فروزاں ماحولیاتی خبریں

گلگت بلتستان زلزلہ 5.9 شدت

Gilgit Baltistan earthquake 5.9 magnitude affects Hunza and Chupursan Valley

گلگت بلتستان میں 5.9 شدت کا زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ سے ایک شخص جاں بحق، تین زخمی، چپورسن سمیت کئی علاقوں میں سڑکیں بند۔

گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں پیر کے روز دن 11 بجکر 21 منٹ پر آنے والے 5.9 شدت کے زلزلے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 3 افراد جن میں دو بچے بھی شامل ہیں زخمی ہو گئے ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز یو ایس جی ایس کے مطابق زلزلے کا مرکز بالائی ہنزہ کے گاؤں زودخون سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ایشکک گلیشیئر کا علاقہ تھا۔

زلزلے نے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے ہنزہ، غذر، گلگت، نگر، استور، بلتستان ڈویژن کے چاروں اضلاع اور دیامر کے علاقوں میں واضح طور پر محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری اپنے گھروں سے نکل کر کھلے مقامات پر جمع ہو گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی تاہم بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

زلزلے سے سب سے زیادہ بالائی ہنزہ کی دورافتادہ وادی چپورسن زیادہ متاثر ہوئی ہے جہاں زلزلے کے بعد لوگوں کے گھر ، مویشی خانے اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا ہے جبکہ دو بچے بھی زخمی ہوئے ہیں ۔

ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہنزہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زبیر احمد نے فروزاں ڈیجیٹل کو بتایا کہ وادی چپورسن کے مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس کے باعث چپورسن ویلی روڈ بند ہو گئی اور علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

ریشت، شٹمرگ اور زودخون دیہات میں متعدد مویشی خانے اور کچھ رہائشی مکانات متاثر ہوئے، تاہم تمام رہائشی محفوظ رہے۔

خوف و ہراس کے باعث مکینوں نے احتیاطاً اپنے گھر خالی کر دیے اور کھلے مقامات پر پناہ لی۔

انہوں نے بتایا کہ ہنزہ میں تاحال زلزلے سے کوئی جانے نقصان رپورٹ نہیں ہوا ہے جبکہ چپورسن روڈ کی بحالی کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ضرورت پڑی تو علاقے میں خوراک اور دیگر اشیاء ضروریہ روانہ کر دی جائیں گی۔

ادھر مقامی نمائندوں اور عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی راستوں کی بندش کے پیش نظر فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے نقصانات کا جائزہ لینے والی ٹیمیں چپورسن ویلی روانہ کی جائیں تاکہ عمارتوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور متاثرہ آبادی کی ضروریات کا تعین ہو سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ بروقت سروے اور امدادی اقدامات مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچاؤ کے لیے نہایت اہم ہیں۔

چپورسن کے علاقے زودخون میں ایک ہی خاندان کے دو بچے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی، زلزلے کے دوران زخمی ہو گئے۔

دونوں بچوں کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے، تاہم سر میں چوٹ لگنے کے باعث انہیں سی ٹی اسکین کے لیے ہنزہ ریفر کیا گیا ہے۔

چپورسن ویلی روڈ بند ہونے کے باعث زخمی بچوں کو علی آباد یا گلگت منتقل کرنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

علاقہ مکینوں نے زخمیوں کی فوری منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر سروس فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق چپورسن ویلی روڈ کی بحالی کے لیے ہنزہ ورکس ڈیپارٹمنٹ نے سوست اور پسو سے دو مشینیں روانہ کر دی ہیں تاکہ لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے کو ہٹایا جا سکے۔

اسی طرح ہنزہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سوست سے ایمبولینس اور پیرامیڈیکل عملہ روانہ کیا ہے، تاہم سڑک کی بندش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔

دوسری جانب ضلع غذر کے علاقے اشکومن میں بد صوات جھیل کے قریب زلزلے سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت خوش بیگ سکنہ بلہانز کے طور پر ہوئی ہے جن کی عمر 55 سے 60 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

زخمی شخص افضل خان سکنہ بدصوات کی حالت مستحکم ہے اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی چوٹیں جان لیوا نہیں بتائی گئیں۔

مقامی افراد اور رضاکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جبکہ متعلقہ اداروں کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا گیا۔

تاہم زلزلے کے بعد اشکومن کے علاقے ایمت میں قائم مقامی ڈسپنسری میں ایمبولینس دستیاب نہ ہونے پر عوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

زخمی شخص کو گاہکوچ منتقل کرنے کے لیے ایک چھوٹی گاڑی استعمال کرنا پڑی جس نے دور دراز اور آفات سے متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات اور ہنگامی تیاریوں کی کمی کو اجاگر کر دیا ہے۔

زلزلے کے باعث گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں بھی عوام میں خوف و ہراس پایا گیا اور متعدد مقامات پر لوگ کھلے مقامات پر موجود ہیں۔

اگرچہ کئی علاقوں میں کسی بڑے نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں تاہم انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور مزید نقصانات کے تعین کے لیے سرکاری رپورٹوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کیا شدید موسمیاتی انتہاؤں اور بحران کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟

کیا گرین پاکستان منصوبہ گلگت بلتستان میں شجرکاری کو پائیدار بنا سکے گا؟

علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے حکومت گلگت بلتستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری فضائی اور زمینی سروے کرائے جائیں، زخمیوں کی بروقت منتقلی یقینی بنائی جائے بند سڑکوں کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے اور دور دراز علاقوں میں ریسکیو اور طبی سہولیات کو موثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی ہنگامی صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔

چپورسن ،شتمرگ اور زودخون میں موبائل فون سروس کی مسلسل بندش نے سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں