فروزاں ماحولیاتی رپورٹس

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی: بیانات، این جی او فنڈز اور عملی اقدامات

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں موسمی خطرات

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجوہات میں گلیشیئرز کا تیز پگھلاؤ، بے ترتیب بارشیں، کمزور گورننس اور این جی او فنڈز کا غیر مؤثر استعمال شامل ہے۔

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں موسمی خطرات

”ماحولیاتی تبدیلی ہماری مشترکہ ذمہ داری“کے عنوان سے گلگت میں ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا یہ سیمینار ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گلگت بلتستان ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اور براہ راست اثرات کی زد میں ہے۔

اگرچہ سیمینار میں سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، ماہرین ماحولیات، ترقیاتی شراکت داروں اور میڈیا کی نمائندگی نے مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا۔

تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہا کہ کیا ایسے فورمز محض تشخیص تک محدود رہتے ہیں یا ان کے انعقاد سے واقعی قابل عمل حل کی سمت کوئی پیش رفت بھی ممکن ہو پاتی ہے؟

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں موسمی خطرات
گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کا تیز پگھلاؤ اور اچانک سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں

سیمینار میں گلگت بلتستان جیسے پہاڑی خطے میں گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ، بے ترتیب بارشوں اور اچانک سیلابوں جیسے خطرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

یہ وہ حقائق ہیں جن کے نتائج خطے میں جان و مال کے ضیاع، انفراسٹرکچر کی تباہی اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔

مقررین نے نشاندہی کی کہ پاکستان، بالخصوص گلگت بلتستان، موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔

تاہم تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو مسئلے کی تکرار کے باوجود عملدرآمد کے ٹھوس فریم ورک کی کمی بدستور نمایاں ہے۔

سیمینار میں اسماعیلی کونسل برائے پاکستان کے شہاب الدین کی جانب سے کمیونٹی کی قیادت میں حل اور شہری شمولیت پر زور ایک مثبت پہلو تھا۔

مگر عملی سطح پر سوال یہ ہے کہ مقامی کمیونٹیز کو فیصلہ سازی، وسائل کی تقسیم اور نگرانی میں کتنی حقیقی شراکت حاصل ہے؟

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں موسمی خطرات
گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کا تیز پگھلاؤ اور اچانک سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں

اکثر اوقات کمیونٹی انگیجمنٹ ایک نعرے کی حد تک رہ جاتی ہے جبکہ پالیسی اور بجٹ کے فیصلے اعلٰی سطح پر طے پاتے ہیں جو زمینی حقائق کا ادراک نہیں رکھتے ہیں۔

پینل مباحثے میں سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی آبادی کے درمیان تعاون کی بات کی گئی۔

اسی سیمینار میں ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی نمائندہ نے پالیسیوں کے موثر نفاذ اور باقاعدہ نظرثانی میں درپیش مشکلات کا اعتراف بھی کیا۔

یہ اعتراف اس بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے کہ گلگت بلتستان میں پالیسی خلا نہیں بلکہ گورننس اور عملدرآمد کا بحران موجود ہے۔

جب تک ادارہ جاتی صلاحیت، شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط نہیں کیا جاتا، پالیسی دستاویزات زمینی حقائق بدلنے میں ناکام رہیں گے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی جانب سے مقامی اور روایتی علم کو شامل کرنے کی بات نہایت اہم ہے۔

تاہم اس ضمن میں یہ بھی ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی علم کو محض علامتی حیثیت نہ دی جائے بلکہ اسے سائنسی تحقیق اور سرکاری منصوبہ بندی کے ساتھ باضابطہ طور پر جوڑا جائے۔

گلگت بلتستان جیسے پسماندہ علاقے میں ماضی کے کئی منصوبے اس لیے ناکام ہوئے کہ وہ مقامی سماجی و ماحولیاتی تناظر سے ہم آہنگ نہ تھے۔

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی جانب سے نیٹ زیرو کاربن کے عزم اور ابتدائی انتباہی نظاموں کو مضبوط بنانے کے اعلانات امید افزا ضرور ہیں مگر خطے کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ اہداف کن ٹائم لائنز، بجٹ اور قابل پیمائش اشاریوں کے ساتھ حاصل کیے جائیں گے۔

امدادی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر لچکدار انفراسٹرکچر، محفوظ آبادکاری اور مقامی معیشت کے تحفظ پر سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مجموعی طور پر سیمینار میں گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا مسائل کی سنگینی کو ایک بار پھر اجاگر کیا گیا۔

مگر دیکھا جائے تو اصل امتحان بیانات نہیں بلکہ عمل درآمد ہے۔ گلگت بلتستان کو اب مزید سیمینارز کے ساتھ ساتھ واضح ذمہ داریوں، مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی، کمیونٹی کی حقیقی شمولیت اور شفاف عملدرآمدی نظام درکار ہے۔ بصورت دیگر موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والے یہ بحث و مباحثے محض فائلوں اور رپورٹس تک محدود رہ جائیں گے جبکہ پہاڑوں میں بسنے والی کمیونٹیز اس کی قیمت جان، زمین اور روزگار کی صورت میں ادا کرتی رہیں گی۔

گلگت بلتستان میں عالمی اور ملکی سطح پر ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کے تحفظ کے نام پر درجنوں این جی اوز کام کر رہی ہیں لیکن کرب ناک پہلو یہ ہے کہ ایسی تمام این جی اوز کو ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز کا صرف 20 فیصد ہی اصل مقاصد پر صرف ہو رہا ہے جبکہ زیادہ تر حصہ ان این جی اوز کی افرادی قوت کی تنخواہوں دیگر مراعات اور ایسے سیمینارز پر خرچ ہو رہا ہے جن کے ذریعے انتہائی قلیل تعداد میں کمیونٹی یا این جی اوز کے منظور نظر افراد کو آگاہی مل جاتی ہے۔

ماہرین ماحولیات این جی اوز کے اس طرز عمل سے کچھ خائف بھی نظر آتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

فی کس قابلِ تجدید پانی میں 7٪ کمی: آبی بحران کی وارننگ

جزیرہ استولا میں گھوسٹ نیٹ ریکوری: ان دیکھی ماحولیاتی جنگ

ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے حکومتی و نجی اداروں میں چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ ساتھ ایسی پالیسیاں اور حکمت عملی بھی وضع ہونی چاہئے جس سے موسمیاتی تبدیلی سے براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہونے والی کمیونٹیز کو کوئی فائدہ پہنچ سکے نہ کہ ان این جی اوز میں کام کرنے والے افراد کو۔

اس حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں