فروزاں فروزاں کے مضامین

قدرت کے آخری قلعے: زمین کو بچانے کی آخری امید؟

Nature’s Last Strongholds: The Final Hope to Save the Earth?

قدرت کا تحفظ اب انتخاب نہیں بلکہ بقا کی شرط بن چکا ہے۔ یونیسکو کی رپورٹ نے محفوظ قدرتی علاقوں کی اہمیت واضح کر دی۔

دنیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ماحولیاتی تباہی کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جنگلات کی کٹائی ہو رہی ہے۔ حیاتیاتی تنوع کم ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان عوامل نے زمین کے قدرتی نظام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ایسے حالات میں یونیسکو (اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت) کی تازہ رپورٹ “پیپل اینڈ نیچر اِن یونیسکو ڈیزگنیٹڈ سائٹس” امید کی ایک اہم کرن پیش کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے یونیسکو کے نامزد قدرت کے بنائے ہوئے مقامات میں انسان اور فطرت کا تعلق۔ رپورٹ کے مطابق اگر فطرت کا درست اور مؤثر تحفظ کیا جائے تو قدرتی نظام خود کو بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ تحقیق عالمی ماحولیاتی بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتی ہے کہ یونیسکو کے محفوظ مقامات اس بحران کے خلاف مضبوط دفاعی حصار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 1970 کی دہائی کے بعد دنیا بھر میں جنگلی حیات میں تقریباً 73 فیصد کمی آ چکی ہے۔

حیاتیاتی تنوع کا مضبوط قلعہ

رپورٹ کے مطابق 1970 کی دہائی کے بعد دنیا بھر میں جنگلی حیات میں تقریباً 73 فیصد کمی آ چکی ہے۔ ماہرین اسے نہایت تشویشناک رجحان قرار دیتے ہیں۔

اس کے باوجود یونیسکو کے محفوظ علاقوں میں صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔ یہاں قدرتی کا ظام زیادہ مستحکم دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عالمی نیٹ ورک 2260 مقامات پر مشتمل ہے۔ مجموعی طور پر یہ 1 کروڑ 30 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا رقبہ چین اور بھارت کے مجموعی رقبے سے بھی بڑا ہے۔

ان علاقوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ دنیا کی 60 فیصد سے زائد معلوم انواع یہاں پائی جاتی ہیں۔ تقریباً 40 فیصد انواع صرف انہی علاقوں تک محدود ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ قدر ت کے حسین و محفوظ مقامات ختم ہو گئے تو ہزاروں انواع ہمیشہ کے لیے معدوم ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 1970 کی دہائی کے بعد دنیا بھر میں جنگلی حیات میں تقریباً 73 فیصد کمی آ چکی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قدرتی ڈھال

یونیسکو کے محفوظ علاقے صرف قدرتی حسن کے مظاہر نہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مضبوط قدرتی دفاع بھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ علاقے مجموعی طور پر 240 گیگا ٹن کاربن ذخیرہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ مقدار موجودہ عالمی کاربن اخراج کے تقریباً 20 سال کے برابر ہے۔

اگر قدرت کے یہ ذخائر کسی وجہ سے ختم ہو جائیں تو خطرہ بڑھ جائے گا۔ یہی کاربن فضا میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں یہ ایک “کاربن بم” بن سکتا ہے۔ اس سے عالمی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ ایسے میں موسمیاتی اہداف حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ محفوظ قدرتی علاقے انسانوں سے خالی ہوتے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس

انسان اور ثقافت کا جڑا ہوا رشتہ

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ محفوظ قدرتی علاقے انسانوں سے خالی ہوتے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 90 کروڑ افراد ان علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ دنیا کی تقریباً 10 فیصد آبادی بنتی ہے۔ یہاں 1000 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔

تقریباً 25 فیصد مقامات مقامی اور قدیم آبادی کی زمینوں پر واقع ہیں۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ میں یہ شرح 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک اہم حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ فطرت کا تحفظ انسانوں کے بغیر ممکن نہیں۔ مقامی کمیونٹیز صدیوں سے ان ماحولیاتی نظاموں کی حفاظت کر رہی ہیں۔

معاشی لحاظ سے بھی یہ علاقے اہم ہیں۔ عالمی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد حصہ ان سے وابستہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحفظ اور ترقی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔

یہ نیٹ ورک خطرات کی زد میں ہے

یونیسکو کا یہ نیٹ ورک امید کی علامت ضرور ہے۔ تاہم یہ خود بھی کئی خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 90 فیصد یونیسکو مقامات ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں موسمیاتی آفات میں اضافہ ہوا ہے۔ سیلاب اور جنگلاتی آگ کے واقعات میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ 2050 تک ہر چار میں سے ایک مقام “ٹپنگ پوائنٹ” تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ وہ حد ہے جہاں سے ماحولیاتی نظام ناقابلِ واپسی تبدیلی کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس مرحلے پر کئی بڑے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ گلیشیئرز مکمل طور پر پگھل سکتے ہیں۔ مرجانی چٹانیں تباہ ہو سکتی ہیں۔ جنگلات کاربن جذب کرنے کے بجائے اسے خارج کرنا شروع کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جنگی دھماکے زمین، فضا اور پانی کو کیسے تباہ کر رہے ہیں؟

سونے کی تلاش، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ، دریائے سندھ کا دم گھٹنے لگا

چھ سیاروں کی بیک وقت موجودگی؟ کیا واقعی ایسا خطرناک منظر نظر آئے گا؟

آگے کا راستہ: فوری اقدامات کی ضرورت

صورتحال تشویشناک ضرور ہے۔ مگر ابھی بھی بہت کچھ بچایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کمی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے متاثرہ مقامات کی تعداد تقریباً آدھی ہو سکتی ہے۔

یونیسکو نے عالمی برادری کو واضح پیغام دیا ہے۔ ان مقامات کو صرف سیاحتی مقامات نہ سمجھا جائے۔ انہیں اسٹریٹجک ماحولیاتی اثاثے یعنی ماحول کے لیے نہایت اہم قدرت کے ذخائر سمجھا جائے۔

رپورٹ میں کئی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔قدرت کے تباہ شدہ ماحولیاتی نظاموں کی بحالی ضروری ہے۔ سرحد پار حیاتیاتی تحفظ کو مضبوط بنایا جائے۔ مقامی اور قدیم کمیونٹیز کو اس عمل میں مرکزی کردار دیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں