موسمیاتی سفارتکاری: کوپ 28 میں ماحولیات، معیشت اور سیاست کے متضاد مفادات آمنے سامنے، عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش بے نقاب
کاشف حسن

دسمبر 2023 میں دبئی میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس کوپ 28 بظاہر ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک اہم اجتماع تھا۔ تاہم، مذاکرات کے آخری مراحل نے واضح کر دیا کہ یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں رہا۔
یہ معاملہ توانائی، معیشت اور عالمی سیاست کا پیچیدہ میدان بن چکا ہے۔ اسی وجہ سے کانفرنس کے اختتام میں تاخیر ہوئی اور مذاکرات کو تقریباً ایک دن بڑھانا پڑا۔

لفظی تنازع، مگر بڑے مفادات
تاخیر کی بنیادی وجہ ایک اہم اصطلاحی اختلاف تھا۔ سوال یہ تھا کہ دنیا کو فوسل فیول کا مکمل خاتمہ کرنا چاہیے یا صرف اس سے بتدریج منتقلی اختیار کرنی چاہیے۔
یہ بظاہر لفظوں کا فرق تھا، مگر درحقیقت عالمی مفادات کی کشمکش کی علامت تھا۔ اسی اختلاف نے موسمیاتی مذاکرات کو سفارتی جنگ میں بدل دیا۔

چھوٹے جزیرہ ممالک کا وجودی خطرہ
ایک طرف مغربی ممالک اور چھوٹے جزیرہ ریاستیں تھیں۔ یہ ممالک فوسل فیول کے مکمل خاتمے پر زور دے رہے تھے۔
بحرالکاہل اور کیریبین کے کئی ممالک، ‘‘الائنس آف اسمال آئی لینڈ اسٹیٹس’’ کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھا رہے تھے۔
ان کے لیے یہ معاملہ نظریاتی نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافہ ان کی زمین اور معیشت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
اگر عالمی درجہ حرارت ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ گیا تو کئی علاقے مستقل طور پر زیرِ آب آ سکتے ہیں۔

افریقہ: کم اخراج، زیادہ نقصان
افریقی ممالک کی پوزیشن بھی نمایاں رہی۔ یہ خطہ عالمی کاربن اخراج میں کم حصہ رکھتا ہے، مگر موسمیاتی اثرات سب سے زیادہ یہیں دیکھے جا رہے ہیں۔
خشک سالی، زرعی بحران اور غذائی قلت نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔
اسی لیے افریقی ممالک نے مؤقف اختیار کیا کہ ترقی یافتہ دنیا کو زیادہ ذمہ داری لینی چاہیے۔
انہوں نے مالی امداد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیا۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کا مؤقف
دوسری طرف خلیجی ریاستیں اور اوپیک کے کئی ممالک تھے۔ یہ ممالک فوسل فیول کے مکمل خاتمے کی زبان شامل کرنے کے خلاف تھے۔
ان کی معیشت کا انحصار تیل اور گیس پر ہے۔ ان کے مطابق فوری خاتمہ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ انہوں نے کاربن کیپچر اور صاف توانائی کے امتزاج کو زیادہ عملی حل قرار دیا۔
یہ بھی اہم ہے کہ کانفرنس کی میزبانی متحدہ عرب امارات نے کی، جو ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔
یورپ کی حکمت عملی
یورپ اور مغربی ممالک کا مؤقف صرف ماحولیاتی نہیں تھا۔ روس۔یوکرین جنگ کے بعد یورپ نے توانائی کے میدان میں اپنی کمزوری کو محسوس کیا۔
روسی گیس پر انحصار نے اسے جغرافیائی دباؤ میں رکھا۔ اس کے بعد یورپ نے قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور گرین ہائیڈروجن پر سرمایہ کاری بڑھا دی۔ یہ اقدام مستقبل کی صنعتوں میں برتری حاصل کرنے کی حکمت عملی بھی ہے۔
نئی معیشت یا ماحولیاتی فکر؟
یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے۔ کیا فوسل فیول کے خاتمے کا مطالبہ صرف ماحولیات کے لیے ہے؟ یا اس کے پیچھے نئی صنعتی منڈیوں کی تشکیل بھی ہے۔
حقیقت دونوں کے درمیان نظر آتی ہے۔ دنیا تیزی سے نئی توانائی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
الیکٹرک گاڑیاں، سولر پینلز اور بیٹری ٹیکنالوجی اس کا مرکز بن چکے ہیں۔ جو ممالک ان شعبوں میں آگے ہیں، وہی مستقبل کی قیادت حاصل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں
زیرِ زمین پانی تیزی سے کم، کیا خطرے کی گھنٹی بج چکی؟
انٹارکٹک میں جانور تیزی سے کیوں ختم ہورہے ہیں؟
نتیجہ: ایک لفظ، بڑی سیاست
بالآخر مذاکرات کے بعد ایک درمیانی راستہ نکالا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ دنیا فوسل فیول سے ’’منتقلی‘‘ کی طرف جائے گی۔
یہ لفظ بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نازک توازن موجود ہے۔
حتمی تجزیہ
کوپ 28 نے یہ واضح کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی۔
یہ توانائی، معیشت، صنعت اور جغرافیائی سیاست کے سنگم پر کھڑا ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس کے حل میں عالمی مفادات کی پیچیدہ کشمکش ہمیشہ شامل رہے گی۔
