رپورٹ: خلیل رونجھو
لسبیلہ، بلوچستان کا ایک منفرد ضلع ہے یہاں کا ساحلی اور نیم خشک ماحول مقامی آباد روزمرہ زندگی اور روزگار پر گہرا اثر ڈالتا ہے زیادہ تر لوگ زراعت، ماہی گیری، مویشی پالنا اور غیر ہنرمند مزدوری پر انحصار کرتے ہیں۔
موسمی اتار چڑھاؤ کے باعث یہ ذرائع آمدنی سال کے مخصوص اوقات میں غیر مستحکم رہتے ہیں نتیجتاً کمیونٹیز مالی مشکلات، غذائی عدم تحفظ، غربت اور معاشی غیر یقینی کا سامنا کرتی ہیں۔
اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، آذات فاؤنڈیشن اور عالمی خوراک پروگرام نے لسبیلہ میں موسمی روزگار کے پروگرام پر پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی۔
ورکشاپ میں مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان، این جی اوز کے نمائندے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے حصہ لیا اس سے مقامی تجربات کے تبادلے، باہمی سیکھنے اور عملی منصوبہ بندی پر تفصیلی گفتگو ممکن ہوئی۔
ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو مقامی سطح پر موسمی روزگار کے رجحانات، آمدنی کے مسائل، اور مؤثر روزگار کے منصوبہ بندی سے آگاہ کرنا تھا۔
شرکاء نے عملی مثالوں کے ذریعے سیکھا کہ کیسے موسمی اور مقامی عوامل کو منصوبوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
موسمی تبدیلی کے اثرات یہاں نہایت واضح ہیں۔
طویل خشک سالی زرعی پیداوار، مویشیوں کی نسل اور زیر زمین پانی پر اثر ڈالتی ہے۔
اچانک اور شدید سیلاب کھڑی فصلیں، ماہی گیری، رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے۔
یہ خطرات مقامی روزگار کو غیر یقینی بناتے اور غربت و غذائی عدم تحفظ میں اضافہ کرتے ہیں۔
ورکشاپ میں شرکاء کو مختلف عملی سیشنز میں شامل کیا گیا
روزگار کا تجزیہ
موسمی کیلنڈر
خطرات کی نقشہ سازی
مقامی مسائل کے حل کے عملی طریقے
یہ سیشنز آذات فاؤنڈیشن اور عالمی خوراک پروگرام کے ماہرین نے لیڈ کیے جن میں افتخار احمد، رستم خان، اسد علی اور فاروق مینگل شامل تھے۔
شرکاء نے موسمی چیلنجز کے حوالے سے ورکشاپ کو نہایت معلوماتی اور مفید قرار دیا۔ اس نے مقامی حکام، این جی اوز اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون بڑھایا اور پائیدار منصوبہ بندی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔
ورکشاپ کے آخری دن، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج کریم بلوچ نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمی روزگار کے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں کیونکہ یہ مقامی کمیونٹیز کو موسمی خطرات کے مقابلے کے لیے عملی اور دیرپا حل فراہم کرتے ہیں۔
موسمی چیلنجز کی ورکشاپ میں شرکاء کا کہنا ہے کہ موسمی روزگار کا پروگرام صرف وقتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک مستقل حکمت عملی ہے۔
یہ مقامی کمیونٹیز کے لیے معاشی استحکام اور غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
کلائمیٹ ویک کراچی 2026: دریائے سندھ، توانائی بحران اور موسمیاتی انصاف پر بحث
دنیا ہوموجینوسین کے دور میں داخل، حیاتیاتی تنوع کو خطرہ
اگر سرکاری ادارے، ترقیاتی تنظیمیں اور کمیونٹیز باہمی تعاون سے اس پروگرام کو طویل المدتی بنیادوں پر نافذ کریں توآمدنی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
غربت میں کمی، غذائی تحفظ اور کمیونٹی کی سماجی و معاشی پائیداری فروغ پا سکتی ہے۔
یہ تربیتی ورکشاپ واضح کرتی ہے کہ مناسب منصوبہ بندی اور شراکت داری کے ذریعے لسبیلہ میں محفوظ، مستحکم اور باوقار معاشی مستقبل ممکن ہے۔
پاکستان میں مہمان پرندے: ویٹ لینڈز کی تباہی اور غیر قانونی شکار بڑا چیلنج، تحفظ…
پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر…
اسلام آباد میں زیر تعمیر بابر پارک کو پاک-ازبک دوستی کی علامت قرار دیا گیا،…
مہمان پرندے: برڈ لائف انٹرنیشنل نے ہجرتی پرندوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اور…
کلین اینڈ گرین اسلام آباد مہم کے تحت ایف-6/3 ہِل ویو پارک میں تقریب، طلبہ…
عالمی حدت تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور پگھلتے گلیشیئرز…
This website uses cookies.