توازن کے بغیر زمین غیر محفوظ۔ جانوروں کے حقوق، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ انسان کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔
خالد محمود قریشی
توازن اور انسانی بقا: پس منظر
کائنات کا نظام ایک زنجیر کی مانند ہے جس کی ہر کڑی دوسری سے جڑی ہوئی ہے۔ زمین پر موجود جانور، پرندے، سمندری مخلوق اور جنگلی حیات اس ماحولیاتی نظام کا بنیادی حصہ ہیں۔ ان کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان زمین سے ختم ہو جائے تو دیگر مخلوقات زندہ رہ سکتی ہیں۔ لیکن اگر یہ مخلوقات ختم ہو جائیں تو انسان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
انسان اور فطرت: ایک تضاد
انسان خود کو اشرف المخلوقات کہتا ہے، مگر اپنی بقا کے لیے انہی مخلوقات پر انحصار کرتا ہے جنہیں وہ کمتر سمجھتا ہے۔
پرندے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کو ختم کرتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں زردانہ (پولینیشن) کے ذریعے خوراک کی پیداوار ممکن بناتی ہیں۔ سمندری مخلوق پانی کے نظام کو صاف رکھتی ہے۔
اس کے برعکس، یہ تمام مخلوقات انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہیں۔ انسان کی بے جا مداخلت نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے، جو اب ایک سنگین بحران بن چکا ہے۔

بڑھتا ہوا ظلم اور ماحولیاتی نقصان
انسان اپنی تفریح اور مفاد کے لیے جانوروں پر ظلم کر رہا ہے۔
پرندوں کو پنجروں میں قید کیا جاتا ہے۔ جنگلی حیات کا بے دریغ شکار کیا جاتا ہے۔ آوارہ جانوروں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی سے ان کے مسکن تباہ ہو رہے ہیں۔
پلاسٹک اور زہریلا فضلہ سمندروں کو مقتل گاہ بنا رہا ہے۔ یہ رویہ صرف ظلم نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔
حیاتیاتی تنوع اور انسانی خطرات
حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کا خاتمہ براہِ راست ماحولیاتی تبدیلی، قحط اور نئی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔
ایک بھی نوع (اسپیسئیش) کا خاتمہ پورے غذائی سلسلے (فوڈ چین) کو متاثر کرتا ہے۔ جنگلات کی تباہی سیلاب اور بڑھتی ہوئی گرمی (گلوبل وارمنگ) کو جنم دیتی ہے۔
اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں صاف پانی، خالص ہوا اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
حل: جیو اور جینے دو
وقت کا تقاضا ہے کہ “جیو اور جینے دو” کے اصول کو اپنایا جائے۔
جانوروں کے حقوق کا تحفظ صرف ہمدردی نہیں بلکہ انسانی بقا کی ضرورت ہے۔ زمین تمام جانداروں کی مشترکہ ملکیت ہے۔
اہم قانونی نکات
جانوروں پر تشدد کی ممانعت
پاکستان میں “جانوروں پر ظلم کی روک تھام کا قانون، 1890“
نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت:
جانوروں کو مارنا یا اذیت دینا جرم ہے
بیمار یا زخمی جانور سے کام لینا ممنوع ہے
جانوروں کو تنگ جگہ پر قید رکھنا قابل سزا ہے

تحفظِ جنگلی حیات
صوبائی سطح پر وائلڈ لائف قوانین نافذ ہیں:
غیر قانونی شکار جرم ہے
نایاب جانوروں کی تجارت ممنوع ہے
اسمگلنگ پر سخت سزائیں مقرر ہیں
بین الاقوامی معاہدہ سائٹس بھی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
پانچ بنیادی آزادیاں (Five Freedoms)
جانوروں کے حقوق کے عالمی اصول:
بھوک اور پیاس سے آزادی
تکلیف سے آزادی
بیماری سے تحفظ
فطری زندگی گزارنے کی آزادی
خوف اور ذہنی دباؤ سے آزادی
خوف اور ذہنی دباؤ سے آزادی

عدالتی فیصلے اور اقدامات
حالیہ برسوں میں عدالتوں نے جانوروں کے حقوق کے حق میں اہم فیصلے دیے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مرغزار چڑیا گھر کیس میں قرار دیا کہ جانوروں کے بھی قانونی حقوق ہیں اور انہیں قدرتی ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
آوارہ کتوں کے مسئلے کے حل کے لیے TNVR طریقہ کار (پکڑنا، بانجھ بنانا، ویکسین لگانا، چھوڑنا) کو انسانی اور مؤثر حل قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
باجوڑ میں زخمی گدھ کو محکمہ وائلڈ لائف نے محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا
سمندری حیات کو خطرات
سمندروں میں کیمیائی فضلہ پھینکنا اور ممنوعہ جالوں کا استعمال جرم ہے۔
یہ عمل نہ صرف مچھلیوں بلکہ کچھوؤں اور دیگر نایاب مخلوقات کے لیے خطرناک ہے اور ان کی نسل کشی کا باعث بن رہا ہے۔
نتیجہ
جانور محض اشیا نہیں بلکہ جاندار ہیں۔ ان کے حقوق کا تحفظ ریاست اور شہری دونوں کی ذمہ داری ہے۔
اگر انسان نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو وہ اپنی ہی بقا کو خطرے میں ڈال دے گا۔
“جیو اور جینے دو” کا اصول ہی ایک محفوظ اور متوازن دنیا کی ضمانت ہے۔
