انہوں نے کہا کہ ہجرت کرنے والے پرندے نہ صرف ماحولیاتی نظام کی صحت کے اشاریے ہوتے ہیں بلکہ زرعی شعبے میں کیڑوں کے کنٹرول، پولینیشن اور بیجوں کی ترسیل جیسے اہم عمل میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اس سال کا عالمی موضوع “مشترکہ جگہیں: پرندوں کے لیے دوستانہ شہر اور کمیونٹیز بنانا” ہے، جو شہری منصوبہ بندی میں پائیداری، قدرتی آبی ذخائر، مقامی درختوں کی شجرکاری، اور غیر قانونی شکار کی روک تھام جیسے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ تیز رفتار شہری پھیلاؤ، بلند و شیشے والی عمارتیں، روشنی کی آلودگی، اور قدرتی رہائش گاہوں کی تباہی مہاجر پرندوں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ یہ مسائل ان کے لیے ہجرت کا راستہ کھو دینا یا ٹکرانے جیسے حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی وفاقی و صوبائی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر سائنسی بنیادوں پر پالیسی سازی، عوامی آگاہی، اور پائیدار ترقی کے ذریعے مہاجر پرندوں کی بقاء کو یقینی بنانے میں سرگرم عمل ہے۔
محمد سلیم شیخ نے کہا کہ پرندوں کی حفاظت صرف حیاتیاتی تنوع کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عالمی ذمہ داری بھی ہے۔ “ہجرت کرنے والے پرندوں کا تحفظ ہمارے ماحولیاتی نظام، پائیدار مستقبل، اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ناگزیر ہے۔”
موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی اور انسانی مداخلت کے باعث ہنٹا وائرس پھیلانے والے چوہے نئے…
پاکستان میں مہمان پرندے: ویٹ لینڈز کی تباہی اور غیر قانونی شکار بڑا چیلنج، تحفظ…
پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر…
اسلام آباد میں زیر تعمیر بابر پارک کو پاک-ازبک دوستی کی علامت قرار دیا گیا،…
مہمان پرندے: برڈ لائف انٹرنیشنل نے ہجرتی پرندوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اور…
کلین اینڈ گرین اسلام آباد مہم کے تحت ایف-6/3 ہِل ویو پارک میں تقریب، طلبہ…
This website uses cookies.