مارخور کا عالمی دن تحفظ اور گلگت بلتستان کی ماحولیاتی اہمیت
(تنویر احمد (بیورو چیف گلگت
گلگت:آج دنیا بھر میں مارخور کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد منظور کرتے ہوئے 24 مئی کو یہ دن مقرر کیا۔ مقصد اس نایاب جانور اور اس کے قدرتی مسکن کے تحفظ کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔
اس سال کا موضوع “مارخور اور پہاڑی حیاتیاتی تنوع” ہے، جو واضح کرتا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک جانور کا نہیں بلکہ پورے پہاڑی ماحولیاتی نظام اور انسانی بقا سے جڑا ہوا ہے۔
مارخور (کیپرا فالکنری) بکرے کی ایک نادر اور خوبصورت نسل ہے۔ یہ وسطی ایشیا کے بلند پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش اور پامیر میں پایا جاتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی پہچان اس کے بڑے اور خم دار سینگ ہیں جو نر میں چھ فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے شاہی بکرا بھی کہا جاتا ہے۔
یہ جانور 600 سے 3600 میٹر کی بلندی پر رہتا ہے۔ سخت سردی، کم آکسیجن اور برفانی طوفانوں کے باوجود یہ نہایت مہارت سے پہاڑی ڈھلوانوں پر چلتا ہے۔ اس کی خوراک گھاس، پتے اور جھاڑیاں ہیں۔
اقوام متحدہ نے یہ دن اس لیے مقرر کیا کہ گزشتہ دہائیوں میں مارخور کی تعداد میں خطرناک کمی ہوئی۔ غیر قانونی شکار، رہائش گاہوں کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی اس کی بڑی وجوہات تھیں۔
پاکستان نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا۔ 2018 میں عالمی سطح پر مارخور ڈے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ تب سے یہ دن جنگلی حیات کے تحفظ کی عالمی علامت بن چکا ہے۔
پاکستان میں مارخور کے تین ذیلی اقسام پائی جاتی ہیں:استور مارخور، قراقرم مارخور اور سلیمان مارخور۔
گلگت بلتستان خاص طور پر استور، ہنزہ، نگر، غذر، سکردو اور خنجراب نیشنل پارک اس کا بڑا مسکن ہے۔
پاکستان نے کمیونٹی پر مبنی تحفظ کا ماڈل اپنایا۔ مقامی لوگوں کو براہ راست اس عمل میں شامل کیا گیا۔
کمزور یا بوڑھے نر مارخور کے محدود لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ لائسنس لاکھوں ڈالرز میں نیلام ہوتے ہیں۔
آمدن کی تقسیم:80 فیصد مقامی کمیونٹیز،20 فیصد حکومت حکومت کا حصہ بھی تحفظ منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مارخور کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی، جو پہلے صرف ایک ہزار کے قریب رہ گئی تھی۔
گلگت بلتستان مارخور کے لیے قدرتی جنت ہے۔ یہاں اس کی اہمیت صرف حیاتیاتی نہیں بلکہ کئی جہتوں پر مشتمل ہے۔
1. ماحولیاتی نظام کا محافظ
مارخور ایک کی اسٹون اسپیشیز ہے۔ یہ گھاس اور جھاڑیوں کو متوازن رکھتا ہے، مٹی کے کٹاؤ کو کم کرتا ہے اور پورے ماحولیاتی نظام کو سہارا دیتا ہے۔
2. مقامی معیشت کا ذریعہ
ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل آمدن مقامی دیہات جیسے استور، گلگت، نگر، غذر، شگر اور ہنزہ میں تعلیم، صحت اور پانی کے منصوبوں پر خرچ ہوتی ہے۔
3. ایکو ٹورازم کی ترقی
مارخور کی موجودگی نے گلگت بلتستان کو عالمی ایکو ٹورازم کا مرکز بنایا ہے۔ خنجراب نیشنل پارک اور دیگر علاقے سیاحوں، فوٹوگرافرز اور سائنسدانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
4. ثقافتی ورثہ
مارخور مقامی ثقافت اور لوک داستانوں کا حصہ ہے۔ اسے طاقت، آزادی اور قدرتی نگہبان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
5. موسمیاتی تبدیلی کا اشارہ
مارخور ایک بائیو انڈیکیٹر ہے۔ اس کے رویے میں تبدیلی ماحولیاتی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر گلیشیئر پگھلنے اور چراگاہوں میں کمی کے اثرات۔
کامیابیوں کے باوجود کئی خطرات موجود ہیں
غیر قانونی شکار
آبادی میں اضافہ اور چراگاہوں پر دباؤ
کان کنی اور ترقیاتی منصوبے
برفانی راستوں کی رکاوٹ
موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافہ
ماہرین کے مطابق درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
ڈرون اور جی پی ایس ٹریکنگ کے ذریعے نگرانی
مقامی کمیونٹیز کو مزید بااختیار بنانا
ہمسایہ ممالک کے ساتھ کراس بارڈر تحفظ
تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات
یہ بھی پڑھیں
مارخور عالمی دن: تحفظِ جنگلی حیات کے لیے عالمی کوششیں تیز
گلگت میں سینیٹری و سیوریج منصوبے
کوڈ فار پاکستان اور یو ای ٹی مردان کا اسموگ نیٹ ڈیٹا تھون
مارخور کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرتی ورثہ صرف حکومت نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ سیاسی عزم، سائنسی منصوبہ بندی اور کمیونٹی شمولیت سے خطرے سے دوچار انواع کو بچایا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان میں مارخور صرف ایک جانور نہیں بلکہ معیشت، ثقافت اور ماحولیات کا ستون ہے۔
یہ شاہی بکرا آج بھی پہاڑی چوٹیوں پر پاکستان کی قدرتی خوبصورتی اور قومی استقامت کی علامت بن کر کھڑا ہے—آزاد، مضبوط اور باوقار۔
مارخور عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت مختلف ممالک نے نایاب…
کوڈ فار پاکستان :خیبر پختونخوا میں فضائی معیار کے مؤثر نظام کی تشکیل کے لیے…
تمر کے محافظ طاہر قریشی کی جدوجہد، اغوا کا تاریخی دلچسپ واقعہ اور سندھ کے…
کراچی میں لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی نے شہریوں، صنعتوں اور مزدور طبقے کی شدید مشکلات…
موسمیاتی تبدیلی: موسم غیر یقینی، گرمی، بارش اور سردی کا نظام متاثر، سائنسدانوں نے بڑھتے…
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اسپیلاتھون کے 29 سال مکمل، 300 سے زائد اسکولوں کے ڈیڑھ…
This website uses cookies.