فوسل فیول کا نظام اگر تبدیل نہ ہوا تو مہنگائی، موسمیاتی خطرات اور معاشی عدم مساوات مزید شدت اختیار کر سکتی ہے
فروزاں رپورٹ
فوسل فیول کا نظام اس وقت عالمی سطح پر ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اگر موجودہ ڈھانچے میں اصلاحات نہ کی گئیں تو اس کے اثرات معیشت، معاشرت اور ماحول تینوں پر شدید ہوں گے۔
فروزاں رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے پر اکثر حکومتیں اسے عالمی بحران قرار دیتی ہیں۔ تاہم، حالیہ تجزیے اس مؤقف کو رد کرتے ہیں۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ توانائی کا بحران وقتی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی معاشی و سیاسی نظام کا نتیجہ ہے، جو مخصوص مفادات کے تحت قائم رکھا گیا ہے۔

توانائی بحران کے اثرات
جنوب مغربی ایشیا میں کشیدگی اور جنگ نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کیا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا۔
اس کے اثرات خوراک، نقل و حمل، زراعت اور روزمرہ زندگی پر بھی پڑتے ہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی ممالک اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
مہنگائی میں اضافہ، بجلی کے نرخ بڑھنا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا بے قابو ہونا اسی نظام کی عکاسی ہے۔

عوام پر تین گنا بوجھ
اس نظام کا سب سے بڑا نقصان عام شہری اٹھا رہے ہیں۔
پہلا بوجھ
محصولات کی صورت میں۔ حکومتیں فوسل فیول کو رعایت دیتی ہیں، مگر اس کا بڑا فائدہ امیر طبقے اور بڑی کمپنیوں کو ملتا ہے۔
دوسرا بوجھ
بلوں کی شکل میں۔ عالمی قیمتیں بڑھتے ہی گھریلو اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے اور خوراک کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔
تیسرا بوج
موسمیاتی تبدیلی۔ شدید سیلاب، خشک سالی اور گرمی کی لہریں اس کے نمایاں اثرات ہیں۔

کھربوں ڈالر کا پوشیدہ خرچ
اعداد و شمار اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق 2024 میں فوسل فیول رعایتوں کا حجم 7.4 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا۔
اسی طرح 350 نقطہ تنظیم کے مطابق اصل نقصانات 9.3 کھرب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہیں۔
جب ان تمام اخراجات کو ملا دیا جائے تو یہ بوجھ تقریباً 12 کھرب ڈالر سالانہ بنتا ہے۔
بحران میں منافع کا کھیل
ایک طرف عوام مہنگائی کا شکار ہیں، دوسری طرف بڑی کمپنیاں منافع کما رہی ہیں۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق تیل کمپنیوں کے منافع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایک ہی بحران مختلف طبقات پر مختلف اثرات ڈالتا ہے۔

پالیسی سازی پر اثر انداز طاقت
فوسل فیول صنعت دنیا کی طاقتور ترین دباؤ ڈالنے والی قوتوں میں شامل ہے۔کاپ 28 جیسے عالمی موسمیاتی اجلاسوں میں ہزاروں نمائندوں کی موجودگی اس اثر و رسوخ کو ظاہر کرتی ہے۔
اس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک عالمی منڈیوں پر انحصار کرنے پر مجبور رہتے ہیں۔
صاف توانائی: ایک متبادل راستہ
قابل تجدید توانائی ایک مؤثر حل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
شمسی اور ہوائی توانائی اب کئی علاقوں میں سستی ہو چکی ہے۔ بیٹری ذخیرہ نظام اور برقی نقل و حمل اس تبدیلی کو مزید ممکن بنا رہے ہیں۔
تاہم، اس کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی عزم کی کمی ہے۔
ممکنہ حل
ماہرین چند اہم اقدامات تجویز کرتے ہیں:
فوسل فیول کمپنیوں پر غیر متوقع منافع پر ٹیکس
رعایتوں کو براہِ راست عوام تک منتقل کرنا
کاربن کی قیمت مقرر کرنا
صاف توانائی میں سرکاری سرمایہ کاری
یہ اقدامات نظام کو زیادہ منصفانہ اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
برفانی چیتے کا تحفظ، گلگت بلتستان میں اہم معاہدہ
سوشل میڈیا پر بارش سے متعلق افواہیں، ماہرین نے حقائق واضح کر دیے
لاڑکانہ میں شجرکاری: طلبہ کو ماحولیات کا سفیر بنانے پر زور
نتیجہ: فیصلہ کن وقت
دنیا ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ توانائی کا بحران اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
اب وقت صرف تجزیے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
