صیحہ کیا ہے؟ کیا یہ محض آواز ہے یا تباہ کن توانائی کی لہر؟ قرآن اور سائنس کی روشنی میں جانیں اس راز کو جو سب کچھ بدل سکتا ہے!
ڈاکٹر شہزادہ ارشاد محمد

کائنات کی تخلیق کا تصور کریں تو پہلا احساس روشنی نہیں، بلکہ آواز کا ابھرتا ہے۔
ازل کے سناٹے میں خالقِ کائنات کا حکم ”کن“ محض ایک لفظ نہیں تھا۔
یہ ایک تخلیقی ارتعاش تھا، یعنی ایک تخلیقی لرزش۔
یہ ایسی صوتی توانائی تھی جس نے عدم کو وجود میں بدل دیا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کی ابتدا بھی ایک آواز سے ہوئی اور اس کا اختتام بھی ایک آواز یعنی ”صور“ پر ہوگا۔

“کن فیکون” سے لے کر “صور” تک، سائنس اور قرآن ایک حیران کن حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
آج کی طبیعیات بھی اسی تصور کے قریب دکھائی دیتی ہے۔
جدید نظریات کے مطابق کائنات کی بنیاد ارتعاش پر ہے۔
سٹرنگ تھیوری کے مطابق مادہ ننھے مرتعش تاروں پر مشتمل ہے۔
یوں قرآن کا ”کن“ اور کائناتی ارتعاش ایک ہی حقیقت کے دو انداز معلوم ہوتے ہیں۔
ایک وحی کا بیان ہے۔
دوسرا تجربہ اور مشاہدے کا۔
آواز صرف سماعت نہیں، بلکہ شعور کو جھنجھوڑنے والی قوت بھی ہے۔
قرآن کا صوتی اعجاز: ”صیحہ“ اور ”خامدون“
قرآنِ حکیم میں لفظ ”صیحہ“ تقریباً 13 مقامات پر آیا ہے۔
ہر جگہ یہ ایک مہلک اور فوری تباہی کی علامت ہے۔
سورہ یٰسین میں ارشاد ہے
”وہ تو بس ایک ہی زبردست آواز تھی، پھر یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“
یہاں دو الفاظ اہم ہیں
صیحہ: شدید دھماکہ خیز آواز، یعنی توانائی کی مہلک لہر۔
خامدون: اچانک بجھ جانا، جیسے آگ راکھ بن جائے۔
جدید سائنس کے مطابق صدماتی لہر کسی جسم کے اندرونی سالماتی بندھن توڑ دیتی ہے۔
اسی لیے دھماکوں میں چیزیں جلتی نہیں بلکہ بکھر جاتی ہیں۔
یہی کیفیت صیحہ کے مفہوم کو واضح کرتی ہے۔
یہ محض آواز نہیں بلکہ مرتکز توانائی کا حملہ ہے۔
حرکیاتِ حرارت کے مطابق ”خامدون“ وہ حالت ہے جہاں توانائی اچانک کم ترین سطح پر آ جاتی ہے۔
ایک زندہ وجود لمحوں میں ساکن ہو جاتا ہے۔
”صیحہ“ اور ”صور“: مقامی تباہی سے کائناتی انقلاب
قرآن میں الفاظ نہایت دقیق ہیں۔
صیحہ ایک مخصوص قوم یا خطے کی تباہی ہے۔
صور ایک کائناتی اعلان ہے جو پورے نظام کو بدل دیتا ہے۔
اسی طرح ”رجفہ“ اور ”طغیہ“ جیسے الفاظ بھی مختلف شدتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ صوتی، حرکی اور ارتعاشی قوتوں کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔
سائنسی تناظر: صوتی لہروں سے صدماتی لہروں تک
جدید سائنس میں صیحہ کو صرف قابلِ سماعت آواز نہیں سمجھا جاتا۔
یہ زیادہ قریب ہے صدماتی لہروں اور دباؤ کی لہروں کے۔
سونک بوم
آواز کی حد سے تجاوز پر پیدا ہونے والی شدید دباؤ کی لہر۔
ایٹمی دھماکے
ان کی تباہی کا بڑا سبب صدماتی لہریں ہوتی ہیں۔
عصبی صوتیات
انسانی دماغ مخصوص فریکوئنسیز کے لیے حساس ہوتا ہے۔
زیرِ حد سماعت آوازیں انسان میں خوف، بے چینی اور ذہنی خلل پیدا کر سکتی ہیں۔
یوں صیحہ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی تباہی بھی ہو سکتی ہے۔

صوتی آلودگی: جدید دور کی ”تدریجی صیحہ
پچیاسی85 ڈیسیبل سے زیادہ شور نقصان دہ ہے۔
یہ سماعت، دل اور ذہن پر اثر ڈالتا ہے۔
شہری زندگی میں مسلسل شور ایک خاموش عذاب ہے۔
یہ انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے ختم کرتا ہے۔
یوں جدید شور کو ”تدریجی صیحہ“ کہا جا سکتا ہے۔

آواز: شفا اور تخلیق کا ذریعہ
آواز صرف تباہی نہیں، بلکہ تعمیر بھی کرتی ہے۔
بالائے صوتی تصویر نگاری سے رحمِ مادر میں بچے کی نگرانی ہوتی ہے۔
صوتی طریقے سے گردے کی پتھری توڑی جاتی ہے۔
سائنسی تجربات میں آواز سے آگ بجھانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔
یوں آواز ایک تعمیری توانائی بھی ہے۔
موسیقی اور صوتی اسرار
انسان نے آواز کا جمالیاتی پہلو دریافت کیا تو موسیقی پیدا ہوئی۔
برصغیر میں راگ دیپک کی مثال دی جاتی ہے۔
بڑے اساتذہ کی آواز میں غیر معمولی گونج بیان کی جاتی ہے۔
مومن کا شعر اس کیفیت کو سمیٹتا ہے
اس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
جدید دنیا: شور کا عذاب
آج کا شہری انسان شور میں گھرا ہوا ہے۔
ٹریفک، صنعت اور ہجوم مسلسل دباؤ پیدا کرتے ہیں۔
یہ شور صیحہ نہیں، مگر اس کا اثر گہرا ہے۔
یہ سکون، احساس اور ذہنی توازن چھین لیتا ہے۔

عالمی ثقافت میں آواز کا خوف
عالمی سنیما نے بھی آواز کے خطرے کو دکھایا ہے۔
اے کوائٹ پلیس میں آواز موت بن جاتی ہے۔
سونک سی میں سمندری حیات پر شور کے اثرات دکھائے گئے ہیں۔
حرفِ آخر: کائنات ایک صوتی مکالمہ
آواز ایک دو دھاری تلوار ہے۔
یہی لوری ہے، یہی اذان، اور یہی صیحہ۔
یہ انسان کا امتحان ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
گلیشیرز تیزی سے پگھلنے لگے،ماہرین کا ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ
جنگ کا دوسرا محاذ: بارود سے بڑھتا کاربن اور موسمیاتی بحران
جدید فلکیات میں کششی لہروں کو بھی کائناتی آواز کہا جا سکتا ہے۔
یہ وقت اور مکان میں سفر کرتی ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ کائنات ابتدا سے انجام تک ایک صوتی مکالمہ ہے۔
اور شاید ہر شے ایک آخری آواز کے انتظار میں ہے۔
جب صور پھونکا جائے گا
خاموشی پھر ارتعاش میں بدل جائے گی
اور زندگی ایک نئے باب کا آغاز کرے گی۔
