farozaan

گلیشیرز تیزی سے پگھلنے لگے،ماہرین کا ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ

گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جس سے پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میںسیلاب، پانی کی قلت اور ماحولیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ فوری طور پر ’’گلیشیر ایمرجنسی‘‘ نافذ کی جائے۔ حساس علاقوں میں جدید مانیٹرنگ ضروری ہے ۔ جبکہ قبل از وقت حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

ماہرینِ ماحولیات اور برفانی نظام کے ماہرین نے خبردار کیا ہے۔ کہ پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جس سے سیلاب، پانی کی قلت اور ماحولیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیرِ اہتمام ایک مشاورتی اجلاس میں کی گئی۔ جس کا موضوع گلگت بلتستان کے لیے گلیشیر ایڈاپٹیشن پلان کی تیاری تھا۔ اجلاس میں حکومتی اداروں، تحقیقاتی تنظیموں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

شمالی علاقوں میں خطرات بڑھ رہے ہیں

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ذاکر حسین نے کہا کہ خطہ سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں حفاظتی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں ۔ اور شجرکاری کے ذریعے پہاڑی ڈھلوانوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق اس وقت تقریباً 180 ابتدائی وارننگ سسٹم نصب ہیں۔ تاہم یہ صرف 16 وادیوں تک محدود ہیں۔ اور مزید علاقوں تک توسیع کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں۔

گلیشیرز میں بڑی کمی کا خدشہ

ایس ڈی پی آئی کی زینب نعیم نے کہا کہ 2022 کے بعد شدید موسمیاتی واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کے باعث گلیشیرز کے سکڑنے کی رفتار بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے خطے کو ’’تیسرا قطب‘‘ قرار دیا۔ اور کہا کہ یہ جنوبی ایشیا کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہے۔ان کے مطابق رواں صدی کے اختتام تک گلیشیرز میں 22 سے 57 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی: گلیشئرز کا عالمی دن

ہنزہ ہینگنگ گلیشیر خطرے کی زد میں

پاکستان میں ہزاروں گلیشیرز موجود

این ڈی ایم اے کے صبیح الدین نے بتایا کہ پاکستان میں 13 ہزار سے زائد گلیشیرز موجود ہیں۔ تاہم ڈیٹا کی کمی کے باعث گلگت بلتستان کو قومی خطرات کے جائزوں میں مکمل طور پر شامل نہیں کیا جا سکا۔

گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کی قرةالعین احمد نے کہا کہ گلیشیئرز کا سکڑاؤ، پانی کی کمی اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ انہوں نے مربوط نگرانی نظام اور تازہ ڈیٹا کی ضرورت پر زور دیا۔

گلیشیر ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز

ماہر ماحولیات طلحہ بھٹی نے تجویز دی کہ تقریباً 4 سے 5 ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں گلیشیر ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ ان کے مطابق پاکستان کے گلیشیرز 2500 سے 8000 میٹر کی بلندی پر واقع ہیں۔ جبکہ زیادہ پگھلاؤ 4500 سے 5500 میٹر کے درمیان ہوتا ہے۔

کم کاربن سیاحت اور مقامی شمولیت ضروری

سول سوسائٹی کولیشن فار کلائمیٹ چینج کی عائشہ خان نے کہا کہ زرعی شعبے میں موسمیاتی لحاظ سے بہتر طریقے اپنانے ہوں گے۔ اور سیاحت کے شعبے میں کم کاربن ماڈل کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔

آئی سی آئی موڈ کے شیر محمد کے مطابق دریائے سندھ کے بیسن میں تقریباً 26 ہزار مربع کلومیٹر گلیشیرز موجود ہیں۔ جبکہ 3 ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں ہیں۔ جن میں سے تقریباً 30 جھیلیں خطرناک قرار دی گئی ہیں۔

عالمی مالی تعاون کی ضرورت

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے فہیم احمد نے کہا کہ گلیشیرز کے تحفظ کے لیے سب سے بڑا چیلنج مالی وسائل کا حصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گرین کلائمیٹ فنڈ اور گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی جیسے عالمی فنڈز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اجلاس میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گلیشیرز کے تحفظ اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری، سائنسی اور مربوط اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

admin

Recent Posts

پاکستان اور ترکیہ کا ماحولیاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر…

47 minutes ago

اسلام آباد میں بابر پارک کی تعمیر تیزی سے جاری

اسلام آباد میں زیر تعمیر بابر پارک کو پاک-ازبک دوستی کی علامت قرار دیا گیا،…

4 hours ago

مہمان پرندے: ماحولیاتی نظام کے لیے خطرناک صورتحال نے عالمی تشویش بڑھا دی

مہمان پرندے: برڈ لائف انٹرنیشنل نے ہجرتی پرندوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اور…

21 hours ago

کلین اینڈ گرین اسلام آباد: ڈاکٹر مصدق ملک نے شجرکاری مہم میں شرکت کی

کلین اینڈ گرین اسلام آباد مہم کے تحت ایف-6/3 ہِل ویو پارک میں تقریب، طلبہ…

1 day ago

عالمی حدت دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے آئی؟

عالمی حدت تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور پگھلتے گلیشیئرز…

3 days ago

فوسل فیولز منتقلی:دنیا تیل اور کوئلے سے نجات کی جانب ایک نئی سمت میں داخل

فوسل فیولز سے منتقلی عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے رہی ہے، جہاں…

3 days ago

This website uses cookies.