فروزاں ماحولیاتی خبریں

سونے کی تلاش، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ، دریائے سندھ کا دم گھٹنے لگا

Gold mining search increases environmental pollution, Indus River begins to suffocate.

سونے کی تلاش سے گلگت بلتستان کے حساس ماحولیاتی نظام پر مائننگ کے بڑھتے دباؤ نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا

گلگت بلتستان میں معدنیات کی تلاش کے لیے جاری کیے گئے لائسنسز پر کام شروع ہو گیا ہے۔ اس پر ماہرین ماحولیات نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل مناسب ماحولیاتی اصولوں کے تحت نہ ہوا تو خطے کا قدرتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

Gold mining search increases environmental pollution, Indus River begins to suffocate.

مزید یہ کہ ماہرین کہ اس سرگرمی سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

چنانچہ اس صورت حال میں علاقے کا ماحولیاتی تحفظ خطرے سے دوچار ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

سینکڑوں مائننگ لائسنس جاری

دوسری جانب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محکمہ معدنیات گلگت بلتستان اب تک مجموعی طور پر 485 مائننگ لائسنس جاری کر چکا ہے۔ ان لائسنسز میں کاپر (تانبا)، سونا، نیپرایڈ اور دیگر معدنیات کی تلاش شامل ہے۔

اسی طرح فروزاں کے ساتھ شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے 127 لائسنس صرف سونے کی تلاش کے لیے جاری کیے ہیں۔

Gold mining search increases environmental pollution, Indus River begins to suffocate.

ادھر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محکمہ معدنیات کے ایک افسر نے بتایا کہ زیادہ تر اجازت نامے آن لائن جاری کیے گئے ہیں۔ بعد ازاں ضروری کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کمپنیوں کو کام شروع کرنے کی اجازت دی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ لائسنس 30 سال کے لیے دیئے گئے ہیں۔ جبکہ ہر لائسنس کے تحت کمپنیوں کو 10 سے 20 مربع کلومیٹر کے علاقے میں معدنیات کی تلاش کی اجازت دی گئی ہے۔

Gold mining search increases environmental pollution, Indus River begins to suffocate.

افسر کے مطابق تمام لائسنس محکمہ تحفظ ماحولیات کے این او سی کے بعد جاری کیے جاتے ہیں۔

ادھر گلگت سے ضلع دیامر کے صدر مقام چلاس تک مختلف مقامات پر سونا اور دیگر معدنیات کی تلاش جاری ہے

دریائے سندھ اور دریائے گلگت پر دباؤ

ادھر گلگت سے ضلع دیامر کے صدر مقام چلاس تک مختلف مقامات پر سونا اور دیگر معدنیات کی تلاش جاری ہے۔

اسی مقصد کے لیے ایک ہزار سے زائد ایکسکیویٹر دریائے سندھ اور دریائے گلگت کے کناروں پر کام کر رہے ہیں۔

Gold mining search increases environmental pollution, Indus River begins to suffocate.

تقریباً 130 سے 140 کلومیٹر کے علاقے میں کھدائی جاری ہے۔ نتیجتاً اس دوران دریا کے پانی میں آلودگی بڑھنے کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔

علاوہ ازیں بعض مقامات پر لائسنس رکھنے والی کمپنیوں نے دریا کے اندر کام کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ریت اور بجری دریا کے کناروں پر ڈال دی۔ اس طرح دریا کا قدرتی بہاؤ متاثر ہو رہا ہے۔

مزید یہ کہ کئی جگہوں پر بجری کے پہاڑ نما ڈھیر بن گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے مستقبل میں دریا کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

ماہرین ماحولیات کی تشویش

اس حوالے سے فروزاں سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر ماحولیات ارم ایاز نے کہا کہ گلگت بلتستان پہاڑی خطہ ہے۔ اور یہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق اس علاقے کا ماحولیاتی ڈھانچہ انتہائی نازک ہے۔ لہٰذا اگر زمین اور دریاؤں سے متعلق سرگرمیاں مناسب طریقے سے منظم نہ کی گئیں تو منفی اثرات بڑھ سکتے ہیں۔ یوں یہ اثرات پورے خطے کے ماحول پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Gold mining search increases environmental pollution, Indus River begins to suffocate.

ارم ایاز کا کہنا تھا کہ مائننگ مقامی لوگوں کی معاشی ضرورت ہو سکتی ہے۔ تاہم اسے پائیدار ترقی (سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ) کے اصولوں کے مطابق کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سرگرمی سے فضا میں بلیک کاربن کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ انسانوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ آبی اور جنگلی حیات بھی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلیک کاربن قریبی گلیشیئرز پر جم سکتی ہے۔ چنانچہ جب سورج کی روشنی اس پر پڑتی ہے تو گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگتے ہیں۔

نو مائننگ زون کی ضرورت

ارم ایاز کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں مائننگ کے لیے واضح اصول موجود ہیں۔ حتیٰ کہ افریقہ کے کئی ممالک میں بھی بفر زون اور نو مائننگ زون مقرر کیے گئے ہیں۔

چنانچہ ایسے علاقوں میں جہاں جنگلات، جنگلی حیات یا گلیشیئرز موجود ہوں وہاں مائننگ کی اجازت نہیں دی جاتی۔

ان کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی بعض مقامات ایسے ہیں جہاں قدرتی وسائل کے قریب مائننگ ہو رہی ہے۔ حالانکہ یہ علاقے ماحولیاتی لحاظ سے نو مائننگ زون تصور کیے جاتے ہیں۔

مقامی کمیونٹی کی شمولیت ضروری

ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی کمیونٹی کو شامل کیے بغیر قدرتی وسائل کا تحفظ ممکن نہیں۔

ارم ایاز کے مطابق اگر مائننگ سے مقامی معیشت بہتر ہو رہی ہے تو یہ مثبت بات ہے۔ تاہم اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا کچھ حصہ کمیونٹی انگیجمنٹ کے لیے مختص ہونا چاہیے۔

تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے آگاہی دی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد متاثرہ علاقوں میں زمین کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں بحال کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ حساس مقامات پر سرگرمیاں مقامی آبادی کی زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ان کے مطابق کسی بھی کمپنی کو لائسنس جاری کرنے سے پہلے مکمل انوائرمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ لازمی ہونی چاہیے۔

فروزاں نے محکمہ تحفظ ماحولیات کے ڈائریکٹر خادم حسین سے رابطہ کیا

ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ

دوسری جانب فروزاں نے محکمہ تحفظ ماحولیات کے ڈائریکٹر خادم حسین سے رابطہ کیا۔ جس پر انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایس سلک روٹ انٹرنیشنل اور ہائی ٹیک پائپ انجینئرنگ انڈسٹریز پر 11 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ان کمپنیوں نے گلگت کے قریب عالم برج کے مقام پر سونے کی تلاش کے دوران کھدائی شدہ مٹی دریا میں پھینکی۔ جس کے نتیجے میں آبی حیات اور دریا کے بہاؤ کو خطرہ لاحق ہوا۔ جبکہ قریبی آبادیوں پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

بعد ازاں محکمہ تحفظ ماحولیات نے کمپنی کو ہدایت دی کہ 20 دن کے اندر ملبہ ہٹا دیا جائے۔ بصورت دیگر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 30 اپریل تک دریا کنارے سے تمام مٹی صاف کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

برفانی چیتے کا تحفظ، گلگت بلتستان میں اہم معاہدہ

عالمی یومِ ارض: کیا دنیا کا “تیسرا قطب” ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر ہے؟

یومِ ارض 2026: کوئٹہ اور پشاور میں شجرکاری مہم، سرسبز پاکستان کا عزم

حساس ماحولیاتی نظام کو خطرہ

خادم حسین کے مطابق گلگت بلتستان کا 70 سے 80 فیصد رقبہ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔ جہاں جنگلات اور گلیشیئرز موجود ہیں۔

لہٰذا اگر ان علاقوں میں مائننگ ماحولیاتی قوانین کے مطابق نہ ہوئی تو یہ خطے کے ماحولیاتی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ تحفظ ماحولیات نے ماحولیات ایکٹ 2014 کے تحت مائننگ رولز پر عمل درآمد یقینی بنایا ہے۔ اسی لیے سونے کی تلاش کے لئے لائسنس جاری کرنے سے پہلے آئی اے اور ای آئی اے کرائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پبلک ہیرنگ بھی کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق بعض مقامات پر خلاف ورزی کی شکایات موصول ہوئیں۔ جس پر کمپنیوں کو انتباہ دیا گیا۔ اور بعض جگہوں پر کام بھی رکوا دیا گیا اور جرمانے عائد کیے گئے۔

خادم حسین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کا ماحولیاتی نظام انتہائی حساس ہے۔ اس لیے اگر معدنی ذخائر کی تلاش ضابطوں کے مطابق نہ ہوئی تو یہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دریائے گلگت اور دریائے سندھ کے کناروں پر جاری مائننگ سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ چنانچہ محکمہ تحفظ ماحولیات اور دیگر ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاکہ سرگرمیاں حکومتی قوانین کے مطابق ہوں اور ماحولیاتی توازن محفوظ رہ سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں