Categories: environmental-reports

آئندہ پانچ سالوں میں گرمی کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان

ڈبلیو ایم او رپورٹ

آئندہ دہائیوں کے دوران عالمی حدت میں مزید خطرناک اضافہ روکنے کے لیے ہنگامی موسمیاتی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

2024 معلوم تاریخ کا گرم ترین سال تھا اور عالمی حدت میں تیزرفتار اضافہ مسلسل جاری ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ 2029 تک کوئی ایک برس گرمی کا یہ ریکارڈ بھی توڑ دے گا۔’ڈبلیو ایم او’ کی جانب سے ایک دہائی کے عرصہ میں کرہ ارض کی موسمیاتی صورتحال پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ پانچ سال کے دوران عالمی حدت میں اضافے کی شرح قبل از صنعتی دور (1850 تا 1900) کے مقابلے میں 1.2 تا 1.9 ڈگری سیلسیئس زیادہ رہے گی۔

عالمی حدت میں اضافے کے نئے ریکارڈ

‘ڈبلیو ایم او’ کا اندازہ ہے کہ گزشتہ برس کرہ ارض کے اوسط درجہ حرارت میں قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.34 اور 1.41 ڈگری سیلسیئس اضافہ دیکھا گیا۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ 2034 تک عالمی حدت میں اوسط اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.44 ڈگری سیلسیئس زیادہ رہے گا۔ایک فیصد امکان یہ بھی ہے کہ آئندہ نو سال میں کسی ایک برس عالمی حدت میں اضافہ 2 ڈگری سیلسیئس سے بڑھ جائے گا۔ 70 فیصد امکان ہے کہ حدت میں اضافے کی پانچ سالہ اوسط 1.5 ڈگری کی حد کو عبور کر جائے گی۔

‘ڈبلیو ایم او’ نے کہا ہے کہ پیرس معاہدے میں طے کردہ 1.5 ڈگری سیلسیئس کے ہدف کا تعلق 20 سال سے زیادہ مدت کے لیے ہے اور کسی برس عالمی حدت کے اس حد سے تجاوز کرنے کا مطلب اس ہدف کا ناقابل رسائی ہو جانا نہیں۔ تاہم، ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی سال ریکارڈ توڑ حدت تیزی سے بڑھتے موسمیاتی بحران کی انتباہی علامت ضرور کہی جا سکتی ہے۔’ڈبلیو ایم او’ نے آئندہ عرصہ میں افریقہ کے ساہل خطے، شمالی یورپ اور جنوبی ایشیا میں معمول سے زیادہ بارشوں اور ایمازون میں خشک سالی کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

قطب شمالی میں بڑھتی گرمی

ادارے کا کہنا ہے کہ قطب شمالی (آرکٹک) میں موسمیاتی صورتحال دیگر خطوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہے۔ آئندہ پانچ موسم سرما میں (نومبر سے مارچ تک) خطے کا اوسط درجہ حرارت 1991 تا 2020 کی اوسط کے مقابلے میں 2.4 ڈگری سیلسیئس تک زیادہ گرم رہنے کا امکان ہے۔ یہ عالمی اوسط سے 3.5 گنا زیادہ اضافہ ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق، بالخصوص بحیرہ بارنٹ، بیرنگ اور اوخوتسک میں سمندری برف میں کمی آنے کی توقع ہے جس سے سطح سمندر میں اضافہ ہو گا اور دنیا بھر میں موسمیاتی صورتحال میں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔’ڈبلیو ایم او’ نے آئندہ دہائیوں کے دوران عالمی حدت میں مزید خطرناک اضافہ روکنے کے لیے ہنگامی موسمیاتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

admin

Recent Posts

موسمیاتی تبدیلی ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر رہی ہے؟

موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی اور انسانی مداخلت کے باعث ہنٹا وائرس پھیلانے والے چوہے نئے…

7 hours ago

پاکستان میں مہمان پرندوں کو خطرات، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا تحفظ پر زور

پاکستان میں مہمان پرندے: ویٹ لینڈز کی تباہی اور غیر قانونی شکار بڑا چیلنج، تحفظ…

10 hours ago

پاکستان اور ترکیہ کا ماحولیاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر…

10 hours ago

اسلام آباد میں بابر پارک کی تعمیر تیزی سے جاری

اسلام آباد میں زیر تعمیر بابر پارک کو پاک-ازبک دوستی کی علامت قرار دیا گیا،…

14 hours ago

مہمان پرندے: ماحولیاتی نظام کے لیے خطرناک صورتحال نے عالمی تشویش بڑھا دی

مہمان پرندے: برڈ لائف انٹرنیشنل نے ہجرتی پرندوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اور…

1 day ago

کلین اینڈ گرین اسلام آباد: ڈاکٹر مصدق ملک نے شجرکاری مہم میں شرکت کی

کلین اینڈ گرین اسلام آباد مہم کے تحت ایف-6/3 ہِل ویو پارک میں تقریب، طلبہ…

2 days ago

This website uses cookies.