تحفظ اور ترقی کا توازن: حیاتیاتی تنوع کے عالمی بحران کے درمیان پاکستان کو مؤثر انتظام، مقامی شمولیت اور سائنسی حکمت عملی کی ضرورت
فروزاں رپورٹ
دنیا اس وقت حیاتیاتی تنوع کے ایک سنگین بحران سے گزر رہی ہے۔ ماہرین اسے چھٹی اجتماعی معدومیت قرار دے رہے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، آلودگی، غیر پائیدار زرعی پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلی نے زمین کے قدرتی ماحولیاتی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اسی پس منظر میں 2022 میں عالمی برادری نے ایک اہم فیصلہ کیا۔ اس کے تحت 2030 تک زمین اور سمندروں کے کم از کم 30 فیصد حصے کو محفوظ قرار دینے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اسے 30ایکس30 ہدف کہا جاتا ہے۔
یہ ہدف کنونشن برائے حیاتیاتی تنوع کے تحت منظور کیا گیا۔ اس عمل کی نگرانی اقوام متحدہ کے نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اسے کنمنگ مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کا مرکزی ستون بھی سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ایک بنیادی سوال اب بھی موجود ہے۔ کیا صرف فیصدی ہدف حیاتیاتی بحران کا مؤثر حل ثابت ہوگا یا اس کے لیے گہری اصلاحات کی ضرورت ہے؟
عالمی پس منظر: بحران کی شدت
بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس کے مطابق تقریباً 10 لاکھ انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔
مرجان کی چٹانیں، مینگرووز اور ویٹ لینڈز نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ کاربن جذب کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر قدرتی علاقوں کو مربوط انداز میں محفوظ نہ کیا گیا تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔ محفوظ علاقے صرف پارک نہیں ہوتے۔ یہ کاربن ذخائر، پانی کے ذخائر کو ری چارج کرنے والے زون اور قدرتی آفات سے بچاؤ کی ڈھال کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
پاکستان میں صورتحال: اعداد و شمار اور حقیقت
پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 12 سے 15 فیصد زمینی رقبہ کسی نہ کسی شکل میں محفوظ قرار دیا جا چکا ہے۔
اہم محفوظ علاقوں میں شامل ہیں:
دیوسائی نیشنل پارک
ہنگول نیشنل پارک
مارگلہ ہلز نیشنل پارک
لال سوہانرا نیشنل پارک
مسئلہ یہ نہیں کہ محفوظ علاقے موجود نہیں۔ اصل مسئلہ ان کا مؤثر انتظام ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کو کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں فنڈنگ کی کمی، غیر قانونی شکار، کان کنی اور انفراسٹرکچر کا دباؤ، مقامی کمیونٹیز کے حقوق کے مسائل، ڈیٹا کی کمی اور مانیٹرنگ کا فقدان شامل ہیں۔
اگر پاکستان کو 30 فیصد کے ہدف تک پہنچنا ہے تو اسے کم از کم موجودہ محفوظ رقبے کو دوگنا کرنا ہوگا۔ مگر اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ 15 فیصد محفوظ رقبہ بھی مؤثر طریقے سے سنبھالا جا رہا ہے؟
کاغذی پارکس کا خطرہ
دنیا بھر میں پیپر پارکس کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اس سے مراد ایسے محفوظ علاقے ہیں جو صرف کاغذوں میں موجود ہوں لیکن عملی طور پر غیر محفوظ ہوں۔
پاکستان میں بھی بعض نیشنل پارکس میں عملے کی کمی، کمزور گشت اور غیر قانونی سرگرمیوں کی رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں۔
اگر 30ایکس30 ہدف صرف ایک عددی کامیابی بن گیا تو یہ تحفظ کے بجائے نمائشی اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔

کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن: قابل عمل راستہ
شمالی پاکستان میں مقامی کمیونٹیز کے ذریعے جنگلی حیات کے تحفظ کا ماڈل نسبتاً کامیاب سمجھا جاتا ہے۔
یہاں برفانی تیندوا (اسنو لیپرڈ) اور ماخور کے تحفظ میں مقامی شمولیت نے اہم کردار ادا کیا۔ اس سے نہ صرف غیر قانونی شکار کم ہوا بلکہ مقامی آبادی کو معاشی فائدہ بھی ملا۔
یہ ماڈل واضح کرتا ہے کہ مقامی آبادی تحفظ کی مخالف نہیں بلکہ اس کی شراکت دار ہو سکتی ہے۔
اگر 30ایکس30 ہدف کے تحت نئے محفوظ علاقے قائم کیے جائیں تو مقامی زمین کے حقوق، چراگاہوں کے استعمال اور روایتی وسائل تک رسائی کو نظر انداز کرنا تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
سمندری 30×30: پاکستان کے لیے موقع
یہ ہدف صرف زمینی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ سمندری حدود پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
پاکستان کی تقریباً 1000 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی حیاتیاتی لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔
مینگرووز کے جنگلات خصوصاً سندھ کے ساحلی علاقوں میں کاربن جذب کرنے کے ساتھ ساتھ سمندری طوفانوں اور ساحلی کٹاؤ کے خلاف قدرتی دفاع کا کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر پاکستان سمندری محفوظ علاقوں پر توجہ دے تو وہ نسبتاً کم زمینی تنازعات کے ساتھ اس ہدف کے قریب پہنچ سکتا ہے۔
30×30 اور موسمیاتی انصاف
یہ بھی ایک اہم بحث ہے کہ ترقی یافتہ ممالک، جنہوں نے تاریخی طور پر زیادہ کاربن اخراج کیا، اب ترقی پذیر ممالک سے یکساں تحفظ کی توقع رکھتے ہیں۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں غربت اور ترقیاتی ضروریات شدید ہیں، 30 فیصد زمین محفوظ قرار دینا ایک پیچیدہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔
اسی لیے عالمی سطح پر مالی معاونت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔
محفوظ علاقوں کو موسمیاتی فنڈنگ سے جوڑنا ایک مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اگر کاربن مارکیٹس اور نیچر بیسڈ حل شفاف انداز میں استعمال کیے جائیں تو پاکستان کو مالی فائدہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

ترقی بمقابلہ تحفظ
اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تحفظ ترقی کے خلاف ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اگر قدرتی نظام تباہ ہو جائیں تو زرعی پیداوار، پانی کی دستیابی اور ماحولیاتی استحکام سب متاثر ہوتے ہیں۔
حالیہ سیلاب، شدید گرمی کی لہریں اور گلیشیئر پگھلاؤ بار بار اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قدرتی توازن بگڑنے کی قیمت معیشت کو بھی چکانا پڑتی ہے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ تحفظ یا ترقی بلکہ یہ ہے کہ کیسی ترقی؟
پاکستان کے لیے عملی اقدامات
ماہرین کے مطابق پاکستان کو چند عملی اقدامات فوری طور پر اختیار کرنے کی ضرورت ہے:
فیصد سے آگے کی سوچ
30ایکس30 ہدف ایک مقصد ضرور ہے مگر مکمل حل نہیں۔
محفوظ علاقوں کی آزادانہ آڈٹ رپورٹس شائع کی جائیں
وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر کی جائے
مقامی کمیونٹیز کو قانونی شراکت دی جائے
جدید جغرافیائی معلوماتی نظام اور ریموٹ سینسنگ کے ذریعے مانیٹرنگ کو بہتر بنایا جائے
سمندری محفوظ علاقوں کے قیام پر فوری توجہ دی جائے
نوجوانوں اور جامعات کو تحقیق میں شامل کیا جائے
اگر اسے سائنسی بنیاد، شفاف حکمرانی اور مقامی شمولیت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ پاکستان میں ماحولیاتی بحالی کا اہم سنگ میل بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
زمین کے چھن جانے کا خوف، 1 ارب انسان عدم تحفظ کا شکار
بدلتا موسم، بدلتے کھیل: موسمیاتی تبدیلی سے اسپورٹس کو سنگین خطرات
لیکن اگر اسے صرف عالمی دباؤ کے تحت ایک عددی ہدف کے طور پر اپنایا گیا تو یہ تنازعات اور غیر مؤثر تحفظ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس اب بھی موقع موجود ہے کہ وہ 30ایکس 30 ہدف کو صرف ایک بین الاقوامی وعدہ نہ سمجھے بلکہ اسے قومی ماحولیاتی اصلاحاتی ایجنڈا بنائے۔ ایسا ایجنڈا جو حیاتیاتی تنوع، موسمیاتی استحکام اور سماجی انصاف تینوں کو ساتھ لے کر چلے۔
