سندھ کی آب گاہوں میں رواں سال مہمان پرندوں کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کرگئی، پانی کی کمی کے باوجود پرندوں کی تعداد میں بہتری
فروزاں رپورٹ: روبینہ یاسمین
سندھ کا محکمہ تحفظ جنگلی حیات، جسے انگریزی میں سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کہا جاتا ہے، صوبے میں جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم سرکاری ادارہ ہے۔
ادارے کے بنیادی مقاصد میں جنگلی جانوروں، پرندوں اور نباتات کا تحفظ، معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کی بقا کو یقینی بنانا، قدرتی مسکن یعنی ہیبی ٹیٹس کی حفاظت اور بحالی، اور غیر قانونی شکار یعنی پوچنگ کی روک تھام شامل ہیں۔
اسی طرح محفوظ علاقوں کا قیام، نیشنل پارکس، وائلڈ لائف سینکچوریز اور گیم ریزروز کا قیام بھی اس محکمے کی ذمہ داری ہے۔
قانونی فریم ورک اور تحقیقی کردار
سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار، تجارت اور جانوروں کے استحصال کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔
ادارہ جنگلی حیات کی آبادی، نقل مکانی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تحقیق بھی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ عوام میں ماحول دوست رویوں اور حیاتیاتی تنوع یعنی بایو ڈائیورسٹی کی اہمیت اُجاگر کی جاتی ہے۔
زخمی یا غیر قانونی طور پر پکڑے گئے جانوروں کو ریسکیو کر کے دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑنا بھی اسی ادارے کی ذمہ داری ہے۔
سالانہ واٹر فاؤل سروے
سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ 1980 کی دہائی سے ہر سال موسم سرما میں انڈس فلائی وے پر آنے والے آبی پرندوں کی گنتی کرتا ہے۔ یہ سروے اینول واٹر فاؤل سروے کے نام سے جاری کیا جاتا ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم نے دسمبر، جنوری اور فروری 2026 کے دوران صوبہ سندھ کی مختلف اہم آبی گاہوں کا سروے کیا۔
ان میں کینجھر جھیل، منچھر جھیل، حمل جھیل، ہالیجی جھیل، رن آف کچھ، لنگھ جھیل اور نریڑی لیگون سمیت تقریباً تیس مقامات شامل ہیں۔
یہ مقامات سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد، میرپور خاص، شہید بینظیر آباد اور کراچی ڈویژنز میں واقع ہیں۔
پرندوں کی تعداد اور رجحانات

حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق
سندھ کی مختلف آبی گاہوں میں آبی
پرندوں کی مجموعی تعدادچھ لاکھ چون
ہزار دو سو ستّاسی 654,287 ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں
ہالیجی جھیل : مہمان پرندوں کی پناہ گاہ آلودگی اور پانی کی کمی کے باعث ویران ہو رہی ہے
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال رن آف کچھ وائلڈ لائف سینکچوری میں پانی کی شدید کمی اور خشک سالی دیکھی گئی تھی۔ تاہم رواں سال 2026صورتحال میں بہتری آئی اور تھرپارکر کے مقام پر ایک لاکھ پینتیس ہزار تین سو بتیس 135,332 پرندے ریکارڈ کیے گئے۔

اسی طرح رن پور ڈیم، ننگرپارکر کے مقام پر سینتالیس ہزار نو سو ستّر 47,970 پرندے ریکارڈ ہوئے۔
بدین کی نریڑی لیگون میں مسلسل دوسرے سال بھی سب سے زیادہ ایک لاکھ اکتھر ہزار ایک سو ایکتھر 171,171 پرندے ریکارڈ کیے گئے۔
پرندوں کی اقسام اور ریکارڈ
رواں سال کے سروے میں ڈیجیٹل فوٹوگرافک ریکارڈ بھی تیار کیا گیا۔ یہ کام ادارے کے وائلڈ لائف فوٹوگرافر یاسر نے ٹیم کے ساتھ مل کر انجام دیا۔
ریکارڈ کیے گئے پرندوں میں کومب بل
ڈک ، گرے لیگ گوز ، کاٹن پگمی گوز اور
انڈین اسپاٹ بلڈ ڈک شامل ہیں۔

اس کے علاوہ تقریباً پینتیس اقسام کے واٹر فاؤلز بھی ریکارڈ کیے گئے۔ سب سے زیادہ تعداد کامن ٹیل اور شاولر کی دیکھی گئی۔
نایاب اور خطرے سے دوچار پرندے
رپورٹ کے مطابق، سروے کے دوران لیسر فلیمنگو اور خطرے سے دوچار نسل گریٹ وائٹ پیلیکن کی قابل ذکر تعداد دیکھی گئی۔
اسی طرح اوریئنٹل ڈارٹر اور وائٹ اسٹورک بھی بڑی تعداد میں نظر آئے۔
گزشتہ برسوں سے موازنہ
سال 2024تا2025کے دوران آبی پرندوں کی تعداد پانچ لاکھ پینتالیس ہزار دو سو اٹھاون 545,258 ریکارڈ کی گئی تھی۔
جبکہ سال 2023تا2024 میں یہ تعداد چھ لاکھ اُنتالیس ہزار ایک سو بائیس 639,122 رہی۔ اس وقت بھی سروے کا پھیلاؤ تقریباً چالیس 40فیصد علاقوں تک محدود تھا۔
رواں سیزن سال 2025تا2026 میں بھی سروے کا دائرہ تقریباً چالیس 40فیصد علاقوں تک رہا۔
سروے ٹیم اور ماہرین کی شمولیت
سروے ٹیم میں سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے تجربہ کار ریٹائرڈ افسر رشید احمد خان نے خصوصی شرکت کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ان کے کیریئر کا آخری سروے تھا، کیونکہ وہ چار دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد مارچ میں ریٹائر ہو گئے تھے۔
درپیش چیلنجز
محکمہ جنگلی حیات کو غیر قانونی شکار، اسمگلنگ، شہری پھیلاؤ یعنی اربنائزیشن ، موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور آبی ذخائر کی کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ ادارہ نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن، سیاحت کے فروغ اور آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی ورثے کے تحفظ کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔
