فروزاں ماحولیاتی خبریں

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی سے پاکستانی معیشت خطرے میں

Pakistan economy at risk due to Middle East tensions

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث آئی ایم ایف نے توانائی، ترسیلات زر اور مالیاتی دباؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ یہ خطرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو متاثر کریں گے۔

آئی ایم ایف کے مطابق توانائی اور خوراک کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ہے۔ سخت مالیاتی حالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ عوامل پاکستان کی معیشت پر مزید دباؤ ڈالیں گے۔

ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے ایس ڈی پی آئی میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ 28 فروری سے شروع جنگ نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔

عالمی معاشی اثرات

آئی ایم ایف کے نمائندے ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے ایس ڈی پی آئی میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ 28 فروری سے شروع جنگ نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ عالمی توانائی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں۔ تجارتی راستوں میں رکاوٹیں آئی ہیں۔ مالیاتی حالات مزید سخت ہوئے ہیں۔ خوراک اور کھاد کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میناپ خطے کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس خطے میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں۔ ترقی کی رفتار سست ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے۔ یہ صورتحال مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

پاکستان کیلئے خطرات

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے۔ یہ صورتحال مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے کہا کہ پاکستان کو اہم اقدامات کرنا ہوں گے۔ مالیاتی نظم و ضبط ضروری ہے۔ زرمبادلہ ذخائر مضبوط کرنا ہوں گے۔ معاشی اصلاحات بھی جاری رکھنی ہوں گی۔ کمزور طبقات کیلئے ہدفی ریلیف دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام درست سمت میں ہے۔

اصلاحات پر زور

آئی ایم ایف نمائندے نے طویل مدتی استحکام پر زور دیا۔ انہوں نے کئی اقدامات تجویز کیے۔

سخت مگر محتاط مالیاتی پالیسی اپنانا ہوگی۔ ڈیٹا پر مبنی مانیٹری پالیسی ضروری ہے۔ تجارتی راستوں میں تنوع لانا ہوگا۔ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بڑھانی ہوگی۔ علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی بھی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت بلتستان: گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ، الرٹ جاری

جانوروں کے تحفظ کیلئے اقدامات: وفاقی کمیٹی اجلاس میں پالیسی پر غور

برفانی چیتے کے حملے: گلگت بلتستان میں 65 سے زائد مویشی ہلاک، مقامی افراد پریشان

ایس ڈی پی آئی کا مؤقف

ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کو بہتر تیاری کی ضرورت ہے۔ بیرونی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر زور دیا۔ خاص طور پر کیپیسٹی پیمنٹس کے مسئلے کو حل کرنے کی بات کی۔ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اگلی قسط مشروط ہوگی۔ یہ قسط ایگزیکٹو بورڈ کے جائزے کے بعد ملے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں