فروزاں ماحولیاتی خبریں ماحولیاتی رپورٹس

کراچی میں انڈس ڈیلٹا کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کا ڈیجیٹل منصوبہ

MaritimEA Digital Heritage Trails project showcasing digital preservation of Indus Delta cultural heritage in Karachi Pakistan

کراچی میں میری ٹِم ای اے ڈ یجیٹل ہیرٹیج ٹریلس (انڈس ڈیلٹا) منصوبے کا آغاز، جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے انڈس ڈیلٹا کے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنا رہا ہے۔

کراچی میں میری ٹِم ای اے ڈ یجیٹل ہیرٹیج ٹریلس (انڈس ڈیلٹا) منصوبے کی افتتاحی تقریب 24 جنوری 2026 کو منعقد ہوئی، جس سے برطانوی ہائی کمشنر نے خطاب کیا۔

تقریب میں ثقافتی ورثے، سائنسی تحقیق اور کمیونٹی اسٹوری ٹیلنگ کے امتزاج کو اُجاگر کیا گیا۔

اپنے خطاب میں ہائی کمشنر نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ورثہ، سائنس اور مقامی کمیونٹیز کی کہانیاں ایک مؤثر اور مربوط انداز میں یکجا ہو سکتی ہیں۔

MaritimEA Digital Heritage Trails project showcasing digital preservation of Indus Delta cultural heritage in Karachi Pakistan

انہوں نے کہا کہ برٹش کونسل 1948 سے

پاکستان کے ساتھ کام کر رہی ہے اور

گزشتہ 75 برسوں سے زائد عرصے میں

ادارہ پاکستانی حکومت، اداروں اور

کمیونٹیز کے ساتھ اعتماد اور باہمی

احترام پر مبنی شراکت داریوں کو فروغ دیتا آ رہا ہے۔

تقریب میں بتایا گیا کہ آج برٹش کونسل فنون، تعلیم، انگریزی زبان اور عالمی معیار کی اسناد کے ذریعے پاکستان کو برطانیہ کی چاروں اقوام سے جوڑ رہا ہے، اور ہر سال ملک بھر میں دو کروڑ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔

برٹش کونسل کے پروگرامز کا مرکز ہمیشہ افراد اور دیرپا اثرات رہے ہیں، چاہے وہ تعلیمی، ثقافتی یا کمیونٹی سطح کے منصوبے ہی کیوں ناں ہوں۔

یہ منصوبہ کلچرل پروٹیکشن فنڈ (سی پی ایف) کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کی قیادت برٹش کونسل کر رہی ہے اور یہ برطانیہ کی حکومت کے محکمۂ ثقافت، میڈیا اور کھیل (ڈی سی ایم ایس) کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔

سی پی ایف کا مقصد تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث خطرے سے دوچار ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنا ہے، ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تحفظ کی یہ کوششیں مقامی کمیونٹیز کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔

تقریب میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سی پی ایف کے تحت 11 لاکھ پاؤنڈ سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جس کے ذریعے چھ منصوبوں کی معاونت کی گئی، جن میں سوات میں بدھ مت کے ورثے کا تحفظ، شاہراہِ ریشم کے آثار اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں کمیونٹی کنزرویشن کے منصوبے شامل ہیں۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ انڈس ڈیلٹا تاریخی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں سمندر کی سطح میں اضافہ، کٹاؤ اور زمین کی نمکیات قدیم بندرگاہی شہروں، سمندری راستوں اور ثقافتی یادداشت کو تیزی سے نقصان پہنچا رہی ہیں۔

خطاب میں میری ٹِم ای اے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ یہ منصوبہ ڈیجیٹل جدت، بشمول تھری ڈی ماڈلنگ اور انٹرایکٹو ہیریٹیج ٹریلز، کے ذریعے اُن تاریخوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے رہا ہے جو بصورتِ دیگر ہمیشہ کے لیے ضائع ہو سکتی تھیں۔

تقریب میں مزید کہا گیا کہ یہ منصوبہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان موسمیاتی استحکام، تعلیم اور ثقافت پر مبنی وسیع تر شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ثقافتی ورثے کا تحفظ معاشی مواقع اور کمیونٹی فخر کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کیا گلگت بلتستان سونے کی چڑیا ہے؟

جزیرہ استولا میں گھوسٹ نیٹ ریکوری: ان دیکھی ماحولیاتی جنگ

ہائی کمشنر نے دی ڈاؤوڈ فاؤنڈیشن، میری ٹِم ای اے ٹیم اور تمام مقامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس منصوبے کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کا تحفظ صرف ماضی سے وابستہ نہیں بلکہ شناخت، اجتماعی یادداشت اور آنے والی نسلوں کے لیے استقامت سے جڑا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں