فروزاں ماحولیاتی خبریں

گلگت بلتستان میں قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے نیا معاہدہ کارگر ہوگا؟

New Agreement to Strengthen Natural Resource Conservation in Gilgit-Baltistan

گلگت بلتستان محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے درمیان حیاتیاتی تنوع اور کمیونٹی شمولیت کے فروغ پر اتفاق

Glacier melting and flood risk in Gilgit Baltistan as authorities issue high alert for natural disasters in 2026

گلگت بلتستان میں قدرتی وسائل کے تحفظ اور بہتر انتظام کے لیے محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات گلگت بلتستان اور نجی ادارے وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔

اس معاہدے کا مقصد پہاڑی علاقوں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو مضبوط بنانا، کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھانا اور مقامی آبادی کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ تاہم یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ آیا یہ مفاہمتی یادداشت واقعی عملی نتائج بھی دے سکے گی۔

دستخط کی تقریب

اس سلسلے میں گلگت میں سیکریٹری جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات کے دفتر میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب میں سیکریٹری جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات گلگت بلتستان سید عبد الوحید شاہ نے محکمہ جنگلات کی جانب سے جبکہ ڈاکٹر میور خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ سوسائٹی نے ادارے کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

اس موقع پر محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

معاہدے کے اہم نکات

مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔

اس کے ذریعے مقامی کمیونٹیز کے نظم و نسق کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کمیونٹی کی بنیاد پر جنگلی حیات کے تحفظ کو فروغ دینے اور مقامی افراد کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت میں غیر قانونی لکڑی اسمگلنگ ناکام

گلگت بلتستان الرٹ: معمول سے زیادہ بارشیں، گلیشیئر پگھلنے اور اچانک سیلاب کا خطرہ

معاہدے کے مطابق دونوں ادارے گلگت بلتستان میں مشترکہ طور پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو فروغ دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ سالانہ سرویز اور ہدفی تحقیق کے ذریعے جنگلی حیات کی آبادی کی نگرانی بھی کی جائے گی۔

اس عمل کے ذریعے جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کے مربوط انتظام کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

At the ceremony, **Secretary Forests, Wildlife and Environment Gilgit-Baltistan Syed Abdul Waheed Shah** signed the **Memorandum of Understanding** on behalf of the Forest Department, while **Dr. Mayur Khan, Chief Executive Officer and Head of the Wildlife Conservation and Development Society**, signed it on behalf of the organization.
تقریب میں سیکریٹری جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات گلگت بلتستان سید عبد الوحید شاہ نے محکمہ جنگلات کی جانب سے جبکہ ڈاکٹر میور خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ سوسائٹی نے ادارے کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

کمیونٹی شمولیت اور ماحولیاتی آگاہی

مفاہمتی یادداشت میں کمیونٹی کی سطح پر مقامی اداروں کی تشکیل اور کمیونٹی مینیجڈ کنزروینسیز کے قیام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ماحولیات سے متعلق تعلیم اور آگاہی کو فروغ دینے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فیلڈ پر مبنی منصوبوں پر عملدرآمد بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔

وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ سوسائٹی کا کردار

واضح رہے کہ وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ سوسائٹی گزشتہ کئی برسوں سے حکومت گلگت بلتستان کے تعاون سے کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز اور کمیونٹی مینیجڈ کنزروینسیز اور کنٹرولڈ ہنٹنگ ایریاز کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

ادارے کے مطابق حکومت کے ساتھ مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں کئی اہم جنگلی حیات کی اقسام کی بحالی میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ان میں خاص طور پر فلیئر ہارنڈ مارخور، لداخ اڑیال اور وولی فلائنگ اسکوئرل سمیت دیگر انواع اور ان کے مساکن کے تحفظ میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

نتائج پر سوال

اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت کو قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس معاہدے کے تحت طے شدہ اقدامات پر کس حد تک مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا جاتا ہے۔

ماضی میں بھی اس نوعیت کے کئی معاہدے کیے گئے، لیکن عملی نتائج ہمیشہ توقعات کے مطابق سامنے نہیں آ سکے۔

اسی لیے اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ نیا معاہدہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کے تحفظ میں واقعی کوئی نمایاں تبدیلی لا پاتا ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں