فروزاں فروزاں کے مضامین

فلم آئٹم :کیا خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک مضبوط آواز ہیں؟

فلم آئٹم میں خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک عورت کی جدوجہد اور وقار کی علامت دکھائی گئی ہے

فلم آئٹم خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک جرات مند سماجی کہانی ہے جو عورت کے وقار، مزاحمت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

خواتین پر تشدد ہمارے معاشرے کا ایک تلخ اور دیرینہ مسئلہ ہے، جس پر بات کرنا ہمارےلیے اکثر مشکل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے حساس اور جرات مندانہ موضوع پر فلم بنانااور بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے خاص طور پر اس وقت جب فلم کی پروڈیوسر اور ہدایت کارہ ایک خاتون ہوں۔

اس حوالے سے پروڈیوسر اور ہدایتکارہ ہما شیخ نے نہ صرف فنکارانہ جرات کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ ایک مضبوط سماجی بیانیہ بھی پیش کیا ہے۔

ان کی فلم آئٹم خواتین کے عزم، خود انحصاری اور وقار کی ایک طاقتور علامت بن کر سامنے آئی ہے۔

فلم آئٹم میں خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک عورت کی جدوجہد اور وقار کی علامت دکھائی گئی ہے

فلم آئٹم کی پریمیئر نمائش بدھ، 24 دسمبر 2025 کو کراچی کے ایک مقامی سنیما میں منعقد ہوئی، جس میں شہر کی نمایاں سماجی، ثقافتی اور فنی شخصیات نے شرکت کی۔

ڈھائی گھنٹے پر محیط فلم آئٹم آغاز سے اختتام تک ناظرین کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے، یہاں تک کہ ناظرین کے لیے پلک جھپکنا بھی ممکن نہیں ہوپاتا۔

یہ کہانی حقیقی زندگی کے واقعات پر مبنی ہے۔ فلم کی کہانی، اسکرین پلے اور مکالمے خود ہدایتکارہ ہما شیخ نے تحریر کیے، جنہیں اپنے عہد کے عظیم اور ایوارڈ یافتہ مصنف مرحوم اقبال رضوی نے باقاعدہ اسکرپٹ کی شکل دی۔

فلم میں سنسنی خیز اسکرین پلے اور مؤثر مکالمے ہما شیخ کی تخلیقی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہیں۔

فلم کی مرکزی کہانی ایک نوجوان اور بے بس لڑکی ماہ نور (عالیہ علی) کے گرد گھومتی ہے، جو ایک معذور باپ کی بیٹی ہے اور تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہے، مگر سماجی ہراسانی، تنگ نظری اور کردار کشی کے باعث اپنی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

دفتر ہو یا محلہ، چپڑاسی سے لے کر باس تک، ہر جگہ اسے ذہنی اذیت، تمسخر اور ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معاشرے کی بے رحم بدنامی بالاآخر اس کے باپ کی جان لے لیتی ہے، مگر آزمائشوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔

فلم میں ایک مضبوط موڑ اس وقت آتا ہے جب ایک اشتہاری ایجنسی سے وابستہ خاتون ماہ نور کو مشورہ دیتی ہے کے ’’کوئی شعبہ برا نہیں ہوتا، لوگوں کی سوچ اسے برا بنا دیتی ہے‘‘۔یہ جملہ فلم کے مرکزی پیغام کے طور پر اُبھرتا ہے۔

ماہ نور جرات کے ساتھ ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھتی ہے، قلیل وقت میں کامیابی حاصل کرتی ہے، مگر اسے معاشرے کے دوہرے معیار کا سامنا بھی کرنا پڑتاہے۔

فلم آئٹم میں خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک عورت کی جدوجہد اور وقار کی علامت دکھائی گئی ہے

عالیہ علی نے ماہ نور کے کردار کو غیر معمولی معیار، ذہانت اور جذباتی شدت کے ساتھ نبھایا ہےأ

ایک مظلوم، خاموش اور خوف زدہ لڑکی سے باوقار، خود اعتماد اور کامیاب عورت تک کے سفر کو انہوں نے اس مہارت سے پیش کیا ہے کہ ناظرین خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

رقص اور ماڈلنگ کے مناظر میں ان کی اداکاری ماضی کی معروف رقاصاؤں کی یاد دلاتی ہے۔فلم میں فلم اسٹار مہک کا اہم معاون کردار عائمہ خان نے ادا کیا ہے۔

اگرچہ وہ انڈسٹری میں نئی ہیں، مگر ان کی شاندار اداکاری نے معاشرے کے دوہرے چہرے اور منافقت کو بخوبی اجاگر کیا ہے۔

فلم آئٹم میں خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک عورت کی جدوجہد اور وقار کی علامت دکھائی گئی ہے

فلم کے ہیرو آزاد خان پاکستان کے لیے

ایک نئے مگر متاثر کن چہرے کے طور پر

سامنے آئے ہیں، جنہوں نے سادہ مگر مؤثر

اداکاری سے اپنی موجودگی منوائی۔

فلم آئٹم میں دیگر معاون کرداروں میں بہروز سبزواری، سنگیتا رضوی، مریم مرزا، عائمہ خان، عصمت زیدی، عدنان سعید، ملک رضا اور دیگر فنکار شامل ہیں، جو ہما شیخ کے بہترین انتخاب کا ثبوت ہیں۔

موسیقی فلم کا ایک اور مضبوط پہلو ہے۔ معروف موسیقار ایم۔ ارشد (لیجنڈری ایم۔ اشرف کے صاحبزادے) کی ترتیب دی ہوئی دل کو چھو لینے والی دھنیں دیر تک سماعتوں میں گونجتی رہتی ہیں۔

فلم آئٹم میں پس منظر موسیقی لیجنڈری اظہر حسین کی ہے، جسے علی جفو نے ٹریٹ اور ڈیزائن کیا ہے، جو فلم کے جذباتی اثر کو دوچند کر دیتی ہے۔

شاندار سینماٹوگرافی، مضبوط ہدایتکاری، بامعنی مکالمے اور سماجی شعور سے بھرپور کہانی آئٹم محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک طاقتور پیغام کی شکل میں لوگوں تک پہنچی ہے۔

مجموعی طور پر یہ فلم اتنی متاثر کن اور اہم ہے کہ وہ تھکے ہوئے فلم بینوں کو دوبارہ سینما گھروں کا رخ کرنے پر مجبور کر دے گی۔

فلم آئٹم نہ صرف پاکستانی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ احساس بھی جگاتی ہے کہ خواتین کے وقار اور آزادی کی جدوجہد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ایک ایسی فلم ہے جو دیکھنے کے بعد طویل عرصے تک دل و دماغ میں بسی رہے گی۔

یہ فلم خواتین کو درپیش روزمرہ ہراسانی

کے خلاف ایک مضبوط آواز کے طور پر

سامنے آئی ہے اور معاشرے کے ایک تلخ

مگر مسلسل نظرانداز کیے جانے والے

مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔

فلم آئٹم میں خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک عورت کی جدوجہد اور وقار کی علامت دکھائی گئی ہے

فلم اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ عورت ہر جگہ چاہے وہ دفاتر ہوں، تعلیمی ادارے یا میڈیا انڈسٹری، سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ حتیٰ کہ بظاہر محفوظ اور باوقار ماحول عورت ہر جگہ سوالیہ نگاہوں، نامناسب جملوں اور غیر ضروری دباؤ کا سامنا کرتی ہے۔

وہ باحجاب ہو یا بااعتماد، خاموش رہے یا آواز اٹھائے،ہر صورت میں اسے قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔

یہ فلم اس سوچ کو چیلنج کرتی ہے جو عورت کے لباس، کردار اور آزادی کو ہراسانی کا جواز بناتی ہے، جبکہ اس غلط رویے کو ’’معمول‘‘سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

فلم’’آئٹم‘‘ ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ ’’آخر الزام ہمیشہ عورت پر ہی کیوں آتا ہے‘‘؟

فلم خواتین کو محض مظلوم کے طور پر نہیں بلکہ حوصلہ، صبر اور مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے۔

فلم آئٹم میں دکھایا گیا ہے کہ ہراسانی کس طرح عورت کی پیشہ ورانہ زندگی، ذہنی سکون، خود اعتمادی اور مستقبل کے فیصلوں پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔

فلم کی ہدایتکار ہماشیخ کہتی ہیں کہ ہراسانی کسی ایک طبقے یا پیشے تک محدود نہیں۔ ایک عورت، چاہے وہ پروفیشنل ہو، طالبہ ہو، فنکار ہو یا عام شہری،ہر جگہ نشانہ بنتی ہے۔

آئٹم ایک ایسے نظام کے خلاف میری آواز ہے جو عورت کو خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آئٹم صرف ایک فلم نہیں بلکہ ایک سماجی پیغام ہے، جو ناظرین کو سوچنے، سوال اٹھانے اور رویوں پر نظرِ ثانی کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

فلم کا واضح پیغام ہے کہ عورت کوئی شے نہیں، عورت کوئی آئٹم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سری لنکا ٹورزم روڈ شوکراچی2025: نئی سیاحتی شراکت کا آغا

جزیرہ استولا میں گھوسٹ نیٹ ریکوری: ان دیکھی ماحولیاتی جنگ

ہما شیخ فلمز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے بینر تلے بننے والی فلم معاشرے میں مکالمہ پیدا کرنے، دقیانوسی سوچ کو توڑنے اور خواتین کے وقار اور عزت کے لیے آواز بلند کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

فلم کی کاسٹ میں عالیہ علی، آزاد خان، عائمہ خان، بہروز سبزواری، سنگیتا رضوی، مریم مرزا، عصمت زیدی، فوزیہ مشتاق، ملک رضا، نعمان خان، فہد احمد

اپنا تبصرہ لکھیں