مون سون سیزن میں ماہرین نے زور دیا کہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور قومی سطح پر مربوط حکمت عملی مرتب کی جانی چاہیئے۔
اسلام آباد(فرحین العاص بیورو چیف) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کا مون سون غیر معمولی اور تباہ کن ہو سکتا ہے ۔ جس کے باعث پاکستان کو سیلاب اور گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔ اور پانی کی قلت و شہری علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے۔ جبکہ بہتر منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور قومی سطح پر مربوط حکمت عملی مرتب کی جانی چاہیئے۔
یہ باتیں انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار کے دوران کہی گئی۔ جس کا موضوع“مون سون آؤٹ لک 2026 اور بروقت اقدامات کی ضرورت” تھا۔
گزشتہ سال 35 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع
ماہرین کے مطابق گزشتہ سال مون سون کے دوران تقریباً 35 ملین ایکڑ فٹ پانی بحیرہ عرب میں جا گرا۔ جسے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ذخیرہ کیا جا سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی، آبی گزرگاہوں پر تجاوزات اور کمزور انفراسٹرکچر سیلاب کے خطرات کو کئی گنا بڑھا رہے ہیں۔
غیر متوقع مون سون کے لیے پیشگی اقدامات ضروری
ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی غیر معمولی اور بے ترتیب مون سون کا امکان ہے۔ اس لیے پیشگی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
پانی کے نظم و نسق کے ماہر نصیر میمن نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کو شدید پانی کی قلت اور تباہ کن سیلابوں کا بیک وقت سامنا رہا ہے۔ جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوہِ سلیمان میں شدید بارشوں نے سیلاب کے روایتی انداز کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔
انسانی سرگرمیاں خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں
نصیر میمن کے مطابق جنگلات کی بے دریغ کٹائی، آبی گزرگاہوں پر تجاوزات ایک بڑا مسئلہ ہیں ۔ جو موسمیاتی خطرات کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہر درخت کو صرف لکڑی اور ہر خالی زمین کو پلاٹ سمجھ لیاجائے ۔ تو مون سون میں ہر بارش ایک ممکنہ آفت بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
ڈیم: کیا پاکستان کے لیے سیلابی متبادل حل ہے؟
کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان، فضائی معیار مضر صحت
بہتر منصوبہ بندی سے اموات میں بڑی کمی ممکن
محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے خبردار کیا کہ بھارت میں دریا پہلے ہی بھر چکےہیں ۔ اور وہاں شدید بارشوں کی صورت میں پاکستان میں خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے رکن آپریشنز بریگیڈیئر کامران نے کہا کہ مون سون میں زیادہ تر اموات اچانک سیلاب کے باعث ہوتی ہیں۔ یا عمارتوں کے گرنا اور کرنٹ لگنا اموات کی وجہ بنتاہے۔ جنہیں بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے 80 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے کا خطرہ
محکمہ موسمیات کے گلیشیئر ماہر ڈاکٹر فرخ بشیر نے خبردار کیا کہ گلگت بلتستان میں بڑھتا درجہ حرارت خطرناک ہے ۔ جو گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور مقامی آبادی کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) ڈاکٹر طیب نے بھی خبردار کیا کہ رواں سال گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ جبکہ ہمالیہ اور تبت کے سطح مرتفع میں درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔ جو مون سون کے نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت
این ڈی ایم اے کے رکن رضا اقبال نے کہا کہ 2025 کے سیلاب کے دوران ادارے نے حکومت کے ساتھ مؤثر تعاون کیا۔ جبکہ نجی شعبے کو بھی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت آفات سے نمٹنے کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ 2026 کے مون سون سے قبل بروقت تیاری، سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی اور قومی سطح پر مربوط حکمت عملی ہی ممکنہ انسانی اور معاشی نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
