فروزاں ماحولیاتی خبریں ماحولیاتی رپورٹس

کھرمنگ آئس اسٹوپا: موسمیاتی تبدیلی کے مقابل کسانوں کی امید

Kharmang Ice Stupa helping farmers fight climate change in Gilgit Baltistan

کھرمنگ آئس اسٹوپا گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک انوکھی جنگ مگر کامیاب حل جو کسانوں کو بروقت پانی فراہم کر کے زراعت کو سہارا دیتا ہے۔

Kharmang Ice Stupa helping farmers fight climate change in Gilgit Baltistan

گلگت بلتستان یوں تو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی لپیٹ میں ہے اور خطے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی نے یہاں کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے خاص طور پر متاثر ہونے والا شعبہ زراعت ہے، سیلاب، گلاف ایونٹس اور زمینی کٹاو نے سینکڑوں کسانوں سے ان کی زرعی زمینیں چھین لی،جہاں کبھی وہ یا ان کے آباو اجداد آلو، گندم، مکئی اور دیگر فصلیں بویا کرتے تھے جو ان کے لئے روزگار کا بھی ذریعہ تھیں۔

اب موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کے لئے مقامی لوگوں نے جدیدیت کے ساتھ روایت کو ملا کر ایک حل تیار کیا ہے تاکہ وہ اپنی زمینوں سے دور ہوتے پانی کو ایک بار پھر اس کے قریب کر سکیں اور فصلیں کاشت کر سکیں۔

گلگت بلتستان کے ضلع کھرمنگ کی وادی یولی لنگما میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک انوکھی جنگ لڑی جا رہی ہے۔

Kharmang Ice Stupa helping farmers fight climate change in Gilgit Baltistan
گلگت بلتستان میں آئس اسٹوپا: مقامی دانش سے موسمیاتی مسائل کا پائیدار حل

مقامی کمیونٹی نے ماہرین کے تعاون سے برف کا ایک ایسا مینار تخلیق کیا ہے جو نہ صرف دیکھنے میں خوبصورت ہے بلکہ سینکڑوں خاندانوں کی بقا کا ضامن بھی بن چکا ہے۔

برف کے اس مینار کو قدرت اور ٹیکنالوجی کا ملاپ ایک شاہکار کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا جسے ’آئس اسٹوپا‘ کہا جاتا ہے۔

اسے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور برطانیہ کے ادارے کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔

اس کا طریقہ کار نہایت سادہ مگر موثر ہے۔ سردیوں کے موسم میں جب پہاڑی چشموں کا فالتو پانی ضائع ہو رہا ہوتا ہے، اسے پائپوں کے ذریعے نچلے علاقوں میں لایا جاتا ہے۔

پانی کے قدرتی دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے اسے ہوا میں فوارے کی طرح اچھالا جاتا ہے جہاں منفی درجہ حرارت اسے لمحوں میں برف میں تبدیل کر دیتا ہے یوں آہستہ آہستہ برف کا ایک مخروطی مینار بن جاتا ہے۔

پاک بھارت سرحد پر واقع ضلع کھرمنگ کے کسانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج وہ وقت ہوتا ہے جب بیج بونے کا سیزن شروع ہوتا ہے لیکن قدرتی گلیشیئرز ابھی پگھلنا شروع نہیں ہوتے۔

اس دوران یہ آئس اسٹوپا اس علاقے کے کسانوں کے لیے ایک نجات دہندہ کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی خاص شکل سورج کی تپش کو کم جذب کرتی ہے، جس سے برف جون کے مہینے تک برقرار رہتی ہے۔

جیسے ہی بہار میں درجہ حرارت بڑھتا ہے یہ مینار آہستہ آہستہ پگھل کر کھیتوں تک پانی پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔

Kharmang Ice Stupa helping farmers fight climate change in Gilgit Baltistan
ضلع کھرمنگ کا آئس اسٹوپا، جو سردیوں کے پانی کو محفوظ کر کے زراعت کو سہارا دیتا ہے

اب کسانوں کو پانی کی کمی کی وجہ سے فصلیں ضائع ہونے کا ڈر نہیں رہتا جس سے مقامی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ مہنگی مشینوں سے نہیں بلکہ مقامی دانش اور فطری طریقوں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

یولی لنگما کا یہ کامیاب تجربہ اب گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کے لیے ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔

اس پورے منصوبے میں نہ تو بجلی کا استعمال ہوتا ہے اور نہ ہی ماحول کو نقصان پہنچانے والا کوئی عنصر۔

یہ سراسر قدرت کا تحفہ ہے جسے انسان نے اپنی ضرورت کے لیے سلیقے سے محفوظ کر لیا ہے۔ یہ آئس اسٹوپا صرف ایک انجینئرنگ کا نمونہ نہیں ہے بلکہ یہ مقامی روایات اور جدید سائنس کا سنگ میل ہے۔

Kharmang Ice Stupa helping farmers fight climate change in Gilgit Baltistan
کھرمنگ آئس اسٹوپا گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کسانوں کی امید بن چکا ہے

یہ بھی پڑھیں

دیامر میں شدید برفباری، مکان کا واچ ٹاور منہدم، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق

جنریشن ایلفا کی ساحلی صفائی مہم: امید اور تضاد

گل پلازہ کی آگ: ایک حادثہ نہیں، سنگین ماحولیاتی جرم ہے

اس کی مخروطی شکل اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ سورج کی شعاعیں اس پر ترچھی پڑیں اور یہ گرم موسم میں بھی دیر تک پگھلنے سے محفوظ رہے۔

یہ مقامی سطح پر پانی کے انتظام کا وہ سستا ترین طریقہ ہے جسے دنیا بھر کے پہاڑی علاقوں میں اپنایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں