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے مطابق، سن 2025 میں صرف پاکستان اور بھارت میں زرعی پیداوار میں 11 فیصد کمی کا اندیشہ ہے ۔

ا قوام متحدہ کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سیلاب اور بارشوں کے باعث سن 2024 میں تقریباً 33 ملین افراد نے اندرونِ ملک نقل مکانی کی ۔


یہ صورتحال شہری نظام پر مزید دباؤ بڑھا رہی ہے جس کے نتیجے میں ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے۔پاکستان کے بڑے شہر پہلے ہی ماحولیاتی دباؤ ، بے ہنگم آبادی ، ناقص منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی کا شکار ہیں ۔

ان بڑ ؓے شہروں میں جب اچانک موسلا دھار بارش ہوتی ہے تونکاسیِ آب کا نظام بیٹھ جاتا ہے ، کرنٹ لگنے کے حادثات ہوتے ہیں ، بجلی ، مواصلات اور آمدورفت کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے ، غریب بستیوں میں مکانات گرنے اور اموات کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔


بدلتے موسموں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس صورتحال سے نپٹنے کے لیے جو ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہچانے کا سبب بن چکی ہے ۔ ہمارے ملک کے پالیسی سازوں کو جنگی حکمت عملی اپناتے ہوئے اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔

جیسے شہری سیلابی نقشے (اربن فلڈ میپس) بنانا ہوں گے جو ہر بڑے شہر کے لیے خطرے کے زون کی نشاندہی کریں علاوہ ازین نالوں کی صفائی کے ساتھ ان پر قائم تجاوزات کا خاتمہ ، بارش کے پانی کا ذخیرہ، اور مقامی وارننگ سسٹمز کی تنصیب ، شجرکاری و سبز انفراسٹرکچر،شہروں میں پارکس ، کھلی زمین اور قدرتی نالے کو محفوظ کرنا ہوں گے تاکہ پانی جذب ہو سکے ۔

فی الفوز موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ڈیزاسٹر مینجمنٹ بلز کو نافذ کیا جائے اور اور اس حوالے سے فنڈنگ یقینی بنائی جائے ۔


بارشوں کا تیز اور غیر متوقع انداز موسمیاتی تبدیلی کی زندہ مثال ہے ۔ اگرچہ بارش ایک قدرتی عمل ہے، مگر اس بات میں اب کوئی دو رائے نہیں رہہ کہ اس کی شدت ، وقت، مقام اور اثرات میں جو تبدیلی آ رہی ہے جو واضح طور پر انسانی سرگرمیوں سے جڑی ہے جس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی رونما ہوئی ۔

پاکستان جیسے ممالک، جہاں وسائل کم اور خطرات زیادہ ہیں ، وہاں مؤثر منصوبہ بندی ، سائنسی حکمتِ عملی اور مقامی سطح پر عوامی شرکت ہی ہمیں ان بارشوں کو ”رحمت” بنائے رکھنے میں مدد دے سکتی ہے ۔ وگرنہ یہ ”عذاب” بن کر ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں