جنگلی حیات کا کردار خوراک، ایندھن، ادویات، لباس اور رہائش گاہوں کی تعمیر جیسے کئی شعبوں میں اہم، اس کا تحفظ اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری
ڈاکٹر طارق ریاض
ایسے جانور جو پالے نہیں جاتے اور ایسے پودے جنہیں کاشت نہیں کیا جاتا جنگلی حیات کہلاتے ہیں۔ جنگلی حیات قدرتی ماحول میں آزادانہ زندگی بسر کرتی ہے اور ماحولیاتی نظام میں قدرت کے مقرر کردہ کردار کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کے ذریعے قدرتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جنگلی حیات میں اونچے سے اونچا درخت، چھوٹی سے چھوٹی بوٹی، فنگس، آبی حیات اور بڑے سے بڑے جانور تک شامل ہیں۔ یہ تمام جاندار ہمارے کاشت کردہ پودوں، فصلوں اور گھریلو یا پالتو جانوروں سے مختلف کردار اور اہمیت رکھتے ہیں۔
ماحولیاتی نظام میں جنگلی حیات کا کردار
دنیا کے مختلف ماحول میں پائی جانے والی جنگلی حیات مختلف ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کسی بھی ایکو سسٹم میں پانی کا چکر، غذائی زنجیر، نمکیات کا چکر، گیسوں کا تبادلہ اور پودوں کی بارآوری جیسے کئی اہم عمل جنگلی حیات کے ذریعے ہی مکمل ہوتے ہیں۔
پھولوں کے زرد دانوں کا پولی نیشن کے ذریعے پودوں تک پہنچنا بھی اسی قدرتی نظام کا حصہ ہے جس میں پرندے، کیڑے اور دیگر جاندار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت 2013 سے ہر سال 3 مارچ کو جنگلی حیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

انسانی زندگی میں اہمیت
جنگلی حیات انسانی زندگی کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا باعث بنتی ہے بلکہ خوراک، ایندھن، ادویات، لباس اور رہائش گاہوں کی تعمیر جیسے کئی شعبوں میں بھی اس کا کردار موجود ہے۔
اس لیے صرف ایک دن منانا کافی نہیں بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور افزائش کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں
عالمی یومِ جنگلی حیات 2026: ادویاتی پودوں کا تحفظ، صحت اور معیشت کا عالمی چیلنج
گلگت بلتستان میں دو ہفتوں کے دوران مارخور کے غیر قانونی شکار کا دوسرا واقعہ
رواں سال عالمی یوم جنگلی حیات کا مرکزی موضوع “میڈیسنل اینڈ اروماٹک پلانٹس: کنزروِنگ ہیلتھ، ہیریٹیج اینڈ لائیولی ہڈ” رکھا گیا ہے، جس کا مقصد طبی اور خوشبودار پودوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

جنگلی حیات کو درپیش خطرات
آج جنگلی حیات کو کئی بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ ان میں قدرتی مساکن کی تباہی، جنگلات کی کٹائی، ماحولیاتی تبدیلی، فضائی، آبی اور زمینی آلودگی، غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت شامل ہیں۔
انسانی آبادی میں تیزی سے اضافہ بھی جنگلی حیات کے مساکن کو متاثر کر رہا ہے۔ درختوں کی کٹائی اور زرعی زمینوں پر رہائشی تعمیرات کی وجہ سے جنگلی جانوروں اور پودوں کے قدرتی مساکن تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
جینیاتی تنوع میں کمی
ماہرین کے مطابق جنگلی حیات کے مساکن ختم ہونے سے جینیاتی تنوع بھی متاثر ہو رہا ہے۔
ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں بھی جانوروں اور پودوں کی بقا کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کئی جانور ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ بعض انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہو جاتی ہیں۔
غیر قانونی شکار، جانوروں کا بلا وجہ قتل، پودوں کی بے دریغ کٹائی اور پلاسٹک آلودگی بھی جنگلی حیات کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

جنگلی حیات کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟
جنگلی حیات کا تحفظ ماحولیاتی نظام کے توازن کے لیے نہایت ضروری ہے۔
یہ پودوں کی بارآوری، پانی کی صفائی، گیسوں کے قدرتی چکر اور غذائی زنجیروں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
اگر کسی ایک نوع کی معدومیت واقع ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ماحولیاتی نظام پر مرتب ہوتے ہیں اور بالآخر انسانی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
بایو ڈائیورسٹی اور انسانی بقا
زمین پر موجود مختلف غذائی زنجیریں اور قدرتی چکر بڑی حد تک جنگلی حیات پر منحصر ہیں۔
کسی بھی پودے یا جانور کی ناپیدگی دراصل انسانی بقا کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے بایو ڈائیورسٹی کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ نئے جنگلات کا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ جنگلی حیات کو قدرتی ماحول میں رہنے اور اپنی نسل کو آگے بڑھانے کا موقع مل سکے۔

انسان کی ذمہ داری
ماحولیاتی آلودگی، ماحولیاتی تبدیلی اور جانداروں کی ناپیدگی کی بڑی ذمہ داری انسان پر عائد ہوتی ہے۔
اس لیے جنگلی حیات کا تحفظ دراصل ہماری اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
عوامی آگاہی مہمات میں حصہ لینا، مقامی پودوں اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنا، غیر قانونی شکار سے اجتناب اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجتماعی عزم کی ضرورت
ماہرین کے مطابق جنگلی حیات کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قدرت کی پیدا کردہ ہر نوع ماحولیاتی نظام کی ایک اہم کڑی ہے۔
یہ تمام کڑیاں ایک زنجیر کی صورت میں جڑی ہوئی ہیں۔ اگر اس زنجیر کی کوئی ایک کڑی بھی ختم ہو جائے تو پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ان کے تحفظ کے لیے اجتماعی طور پر اقدامات کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور متوازن ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
