ہالیجی جھیل کا سب سے بڑا مسئلہ تازہ پانی کی فراہمی میں کمی اور آلودگی کا بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ صنعتی اور زرعی فضلہ، گندا پانی اور نکاسی آب کے ناقص انتظام نے قدرتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔
ماریہ اسماعیل

کیا آپ نے کبھی ایسی آب گاہ دیکھی ہے جو سانس لیتی محسوس ہو؟ جہاں پانی صرف پانی نہ ہو بلکہ ماحولیات کے توازن، آبی حیات کی بقا اور انسانی زندگی کے تسلسل کی ضمانت ہو؟
کراچی سے تقریباً 65 کلومیٹر مشرق میں ضلع ٹھٹھہ کے قریب واقع ہالیجی جھیل کبھی اسی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، مگر آج یہی جھیل آلودگی، پانی کی قلت اور انتظامی غفلت کے باعث خاموشی سے دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔
قدرتی حسن سے مالا مال یہ مقام اب ماحولیاتی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
سائنسی اندازوں کے مطابق دنیا میں تقریباً 12.1 ملین مربع کلومیٹر رقبہ آب گاہوں پر مشتمل ہے، جو زمین کے کل رقبے کا تقریباً 8 سے 10 فیصد بنتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر سال 2 فروری کو عالمی یومِ آب گاہاں (ورلڈ ویٹ لینڈ ڈے) منایا جاتا ہے تاکہ ان قدرتی ذخائر کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔
اسی مناسبت سے گرین میڈیا انشی ایٹو اور اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان نے کراچی کے ماحولیاتی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو ہالیجی جھیل کا دورہ کرایا، جہاں اس جھیل کی بدلتی ہوئی حقیقت کو قریب سے دیکھا گیا۔

تاریخی پس منظر اور تعارف
ہالیجی جھیل کے کسٹوڈین اور محکمہ وائلڈ لائف کے نگران سہیل احمد کھوسہ کے مطابق یہ جھیل ابتدا میں ایک نمکین جھیل تھی۔
سن 1930 کی دہائی میں برطانوی دور میں یہاں عام لوگوں کی آمد محدود تھی۔
سن 1942 کے بعد بارشوں اور قریبی ندی نالوں کے پانی نے اسے میٹھے پانی کی جھیل میں تبدیل کر دیا۔
یہ جھیل تقریباً 18 کلومیٹر ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔
پاکستان کی 450 آب گاہوں میں سے 19 رامسر کنونشن میں شامل ہیں جن میں سے 9 سندھ میں واقع ہیں۔
ہالیجی کو 1976 میں رامسر سائٹ اور 1977 میں گیم سینکچری کا درجہ دیا گیا، جبکہ 1982 میں انٹرنیشنل وائلڈ لائف کے صدر ڈیوک آف ایڈن برگ نے یہاں انفارمیشن سینٹر قائم کیا۔
ماضی میں یہ کراچی کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ بھی رہی جہاں جام واہ کینال سے آنے والا پانی قدرتی طور پر صاف ہو کر شہر کو فراہم کیا جاتا تھا۔
سابق وزیراعلیٰ سندھ ممتاز علی بھٹو نے جھیل میں 1970 میں مگرمچھوں کا ایک جوڑا متعارف کرایا تھا جن کی تعداد اب تقریباً 500 ہو چکی ہے اور یہ مردہ مچھلیوں اور گندگی کو ختم کر کے ماحولیاتی صفائی میں کردار ادا کرتے ہیں، تاہم انسانی تحفظ کے پیش نظر بعض سرگرمیوں پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

آلودگی اور پانی کی کمی — اصل بحران
وقت گزرنے کے ساتھ ہالیجی جھیل کا سب سے بڑا مسئلہ تازہ پانی کی فراہمی میں کمی اور آلودگی کا بڑھتا ہوا دباؤ بن گیا ہے۔
صنعتی اور زرعی فضلہ، گندا پانی، اور نکاسی آب کے ناقص انتظام نے جھیل کے قدرتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔
کھوسہ کے مطابق جھیل کا پانی پہلے جیسا شفاف نہیں رہا اور پانی کی سطح بھی مسلسل کم ہو رہی ہے، جس کا براہ راست اثر آبی حیات اور پرندوں پر پڑ رہا ہے۔
مہمان پرندوں کی جنت جو ویران ہو رہی ہے
ہالیجی جھیل کبھی مہمان پرندوں کی جنت کہلاتی تھی۔ ہر سال اکتوبر سے فروری تک سائبیریا اور وسطی ایشیا سے آنے والی تقریباً 200 اقسام کے پرندے یہاں بسیرا کرتے تھے اور یہ علاقہ زندگی اور چہچہاہٹ سے بھر جاتا تھا۔ مگر اب منظر بدل چکا ہے۔
سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ہالیجی جھیل پر آنے والے مہمان پرندوں کی تعداد میں مسلسل اور تشویشناک کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
سن 2023 میں جہاں تقریباً 12 لاکھ پرندے اس جھیل کا رخ کرتے تھے، وہی تعداد 2024 میں گھٹ کر صرف 6 لاکھ 3 ہزار 900 رہ گئی، جبکہ 2025 تک یہ مزید کم ہو کر محض 5 لاکھ 45 ہزار رہ گئی۔
یوں صرف دو برسوں میں پرندوں کی تعداد نصف سے بھی کم ہو جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جھیل کا ماحولیاتی نظام تیزی سے زوال کا شکار ہے اور عارضی نقل مکانی کر کے آنے والے مہمان پرندوں کی یہ تاریخی پناہ گاہ آہستہ آہستہ ویران ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق صاف پانی کی کمی، خوراک کی قلت اور آلودگی اس کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جب آبی پودے، گھاس اور مچھلیاں ختم ہوں تو پرندے بھی واپس نہیں آتے۔

ماہرینِ ماحولیات کی رائے
ایکولوجسٹ اور ویٹ لینڈ پالیسی ساز رفیع الحق کے مطابق ہالیجی جھیل دراصل ایک قدرتی فلٹر اور قدرتی ڈیم ہے۔
ماضی میں کراچی کو فراہم کیا جانے والا گدلا پانی یہاں آ کر صاف ہو جاتا تھا، جو ویٹ لینڈ کی ایک غیر معمولی خدمت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی پانی مصنوعی طریقے سے صاف کیا جائے تو کروڑوں روپے خرچ ہوں، جبکہ یہ جھیل یہ کام مفت انجام دیتی ہے۔
تاہم مختلف اداروں کی ذمہ داریوں میں تقسیم اور مربوط حکمت عملی کے فقدان نے اس قدرتی نظام کو نظر انداز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
دو فروری آب گاہوں کا عالمی دن : کیا پاکستان کی آب گاہیں ختم ہو رہی ہیں؟
آبی حیات اور مقامی معیشت
ہالیجی جھیل مچھلیوں، آبی پودوں اور دیگر جانداروں کے لیے محفوظ مسکن ہے اور مقامی آبادی کی بڑی تعداد ماہی گیری اور محدود سیاحت سے وابستہ ہے۔
جھیل کی بگڑتی حالت نے نہ صرف ماحول بلکہ مقامی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔
پانی کے گدلے پن اور پرندوں کی کمی کے باعث سیاحوں کی آمد کم ہو رہی ہے، جس سے روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
درپیش ماحولیاتی خطرات
ماہرین کے مطابق ہالیجی جھیل کو صنعتی اور زرعی آلودگی، تازہ پانی کی قلت، غیر منظم سیاحت، کچرے کے ڈھیر، موسمیاتی تبدیلی اور غیر قانونی شکار جیسے خطرات کا سامنا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر جھیل کے قدرتی توازن کو بگاڑ رہے ہیں اور آبی حیات و پرندوں کی بقا کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

تحفظ کی ضرورت اور ممکنہ حل
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ قدرتی ورثہ ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے۔
ضروری ہے کہ جھیل کو باقاعدہ تازہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، صنعتی اور زرعی فضلے کے اخراج کو روکا جائے، کچرے کے مؤثر انتظام کا نظام بنایا جائے، غیر قانونی شکار اور ماہی گیری پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، مقامی کمیونٹی کو تحفظی منصوبوں میں شریک کیا جائے اور ماحولیاتی تعلیم و آگاہی کو فروغ دیا جائے۔
نتیجہ
ہالیجی جھیل محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ سندھ کی ماحولیاتی شناخت، قدرتی ورثہ اور آبی سلامتی کی علامت ہے۔
یہ جھیل کبھی مہمان پرندوں کی جنت تھی، مگر آج آلودگی اور بے توجہی کے باعث خاموش ہوتی جا رہی ہے۔
اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں اسے صرف تصاویر اور کتابوں میں دیکھیں گی۔
ہالیجی کو بچانا دراصل اپنے ماحول، اپنی معیشت اور اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو بچانا ہے۔
