farozaan

مردہ کچھوؤں کی لرزہ خیز دریافت مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

شمالی میپ کچھوؤں کی اوپینیکن جھیل میں بڑے پیمانے پر ہلاکت، ماہرین کا انتباہ، تحقیق جاری، ماحولیات پر سوالات اٹھ گئے ہیں

یہ انکشاف کارلٹن یونیورسٹی کے ماہرِ حیاتیات گریگوری بُلٹے نے اپریل 2022 میں کیا۔ وہ جھیل کے علاقے میں تحقیق کر رہے تھے جب انہیں ایک مردہ شمالی میپ کچھوا ملا۔

یہ وہ نسل ہے جس کے خول پر نقشے جیسی واضح لکیریں ہوتی ہیں۔ مزید قریب جانے پر انہیں ایک کے بعد ایک مزید مردہ کچھوے نظر آئے اور صورتحال غیر معمولی طور پر سنگین دکھائی دی۔

گریگوری بُلٹے نے فوری طور پر پانی میں اترنے کا فیصلہ کیا اور ویٹ سوٹ اور اسنارکل کے ساتھ جھیل میں تحقیق شروع کی۔

جھیل میں بڑے پیمانے پر لاشیں

گریگوری بُلٹے نے فوری طور پر پانی میں اترنے کا فیصلہ کیا اور ویٹ سوٹ اور اسنارکل کے ساتھ جھیل میں تحقیق شروع کی۔ اس وقت پانی شدید سرد تھا اور برف ابھی حال ہی میں پگھلی تھی۔

انہوں نے کئی گھنٹوں تک جھیل کے مختلف حصوں کی تلاشی لی اور اس دوران مسلسل مردہ کچھوے ملتے رہے۔ آخرکار تقریباً 150 لاشیں جمع کی گئیں جو ایک بڑے ماحولیاتی نقصان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ایک بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکت ہے جس سے جھیل کی تقریباً 10 فیصد کچھوؤں کی آبادی متاثر ہوئی ہے۔

ابتدائی نتائج اور خدشات

ماہرین کے مطابق یہ ایک بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکت ہے جس سے جھیل کی تقریباً 10 فیصد کچھوؤں کی آبادی متاثر ہوئی ہے۔

ابتدائی تجزیے میں شکاری حملے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور سب سے زیادہ شک دریا کے اوٹر پر کیا جا رہا ہے۔

یہ جانور بعض اوقات کچھوؤں پر حملہ کرتے ہیں تاہم اس سطح کا نقصان غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

ممکنہ وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

تحقیق کے مطابق شمالی میپ کچھوے سردیوں میں جھیل کی تہہ میں بڑے گروہوں کی صورت میں جمع ہو جاتے ہیں اور اس دوران تقریباً غیر متحرک رہتے ہیں۔ ا

س حالت میں ان کا میٹابولزم بہت سست ہو جاتا ہے جس سے وہ زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دریا کے اوٹر برف کے کمزور حصوں سے جھیل میں داخل ہوئے ہوں گے۔

ایک اور امکان درجہ حرارت میں تبدیلی کا بھی ہے جو برف کی ساخت کو متاثر کر سکتی ہے۔

تاہم اب تک اس واقعے کی حتمی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔

خطرے میں موجود نسل

شمالی میپ کچھوے پہلے ہی مختلف خطرات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی آبادی محدود ہے۔
یہ دیر سے بالغ ہوتے ہیں اور ان کے بچے کم تعداد میں زندہ بچ پاتے ہیں۔

کشتیوں سے ٹکراؤ، ماہی گیری کے جال اور ساحلی ترقی ان کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مارگلہ ہلز میں تیندوؤں کی یلغار، کیا شہری علاقے خطرے میں؟

گلگت بلتستان: گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ، الرٹ جاری

جانوروں کے تحفظ کیلئے اقدامات: وفاقی کمیٹی اجلاس میں پالیسی پر غور

ماہرین کی وارننگ

گریگوری بُلٹے کے مطابق یہ واقعہ ایک واضح وارننگ ہے اور سردیوں کے محفوظ مقامات کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔

ان کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو کچھوؤں کی آبادی مزید کم ہو سکتی ہے اور یہ “متعدد زخموں سے ہونے والی موت” کے مترادف ہے۔

admin

Recent Posts

اسلام آباد میں بابر پارک کی تعمیر تیزی سے جاری

اسلام آباد میں زیر تعمیر بابر پارک کو پاک-ازبک دوستی کی علامت قرار دیا گیا،…

2 hours ago

مہمان پرندے: ماحولیاتی نظام کے لیے خطرناک صورتحال نے عالمی تشویش بڑھا دی

مہمان پرندے: برڈ لائف انٹرنیشنل نے ہجرتی پرندوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اور…

19 hours ago

کلین اینڈ گرین اسلام آباد: ڈاکٹر مصدق ملک نے شجرکاری مہم میں شرکت کی

کلین اینڈ گرین اسلام آباد مہم کے تحت ایف-6/3 ہِل ویو پارک میں تقریب، طلبہ…

1 day ago

عالمی حدت دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے آئی؟

عالمی حدت تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور پگھلتے گلیشیئرز…

3 days ago

فوسل فیولز منتقلی:دنیا تیل اور کوئلے سے نجات کی جانب ایک نئی سمت میں داخل

فوسل فیولز سے منتقلی عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے رہی ہے، جہاں…

3 days ago

گلگت بلتستان انتخابات: وال چاکنگ پر پابندی، ماحول ترجیح

گلگت بلتستان انتخابات میں وال چاکنگ پر پابندی، الیکشن کمیشن نے ماحول دوست انتخابی مہم…

4 days ago

This website uses cookies.