دنیا بھر میں 2.2 ارب افراد صاف پانی سے محروم، قلت، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی نے پانی کو عالمی سلامتی کا مسئلہ بنا دیا
محمود عالم خالد

ہر سال 22 مارچ کو دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن (ورلڈ واٹر ڈے) منایا جاتا ہے۔ یہ دن اب محض علامتی نہیں رہا۔ یہ ایک سنگین عالمی بحران کی یاد دہانی ہے۔ پانی، جو زندگی کی بنیاد ہے، آج قلت، آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور جنگوں کے باعث خطرے میں ہے۔
یہ مسئلہ صرف ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات سیاست، معیشت اور انسانی سلامتی تک پھیل چکے ہیں۔
عالمی صورتحال: بڑھتی طلب اور غیر مساوی تقسیم
اقوام متحدہ کے ادارے یو این واٹر (اقوام متحدہ واٹر) کے مطابق دنیا میں 2.2 ارب افراد کو صاف پانی میسر نہیں۔ تقریباً 4 ارب افراد سال کے کسی نہ کسی حصے میں شدید قلت کا سامنا کرتے ہیں۔
عالمی بینک (ورلڈ بینک) کے مطابق 2030 تک پانی کی طلب میں 40 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ وسائل محدود ہیں۔ یہی عدم توازن پانی کو “نیلا سونا” بنا رہا ہے۔
جنگیں اور پانی: ایک نظر انداز خطرہ
دنیا بھر کے تنازعات پانی کے بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ غزہ، یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں نے واضح کیا کہ جنگ صرف جانوں اور عمارتوں کو نہیں بلکہ آبی نظام کو بھی تباہ کرتی ہے۔
ڈیمز، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور پائپ لائنز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیمیکلز اور بارود پانی کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ کئی جگہ پانی کی فراہمی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان: تیزی سے بڑھتا آبی بحران
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 1951 میں فی کس پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر تھی، جو اب 1,000 سے بھی کم ہو چکی ہے۔
پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے مطابق ملک شدید قلت کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

زیر زمین پانی: ختم ہوتا ذخیرہ
پاکستان میں پینے کے پانی کا 90 فیصد انحصار زیر زمین پانی پر ہے۔ مگر بے تحاشہ استعمال کے باعث یہ ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
لاہور میں سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ کراچی کے کئی علاقوں میں پانی ہزار فٹ سے نیچے پہنچ چکا ہے۔
آلودگی: ایک خاموش خطرہ
پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے مطابق ملک کا 80 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں۔
صنعتی فضلہ، سیوریج اور زرعی کیمیکلز پانی کو زہریلا بنا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
زراعت اور پانی کا دباؤ
پاکستان میں زراعت 90 فیصد پانی استعمال کرتی ہے۔ مگر نظام غیر مؤثر ہے۔
نہری نظام میں 30 سے 40 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔
گلیشیئرز اور موسمیاتی خطرات
انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (آئی سی آئی موڈ) کے مطابق گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
ابتدا میں سیلاب اور بعد میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پانی کی دستیابی غیر یقینی ہو چکی ہے۔

کراچی: بحران کی واضح مثال
کراچی کو روزانہ 1200 سے 1500 ملین گیلن پانی درکار ہے۔ فراہمی صرف 600 سے 700 ملین گیلن ہے۔
یہ خلا ٹینکر مافیا پورا کر رہا ہے۔ پانی ایک مہنگا اور غیر منصفانہ کاروبار بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان میں پانی کا بحران سنگین، درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ
پانی اور زمین کا مکالمہ:’’میں چمن میں خوش نہیں ہوں‘‘نمائش میں ماحولیاتی یادداشت کی کہانی
شہر کی 60 فیصد سے زائد آبادی کو محفوظ پانی میسر نہیں۔ یہ صورتحال ایک سنگین شہری بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
حل کیا ہے؟
یہ بحران ناقابل حل نہیں۔ مگر فوری اقدامات ضروری ہیں۔
آبی پالیسی میں اصلاحات، بارش کے پانی کا ذخیرہ، جدید آبپاشی نظام، صنعتی آلودگی پر کنٹرول اور عوامی شعور ناگزیر ہیں۔
پانی: مستقبل کا فیصلہ کن عنصر
پانی کا عالمی دن (ڈبلیو ڈبلیو ڈی 2026) ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پانی اب صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں رہا۔
یہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکا ہے۔ اگر آج اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ قومی سلامتی کا بحران بن جائے گا۔
پانی اب صرف زندگی نہیں۔ یہ مستقبل کی سیاست، معیشت اور امن کا تعین کرے گا۔
