فروزاں فروزاں کے مضامین ماحولیاتی رپورٹس

کیا گلگت بلتستان سونے کی چڑیا ہے؟

Mountains, rivers, and natural resources of Gilgit-Baltistan showcasing why it is called the “Golden Bird” of Pakistan

گلگت بلتستان سونے کی چڑیا بنتا جا رہا ہے، جہاں قدرتی وسائل، سیاحت اور معدنیات تو ہیں مگر مقامی آبادی محرومی کا شکار ہے۔

Mountains, rivers, and natural resources of Gilgit-Baltistan showcasing why it is called the “Golden Bird” of Pakistan

گلگت بلتستان میں موسمیاتی تغیر پزیری، ماحولیاتی تحفظ، پانی کے وسائل کے انتظام اور توانائی کے استحکام کے نام پر غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے زیر انتظام اربوں روپے کے بڑے منصوبے جاری ہیں جن کی مجموعی لاگت تقریباً 30.26 ارب پاکستانی روپے بتائی جاتی ہے۔

خطے میں کام کرنے والی ان پانچ غیر سرکاری اور بڑی تنظیموں (این جی اوز) میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، آغاخان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک، آغاخان رورل سپورٹ پروگرام، آغاخان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ اور این پاک شامل ہیں۔

لیکن حیران کن پہلو یہ ہے کہ یہ رقم گلگت بلتستان کے دو سالہ مجموعی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے برابر بننے کے باوجود اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے ہیں۔

اور اس کے باوجود گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی سے براہ راست متاثرہ مقامی آبادی آج بھی بنیادی سہولیات اور عملی ریلیف سے محروم نظر آتی ہے۔

دستیاب معلومات اور اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے چلنے والے ان بڑے منصوبوں میں بریو (Building Resilience and Addressing Vulnerability to Emergencies) کا منصوبہ جسے آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (اے کے اے ایچ) اور ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 38 ملین پاؤنڈ بتائی جاتی ہے، جو پاکستانی روپے میں 14.36 ارب کے لگ بھگ بنتی ہے۔

اسی طرح واٹر ریسورس اکاؤنٹیبیلٹی اِن پاکستان پروگرام (ریپ) کے تحت ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان پانچ سالہ منصوبہ چلا رہا ہے جس کی لاگت 15 ملین پاؤنڈ یعنی تقریباً 5.67 ارب روپے ہے۔

توانائی کے شعبے میں انرجی پلس، انرجی فار کلائمٹ ریزیلینس ان گلگت بلتستان اینڈکریٹیکل کے نام سے منصوبہ آغا خان فاؤنڈیشن، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور این پاک انرجی کے اشتراک سے جاری ہے جس کی مالیت 31 ملین یورو یعنی تقریباً 10.23 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔

ماہرین اور سول سوسائٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے مالی وسائل کے باوجود زمینی حقائق انتہائی مایوس کن ہیں۔

Mountains, rivers, and natural resources of Gilgit-Baltistan showcasing why it is called the “Golden Bird” of Pakistan

گلگت بلتستان کے کئی اضلاع میں گلیشیئر

جھیلوں کے پھٹنے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ،

جنگلات کی تیز رفتار کٹائی اور فضائی و آبی

آلودگی جیسے سنگین مسائل میں مسلسل

اضافہ ہو رہا ہے مگر ان منصوبوں کا عملی

فائدہ براہ راست متاثرہ کمیونٹیز تک محدود

حد تک ہی پہنچ رہا ہے۔

ان این جی اوز کے فنڈز کا بڑا حصہ غیر ضروری انتظامی اخراجات، مہنگے سیمینارز، ورکشاپس، ہوٹلوں میں منعقدہ آگاہی سیشنز، رپورٹ سازی اور غیر ملکی و مقامی کنسلٹنٹس کی فیسوں پر خرچ ہو جاتا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر، شجرکاری، پانی کے عملی منصوبے اور مقامی لوگوں کی معاشی بحالی جیسے کام ثانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

اس ضمن میں اگر ہم ضلع غذر میں گلاف ایونٹ سے متاثرہ علاقوں تالی داس، راوشن اور ہاکس کی مثال لے سکتے ہیں جہاں بے گھر خاندانوں کی بحالی کے لئے مذکورہ این جی اوز کی جانب سے ثانوی نوعیت کے کام ہوئے۔

جبکہ بے گھر خاندانوں کے لئے گھر ایک نجی بینک، یونیورسٹی آف لاہور کے طلباء اور اساتذہ کی جانب سے ایک منصوبے کے ذریعے انتہائی قلیل مدت میں تعمیر کر کے دیئے گئے۔

اس کا مطلب گلگت بلتستان جیسے پہاڑی خطے میں موسمیاتی تغیر پزیری سے براہ راست متاثر ہونے والی کمیونٹیز کو 30 ارب روپے میں یا تو انتہائی محدود وسائل ٹینٹ،راشن،کمبل اور آگاہی سیشنز ہی مل سکے جبکہ ان کی اصل ضرورت (گھر تعمیر کر کے دینا) طلباء اور اساتذہ کے ایک گروپ نے پوری کر دی۔

گلگت بلتستان میں نہ تو کوئی سرکاری افسر ہے نہ ہی کوئی حکومتی عہدیدار جو ان این جی اوز سے یہ سوال کر سکے کہ 30 ارب روپے کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟

Mountains, rivers, and natural resources of Gilgit-Baltistan showcasing why it is called the “Golden Bird” of Pakistan
گلگت بلتستان کے پہاڑ، دریا اور قدرتی وسائل جو اسے پاکستان کی سونے کی چڑیا بناتے ہیں

اس حوالے سے گلگت بلتستان کے سینئر صحافی منظر حسن شگری نے فروزاں ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں حکومت یا این جی اوز کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے خطیر فنڈز خرچ کیے جاتے ہیں اور منصوبے بھی تشکیل دیے جاتے ہیں مگر ان کی پائیداری کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔

ان کے مطابق کئی غیر سرکاری تنظیمیں اربوں روپے کی لاگت سے بنجر زمینوں پر سوشل فارسٹری کے منصوبے شروع کرتی ہیں لیکن ان درختوں کے لیے پانی فراہم کرنے والی نہریں یا پائپ لائنز موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی قدرتی آفات میں ایک دو سال کے اندر تباہ ہو جاتی ہیں۔

منظر شگری کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے نہ تو مقامی کمیونٹی کے پاس وسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی منصوبے میں بعد ازاں دیکھ بھال کو شامل کیا جاتا ہے۔

اسی طرح دریا یا ندی نالوں کے قریب سوشل فارسٹری کے تحفظ کے لیے بنائے گئے حفاظتی پشتے بھی سیلاب کی زد میں آ کر ناکارہ ہو جاتے ہیں مگر ان کی بحالی کے لیے ان اداروں کے پاس کوئی موثر حکمت عملی موجود نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نام پر گلگت بلتستان آنے والے فنڈز عملی فائدے کے بجائے ضائع ہو رہے ہیں۔

منظر شگری کہتے ہیں کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ این جی اوز کے لئے گلگت بلتستان سونے کی چڑیا بن چکا ہے اور اس خطے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں مافیا کا روپ دھار چکی ہیں تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نام پر بین الاقوامی اداروں سے فنڈز حاصل کئے جا سکیں۔

بد قسمتی سے ان این جی اوز کا اصل مقصد ماحولیاتی تحفظ کے بجائے فنڈز کا حصول بن چکا ہے۔

ماہر ماحولیات سید زاہد حسین شاہ کے مطابق گلگت بلتستان میں کام کرنے والی این جی اوز سے متعلق عوام اور شعور رکھنے والے طبقے کے خدشات بجا ہیں۔

اگرچہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے مگر گلگت بلتستان کا نازک گلیشیائی ماحول تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔

گلیشئرز کے غیر معمولی پگھلاؤ، جھیلوں کے بننے اور ان کے پھٹنے سے تباہ کن سیلاب بے وقت بارشیں اور کم برف باری نے خطے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے جس کی مثال گلگت شہر سے متصل دنیور نالے اور تالی داس گوپس میں گزشتہ برس آنے والے سیلاب جیسے واقعات ہیں۔

سید زاہد حسین شاہ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تغیر پزیری کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں کی جانب سے اربوں روپے کی فنڈنگ کے باوجود زمینی سطح پر کوئی واضح اور پائیدار بہتری نظر نہیں آتی۔

مقامی سطح پر جنگلات جیسے قدرتی وسائل کی بے دریغ کٹائی، مائننگ اور بلاسٹنگ نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ بحالی کے نام پر ملنے والے فنڈز زیادہ تر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے دفتری اخراجات، افرادی قوت کی تنخواہوں، مراعات اور آگاہی کے نام پر منعقدہ سیمینارز اور ورکشاپس کے ساتھ ساتھ غیر موثر منصوبوں کی نذر ہو رہے ہیں۔

نتیجتاً موسمیاتی تبدیلی کے نام پر کام کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری اداروں پر سے عوام کا اعتماد مجروح چکا ہے۔

اس تناظر میں ضروری ہے کہ ان اداروں کا شفاف آڈٹ کیا جائے اور فنڈز کے حقیقی اثرات کا جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے تجویز دی کہ عالمی اداروں سے ملنے والی فنڈنگ این جی اوز کے بجائے مقامی کمیونٹی آرگنائزیشنز کو منتقل کی جائے تاکہ اخراجات کم ہوں اور نتائج موثر و پائیدار ثابت ہوں۔

گلگت بلتستان میں عام آدمی بھی این جی اوز کو فنڈز بٹورنے اور عوام کو غیر ضروری امور میں الجھائے رکھنے کا ذریعہ تصور کرتا ہے ۔

ان کے مطابق اگر یہی اربوں روپے واقعی نچلی سطح پر شفاف انداز میں استعمال کیے جائیں تو نہ صرف موسمیاتی خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کو پائیدار روزگار اور تحفظ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں یہ منصوبے عوام کے بجائے اداروں کی کارکردگی دکھانے اور فنڈز کے استعمال کی فائلیں بھرنے تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔

Mountains, rivers, and natural resources of Gilgit-Baltistan showcasing why it is called the “Golden Bird” of Pakistan
سوال یہ ہے: فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟

فروزاں ڈیجیٹل نے ڈبلیو ڈبلیو ایف گلگت بلتستان کے ہیڈ حیدر رضا کو واٹس اپ پر رابطہ کیا تاہم تا دم تحریر انہوں نے سوال کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔

اسی طرح فروزاں ڈیجیٹل نے آکاہ کے کمیونیکیشن آفیسر طاہر زمان سے بھی واٹس اپ پر رابطہ کیا تاکہ ان کے ادارے کا موقف سامنے آ سکے لیکن انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

اسی طرح اے کے آر ایس پی کے کمیونیکیشن افسر ذوالفقار علی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس پر متعلقہ حکام سے بات کر کے جواب دیں گے،ان کا جواب آنے کی صورت میں ادارہ اسے بھی شائع کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں

اسلام آباد کے جنگلات خطرے میں ہیں

کنراج میں صاف پانی کا بحران

ٹرافی ہنٹنگ سیزن: ہمالیائی آئی بیکس شکار ہوگیا

ادھر گلگت بلتستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ماحولیاتی قوانین کے تحت کسی بھی منصوبے کی پیشگی منظوری لازمی ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل سوال منظوری کا نہیں بلکہ جوابدہی، شفافیت اور اثرات کا ہے۔

Mountains, rivers, and natural resources of Gilgit-Baltistan showcasing why it is called the “Golden Bird” of Pakistan
گلگت بلتستان کے پہاڑ معدنی وسائل سے مالا مال

گلگت بلتستان سونے کی چڑیا ضروری سمجھی جائے مگر اب عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان اربوں روپے کے منصوبوں کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

اور یہ واضح بھی کیا جائے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے براہ راست اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مقامی کمیونٹیز ان فنڈز سے مستفید کیوں نہیں ہو رہی ہیں؟ بصورت دیگر یہ منصوبے بھی ماضی کی طرح کاغذی کامیابیوں کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں