عالمی غذائی بحران میں خوراک موجود ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی، جنگیں، مہنگائی اور ناکام پالیسیاں انسان کو بھوکا رکھے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر شہزادہ ارشاد

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’قحط یہ نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو بلکہ قحط یہ ہے کہ بارش ہو، پھر بارش ہو لیکن زمین کوئی چیز نہ آگائے‘‘۔ ترجمہ:مولانا عبد العزیز علوی۔ صحیح مسلم حدیث
دنیا اس وقت جس غذائی بحران سے گزر رہی ہے، وہ کسی ایک سال کی خرابی یا کسی ایک جنگ کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک طویل المدت اجتماعی غفلت کا حاصل ہے۔
گزشتہ پندرہ سے بیس برسوں میں ایف اے او، ورلڈ بینک، ڈبلیو ایف پی اورآئی ایف پی آر ایل جیسے ادارے بارہا خبردار کرتے رہے کہ عالمی غذائی نظام ظاہری پیداوار کے باوجود اندر سے عدم توازن کا شکار ہے۔ مگر چونکہ سپر مارکیٹوں کی شیلف خالی نہیں تھیں، اس لیے خطرے کو بھی فرضی سمجھ لیا گیا۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ 2022 میں دنیا کے 58 ممالک میں 25 کروڑ 80 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے، جبکہ 2016میں یہی تعداد تقریبا 13کروڑ 50 لاکھ تھی۔ یعنی صرف چھ برس میں بھوک کا دائرہ تقریبا دو گنا ہو گیاتھا۔ یہ اعداد کسی این جی او کے جذباتی پمفلٹ سے نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کے گلوبل رپورٹ آن فوڈ فرایسس سے ماخوذ ہیں۔
عالمی غذائی بحران کی پہلی لہر: موسم۔ جو اب پیش گوئی نہیں مانتا
عالمی درجہ حرارت میں صنعتی دور کے مقابلے میں اب تک1.2 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے، اور موجودہ رفتار برقرار رہی تو صدی کے وسط تک2.7 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ ا ضافے کا قوی امکان ہے۔
اس اضافے کا براہِ راست اثر خوراک پر پڑ رہا ہے۔ورلڈ بینک کے مطابق ہر1 ڈگری اضافے پر گندم، چاول اور مکئی جیسی بنیادی فصلوں کی عالمی پیداوار میں 5 سے 10فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔
ایف اے اوکے تخمینے کے مطابق موسمی آفات کے باعث زرعی شعبے کو سالانہ اوسطا 21 سے 25ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
جنوبی ایشیا میں ہیٹ ویوز کے سبب گندم کی پیداوار میں پہلے ہی 10 سے 15فیصد کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
یہ وہ خطہ ہے جہاں آبادی بڑھ رہی ہے، مگر فصلیں سکڑ رہی ہیں اور یہ تضاد خود ایک بحران ہے۔
پاکستان: سیلاب، خوراک اور خاموش تباہی
پاکستان اس عالمی منظرنامے میں محض ایک مثال نہیں، بلکہ ایکوارننگ کیس اسٹڈی ہے۔
سن2022 کے سیلابوں نے 33ملین افراد کو براہِ راست متاثر کیا،23 لاکھ سے زائد گھر تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہوئے،,80لاکھ ایکڑ سے زیادہ زرعی رقبہ زیرِ آب آیاجب کہ مجموعی معاشی نقصان ۔30/32ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
(World Bank & ADB Post-Disaster Needs Assessment)۔
لیکن اصل نقصان وہ تھا جو فوری نظر نہ آیا۔بیج ختم، مویشی مر گئے، مٹی کی زرخیزی متاثر ہوئی، اور اگلے دو زرعی سیزن غیر یقینی ہو گئے۔
نتیجتا2023/24میں پاکستان کو گندم اور دالوں کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑے۔
غذائی مہنگائی بعض مہینوں میں 45 سے 50فیصد تک پہنچی۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق 3 کروڑ سے زائد پاکستانی کسی نہ کسی درجے کی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

یہ بحران امداد سے نہیں، زرعی بحالی اور نظامی اصلاح سے حل ہوگا۔ من و سلوی کا زمانہ جاچکا۔۔۔ بھوک اور آفات کی باتیں کریں۔ ساحر لدھیانوی۔
عالمی غذائی بحران کی دوسری لہر: وسائل کی تھکن
دنیا کے 4 ارب افراد سال میں کم از کم ایک مہینہ شدید پانی کی قلت جھیلتے ہیں۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہو چکا ہے جو عبور کر چکے ہیں یعنی فی کس واٹر اسٹریس تھریش ہولڈ دستیاب پانی 1000 مکعب میٹر سالانہ سے کم ہو چکا ہے۔
آئی ایف پی آر آئی کے مطابق اگر موجودہ زرعی طریقے جاری رہے تو 2050 تک دنیا کی 90 فیصد مٹی کسی نہ کسی درجے میں ڈگریڈڈ ہو چکی ہوگی۔
عالمی خوراک کا 66 فیصد صرف 9 فصلوں پر منحصر ہے۔ یہ حیاتیاتی تنوع نہیں، خطرناک انحصار ہے۔

عالمی غذائی بحران کی تیسری لہر: جنگیں اور منڈیاں
یوکرین جنگ سے قبل روس اور یوکرین مل کرعالمی گندم کا30 فیصد،مکئی کا 20 فیصد،سورج مکھی کے تیل کی 75 فیصد برآمدات فراہم کر رہے تھے۔
جنگ کے بعد 2022 میں 23 ممالک نے خوراک کی برآمدات پر پابندیاں عائد کیں، جس سے عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا۔
ورلڈ بینک کے مطابق اس اقدام نے کم آمدنی والے درآمدی ممالک میں غذائی عدم تحفظ کو براہِ راست دوگنا کر دیا۔
عالمی غذائی بحران کی چوتھی لہر: مہنگائی خا موش قاتل
سن2024 تک عالمی خوراک کی قیمتیں 2019 کے مقابلے میں اوسطا 40 فیصد بلند رہیں۔
کھاد، جو جدید زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس کی قیمتیں 2022 میں قدرتی گیس بحران کے باعث 300سے 400فیصدتک بڑھیں۔
نتیجہ یہ کہ آج دنیا کے 3.1 ارب انسان صحت مند اور متوازن غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ ایف اے او کا باضابطہ تخمینہ ہے۔
عالمی غذائی بحران کاحل: خیرات نہیں، سرمایہ کاری
غذائی بحران کا حل لنگر خانوں میں نہیں، پالیسی ٹیبل پر ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق اگر عالمی غذائی نظام کو محفوظ بنانا ہے تو سالانہ300 سے400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔یہ عالمی GDP کا محض 0.4 سے 0.5فیصد ہے۔
اس وقت دنیا اس ضرورت کا صرف 25 فیصد خرچ کر رہی ہے۔پاکستان جیسے ممالک کے لیے ترجیح ہونی چاہیے کہ پانی بچانے والی زراعت (Drip & Precision Farming)،مقامی ذخیرہ اندوزی اور کولڈ چین،فصلوں میں تنوع، صرف گندم اورچاول پر انحصار کا خاتمہ اورغذائی تحفظ کو قومی سلامتی کے دائرے یا فریم میں لایاجائے۔
ہمارے محدود ذرائع آب اور اراضیاں اس لیے نہیں ہونی چاہیں کہ عیار عالمی سرمایہ کار اس پر منافع کماکر ہاتھ جھاڑ کر نکل لیں، جب کہ اپنی عوام دن بدن قحط کے جبڑوں میں جاپہنچیں۔
ہمارے اندر اتنی تو دانش موجود ہونی چاہیے کہ ہم سوڈان اور ایتھوپیا کی مثالوں سے کچھ سبق حاصل کرلیں کہ جن کو فلک نے لوٹ کر ویران کردیا اب وہ اجڑے دیار کی بنجر زمینیوں کو دیکھ آہ بھرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
ماحولیاتی مسائل پاکستان کے لیے بڑا چیلنج کیوں ہیں؟
پاکستان اور برطانیہ کا گرین کمپیکٹ: 35 ملین پاؤنڈ کا معاہدہ
بھوک قدرتی نہیں، پالیسی ساختہ ہے
دنیا کے پاس خوراک ہے، زمین ہے، ٹیکنالوجی ہے۔ کمی صرف فیصلے کی رفتار میں ہے۔
بھوک نہ تو آسمان سے اترتی ہے، نہ زمین سے اُگتی ہے، یہ ہمیشہ انسانی ترجیحات کی کوتاہی سے پیدا ہوتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کیا ہم اس بحران سے نکل سکتے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نکلنے کا فیصلہ بھی کریں گے؟
یا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو اب اقبال ہی کے بقول شاید یہ کہیں کہ
زلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیں۔۔۔ کیسی کیسی دختر مادر ایام ہیں
