جنگ کا ماحولیاتی چہرہ عالمی میڈیا کی ترجیحات میں اب بھی ثانوی، ماہرین نے جنگی ماحولیاتی اثرات کو عالمی پالیسی سازی میں شامل کرنے پر زور دیا
فروزاں تجزیاتی رپورٹ
دنیا جب بھی جنگ کی لپیٹ میں آتی ہے تو فوری طور پر جو تصاویر ہمارے ذہن میں ابھرتی ہیں وہ تباہ شدہ عمارتیں، زخمی انسان، نقل مکانی پر مجبور خاندان اور سیاسی بیانات ہوتے ہیں۔
تاہم اس پورے منظرنامے میں ایک اور خاموش اور دیرپا تباہی بھی جنم لیتی ہے اور وہ ہے ماحولیات کی تباہی۔ یہ ایسا پہلو ہے جو اکثر خبروں کے شور میں دب کر رہ جاتا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا عالمی میڈیا اس پہلو کو وہ توجہ دے رہا ہے جس کا یہ مستحق ہے۔
جنگ اور ماحولیات: نظر انداز ہونے والا بحران
حقیقت یہ ہے کہ جنگیں صرف انسانی جانوں اور معیشت کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ زمین کے قدرتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔
جدید جنگی ٹیکنالوجی، بھاری ہتھیاروں کا استعمال، ایندھن کی بے دریغ کھپت اور صنعتی تنصیبات پر حملے ماحول میں زہریلے مادوں کے اخراج کا سبب بنتے ہیں۔
حالیہ عالمی تنازعات میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق صرف چند ہفتوں کی جنگی کارروائیوں سے لاکھوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو سکتی ہے۔ یہ مقدار کئی ممالک کے سالانہ اخراج کے برابر ہوتی ہے۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ جنگیں موسمیاتی تبدیلی کے بحران کو تیز کرنے میں ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا عنصر ہیں۔
عالمی میڈیا کی ترجیحات
اگر عالمی میڈیا کی جنگی کوریج کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انسانی، عسکری اور سیاسی پہلو اب بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماحولیاتی اثرات پر رپورٹنگ ضرور ہو رہی ہے، مگر یہ اکثر ثانوی حیثیت میں سامنے آتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ماحولیاتی موضوعات پر مجموعی میڈیا کوریج میں کمی بھی دیکھی گئی ہے، حالانکہ موسمیاتی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی میڈیا ابھی تک جنگ اور ماحولیات کے تعلق کو اپنے مرکزی بیانیے کا مستقل حصہ نہیں بنا سکا۔
حالیہ تنازعات اور بدلتی توجہ
اس کے باوجود حالیہ برسوں میں ایک مثبت تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات نے عالمی میڈیا کو کسی حد تک مجبور کیا ہے کہ وہ جنگ کے ماحولیاتی نقصانات کو بھی اپنی رپورٹنگ کا حصہ بنائے۔
اب بڑی بین الاقوامی میڈیا تنظیمیں جنگ کے نتیجے میں ہونے والے کاربن اخراج، تیل کے ذخائر پر حملوں سے پیدا ہونے والی آلودگی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر تفصیلی رپورٹس شائع کر رہی ہیں۔
مثال کے طور پر حالیہ جنگی کارروائیوں کے دوران چند ہی دنوں میں لاکھوں ٹن کاربن اخراج اور بحری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصانات کی خبریں عالمی سطح پر توجہ حاصل کر چکی ہیں۔

جنگ کے ماحولیاتی اثرات
جنگوں کے ماحولیاتی اثرات کئی سطحوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔
فضائی آلودگی ان میں سب سے نمایاں ہے، جہاں دھماکوں، جنگی طیاروں اور فوجی گاڑیوں سے خارج ہونے والی گیسیں نہ صرف مقامی بلکہ عالمی فضائی معیار کو متاثر کرتی ہیں۔
اسی طرح آبی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ تیل کے اخراج، کیمیائی مادوں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے باعث دریا، سمندر اور زیر زمین پانی آلودہ ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ جنگلات کی تباہی اور جنگلی حیات کے مسکن کی بربادی حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچاتی ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں۔
توانائی اور ماحولیات کا نیا چیلنج
موجودہ جنگی صورتحال نے توانائی کے عالمی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔
ایک طرف جنگوں کے باعث فوسل فیول پر انحصار بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری طرف یہی بحران قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی ضرورت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔
یہ تضاد عالمی پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جہاں فوری توانائی کی ضروریات اور طویل مدتی ماحولیاتی اہداف کے درمیان توازن قائم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

رپورٹنگ میں رکاوٹیں
عالمی میڈیا کو اس حوالے سے کئی عملی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
جنگی علاقوں تک محدود رسائی، معلومات پر حکومتی پابندیاں اور ماحولیاتی ڈیٹا کی کمی جامع رپورٹنگ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
اس کے علاوہ میڈیا کی عمومی ترجیحات بھی اکثر انسانی اور سیاسی کہانیوں کی طرف جھکی ہوتی ہیں، جس کے باعث ماحولیات کا پہلو پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق جنگ اور ماحولیات کے تعلق کو نظر انداز کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگی اخراج کو اکثر عالمی موسمیاتی معاہدوں میں شامل ہی نہیں کیا جاتا جس کے باعث عالمی سطح پر کاربن اخراج کے اصل حجم کا درست اندازہ نہیں ہو پاتا۔
اگر یہ رجحان جاری رہا تو عالمی درجہ حرارت کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کا ہدف حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان میں پانی کا بحران: کانفرنس 2026 کے اہم فیصلے اور حل
پاکستان کے تناظر میں مسئلہ
اگر اس صورتحال کو پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شکار ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی اور قدرتی آفات معمول بنتی جا رہی ہیں۔
عالمی جنگوں کے نتیجے میں بڑھنے والے اخراج اور توانائی بحران کے اثرات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر زیادہ شدت سے مرتب ہوتے ہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی ماحولیاتی پالیسی سازی میں جنگی اثرات کو بھی شامل کرے اور عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں فعال کردار ادا کرے۔
نتیجہ
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ صرف انسانوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ یہ زمین کے خلاف بھی ایک خاموش جنگ ہوتی ہے۔
عالمی میڈیا نے اس حقیقت کو تسلیم کرنا شروع تو کر دیا ہے، مگر ابھی اسے اپنی ترجیحات میں مزید مرکزی مقام دینا باقی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو نہ صرف رپورٹ کیا جائے بلکہ انہیں عالمی پالیسی سازی کا مستقل حصہ بھی بنایا جائے۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے سیارے کی وارث ہوں گی جو نہ صرف جنگوں کی یادوں بلکہ ماحولیاتی تباہی کے ناقابلِ تلافی زخموں سے بھی بھرا ہوگا۔
