صوتی آلودگی پر قابو کے لیے اجتماعی ذمہ داری ضروری، ہر فرد کو بہتری کے لیے خود سے عملی اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا
شاہ خالد شاہ جی

دنیا میں آلودگی کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں ایک اہم قسم صوتی یا شور کی آلودگی ہے۔ اس مسئلے کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق وہ آوازیں جو کانوں کو ناگوار گزریں، صوتی آلودگی کہلاتی ہیں۔ سریلی آوازیں اور پرندوں کی چہچہاہٹ خوشگوار محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن جب آواز حد سے بڑھ جائے اور اثر انداز ہونے لگے تو وہ شور بن جاتی ہے۔

شور کے بڑے ذرائع
صوتی آلودگی ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ہے۔ روزمرہ زندگی میں اس کے کئی ذرائع ہیں۔
ان میں ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز، موٹر گاڑیاں، پرانے رکشے، گھروں کی گھنٹیاں اور بلند آواز میں گفتگو شامل ہیں۔

ماہرین کی رائے
پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق پشاور کے شعبہ ماحولیات کے سربراہ جہانگیر شاہ کے مطابق 65 ڈیسیبل سے زیادہ آواز شور آلودگی شمار ہوتی ہے۔
ان کے مطابق دباؤ والے ہارن اس مسئلے کی بڑی وجہ ہیں۔ اس کے علاوہ کاروباری مقاصد کے لیے ٹیپ ریکارڈر کا بے جا استعمال اور تعمیراتی مشینری کا شور بھی شامل ہے۔
پشاور میں شور کی صورتحال
جہانگیر شاہ کے مطابق پشاور کے مختلف علاقوں میں جائزہ لیا گیا۔ صبح 7 سے 9 بجے اور دوپہر 1 سے 3 بجے کے دوران شور کی سطح حد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
رام داس، سپین جماعت چوک، بورڈ بازار، سورے پل، تہکال، حاجی کیمپ، کوہاٹی اور صدر ایسے علاقے ہیں جہاں شور نمایاں ہے۔

شور کی سطح کی تفصیلات
تجارتی اور رہائشی علاقے:70 سے 88 ڈیسیبل تک شور ریکارڈ ہوا، جبکہ حد 65 ڈیسیبل ہے۔
خاموش زون (علاقہ):ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قریب شور 60 ڈیسیبل سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ حد 45 سے 50 ہے۔
شدید متاثرہ مقامات: فردوس، قصہ خوانی، اسٹیڈیم چوک، ہشت نگری اور کارخانو مارکیٹ میں شور 84 سے 86 ڈیسیبل تک ریکارڈ کیا گیا۔
ٹریفک وارڈنز سب سے زیادہ متاثر
شور سے سب سے زیادہ متاثر ٹریفک وارڈنز ہوتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق ان میں سماعت کی کمی عام ہے۔
ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ گھر میں بھی بلند آواز میں بات کرتے ہیں۔ انہیں اپنی آواز عام محسوس ہوتی ہے، لیکن اس سے خاندان متاثر ہوتا ہے۔
دیگر اضلاع میں صورتحال
خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں جیسے مردان، سوات، ڈیرہ اسماعیل خان اور ایبٹ آباد میں بھی شور بڑھ رہا ہے۔
محکمہ تحفظ ماحولیات نے صنعتی یونٹس کو شور روکنے والی رکاوٹیں لگانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دیہی علاقوں میں بھی مسئلہ
اب یہ مسئلہ صرف شہروں تک محدود نہیں رہا۔ دیہی علاقوں میں بھی شور بڑھ رہا ہے۔
ضلع باجوڑ میں لاؤڈ اسپیکر، ٹیپ ریکارڈر اور گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اس کی بڑی وجہ ہے۔
صحت پر اثرات
ماہرین کے مطابق مسلسل شور میں رہنے سے سماعت متاثر ہوتی ہے۔
یہ اعصابی تناؤ، بے سکونی اور چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔ نیند متاثر ہوتی ہے۔ دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
حکومتی اقدامات
خیبر پختونخوا محکمہ تحفظ ماحولیات نئی فیکٹریوں اور تجارتی منصوبوں کے لیے ماحولیاتی جائزہ لازمی قرار دے رہا ہے۔
اس کا مقصد شور کو قانونی حدود میں رکھنا ہے۔
عوامی سطح پر اقدامات کی ضرورت
ماہرین کے مطابق صرف حکومت پر انحصار کافی نہیں۔ ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ڈرائیورز کو دباؤ والے ہارن کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
کاروباری مراکز میں لاؤڈ اسپیکر محدود استعمال کیے جائیں۔
شادی بیاہ میں آتش بازی کم کی جائے۔
گھروں میں ٹی وی کے استعمال کے اوقات مقرر کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں
خنجراب نیشنل پارک: کنزرویشن ماڈل کامیاب، مقامی آبادی میں کروڑوں تقسیم
معجزاتی درخت کا پانی سے مائیکرو پلاسٹکس ختم کرنے میں انقلابی کردار سامنے آگیا
مردہ کچھوؤں کی لرزہ خیز دریافت مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟
حل کی جانب قدم
اگر ہم مکمل نہیں تو جزوی طور پر بھی ان اقدامات پر عمل کریں تو بہتری ممکن ہے۔
صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے خود سے آغاز ضروری ہے۔
عالمی دن کی اہمیت
شور سے آگاہی کا عالمی دن ہر سال اپریل کے آخری بدھ کو منایا جاتا ہے
اس دن کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔
لوگوں کو شور کے اثرات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے تاکہ لوگ اپنے ماحول کے شور کو محسوس کر سکیں۔
