Categories: faroozan-article

ناکافی قانون سازی فطرت کے خلاف جرائم کی روک تھام میں رکاوٹ

یو این نیوز

فطرت اور جنگلی حیات کے خلاف جرائم پر سزاؤں میں عدم مساوات

ماحولیاتی جرائم کے خلاف عالمی کوششیں زیادہ تر ممالک کے قوانین میں فرق کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فطرت کے خلاف جرائم روکنے کے لیے مضبوط قوانین کی ضرورت ہے تاکہ ان جرائم کے مرتکب افراد اور اداروں کو مؤثر سزا دی جا سکے۔

مؤثر قوانین کی اہمیت

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کی تحقیقاتی شعبہ کی سربراہ اینجیلا می نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے قوانین میں بہتری آئی ہے، لیکن ان قوانین کے اطلاق میں عالمی سطح پر فرق پایا جاتا ہے، جس سے جرائم پیشہ گروہ ان قانونی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اینجیلا می کی یہ بات ویانا میں جاری کی گئی پہلی رپورٹ میں شامل کی گئی، جس میں قدرتی ماحول کے خلاف جرائم کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

ماحولیاتی جرائم کی اقسام

رپورٹ میں قدرتی ماحول کے خلاف نو مختلف اقسام کے جرائم پر روشنی ڈالی گئی ہے جن میں جنگلات کا صفایا، غیرقانونی ماہی گیری، شور کی آلودگی، جنگلی حیات کا تحفظ نہ کرنا، فضلہ کی مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے میں غفلت، اور فضائی، زمینی اور ٹھوس فضلے کی آلودگی شامل ہیں۔

قانونی سزائیں اور ان کا اطلاق

دنیا کے 85 فیصد ممالک نے جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے کو جرم قرار دیا ہے، اور 45 فیصد ممالک نے ایسے جرائم کے لیے چار یا اس سے زیادہ سال کی قید کی سزا رکھی ہے۔ تاہم، تمام ممالک میں ان قوانین کا اطلاق یکساں نہیں ہے، جس سے بڑے معاشی ادارے بعض اوقات صرف جرمانے ادا کرکے بچ جاتے ہیں، جبکہ افراد کو قید کی سزا ملتی ہے۔

علاقائی فرق اور چیلنجز

ماحولیاتی جرائم کے قوانین میں مختلف ممالک اور خطوں کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اوشیانا میں 43 فیصد ممالک نے غیرقانونی ماہی گیری کو سنگین جرم قرار دیا ہے، جبکہ یورپ میں صرف 2 فیصد ممالک میں اسے سزا کا مستحق جرم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح، مشرقی افریقہ میں 12 میں سے 18 ممالک نے جنگلی حیات کے خلاف جرائم کو سنگین جرم قرار دیا ہے، لیکن ان قوانین پر عملدرآمد کی صورت حال میں بہتری کی ضرورت ہے۔

ماحولیاتی جرائم کے خلاف کارروائی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر جنگلی حیات کے خلاف جرائم کے لیے کم سے کم ایک سزا 164 ممالک میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ، 160 ممالک میں فضلہ کو غیر مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا جرم ہے۔ تاہم، بہت سے ممالک میں ان جرائم کے مجرموں کے خلاف قانون کا اطلاق یکساں نہیں ہے، جس کی وجہ سے بڑے ادارے بچ نکلتے ہیں، جبکہ چھوٹے مجرم پکڑے جاتے ہیں۔

قانونی بہتری کی ضرورت

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممالک کو ماحولیاتی جرائم کے ارتکاب کے ذرائع کو قابو میں لانے کے لیے قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھانے کے لیے مجرموں کی حوالگی اور باہمی قانونی معاونت جیسے طریقہ کار کو بھی بڑھایا جانا چاہیے۔

ماحولیاتی جرائم کے خلاف عالمی سطح پر ٹھوس قانون سازی اور اس کے مؤثر نفاذ کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ فطرت اور جنگلی حیات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ممالک کو اپنے قوانین کی اصلاح کر کے ان جرائم کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

admin

Recent Posts

موسمیاتی تبدیلی ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر رہی ہے؟

موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تباہی اور انسانی مداخلت کے باعث ہنٹا وائرس پھیلانے والے چوہے نئے…

13 hours ago

پاکستان میں مہمان پرندوں کو خطرات، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا تحفظ پر زور

پاکستان میں مہمان پرندے: ویٹ لینڈز کی تباہی اور غیر قانونی شکار بڑا چیلنج، تحفظ…

16 hours ago

پاکستان اور ترکیہ کا ماحولیاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر…

17 hours ago

اسلام آباد میں بابر پارک کی تعمیر تیزی سے جاری

اسلام آباد میں زیر تعمیر بابر پارک کو پاک-ازبک دوستی کی علامت قرار دیا گیا،…

20 hours ago

مہمان پرندے: ماحولیاتی نظام کے لیے خطرناک صورتحال نے عالمی تشویش بڑھا دی

مہمان پرندے: برڈ لائف انٹرنیشنل نے ہجرتی پرندوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اور…

2 days ago

کلین اینڈ گرین اسلام آباد: ڈاکٹر مصدق ملک نے شجرکاری مہم میں شرکت کی

کلین اینڈ گرین اسلام آباد مہم کے تحت ایف-6/3 ہِل ویو پارک میں تقریب، طلبہ…

2 days ago

This website uses cookies.